مناسك الحج

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ علی محمدو آلہ الطتبین الطاھرین ولعنۃ اللہ علی اعدائھم اجمعین

واجبات حج

مسئلہ(۱) حج دین کا ایک اہم رکن ہے زرارہ امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک روایت صحیح نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ،بنی الاسلام علی خمس علی الصلاۃوالزکواۃوالحج والصوم والولایۃ ،یعنی اسلام کی اساس وبنیاد پانچ چیزوں پر ہے نماز ، زکواۃ ، حج،روزہ ،اور ائمہ معصومین ؐکی ولایت ۔
مسئلہ(۲) حج کا وجوب دین کی ضروریات میں سے ہے اگر کوئی حج کے وجوب کے اقرار کے بعد حج کا انکار بغیر کسی شبہہ کے انکارکرے تو وہ کافر ہے اور حج کا ترک کرنا یا اس کو اہمیت نہ دینا بھی کفر ہے ،
مسئلہ(۳ )حج کا بغیر انکار کے انجام نہ دینا یا تاخیر سے بجالانا مستطیع کے لئے بغیر کسی عذر شرعی کے گناہ کبیر ہ ہے جیسا کہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ ایسے شخص کی موت یہودی اور نصرانی کی موت ہوگی ، اگر چہ واجب ہے کہ ظاہر ی طور پر ان کی لاشوں سے اسلامی مظاہرہ کیا جائے ۔
مسئلہ(۴)مستطیع شخص پر زندگی میں ایک بار حج واجب ہے جسے ۔’’ حجۃ السلام ‘‘ کہتے ہیں اگر چہ دوسرے سبب سے حج کئی مرتبہ واجب ہوتا ہے (مثلاً نذر ،عہد ، قسم اور باطل حج وغیرہ )اور واجب حج کے علاوہ تمام حج مستحب ہوگا۔
مسئلہ(۵) مستطیع شخص پر زندگی ’’استطاعت ‘‘ کے فوراً بعد حج واجب ہوتا جاتا ہے یعنی مستطیع ہونے کے پہلے ہی سال حج کا بجالانا واجب ہے ،لیکن اگر پہلے سال عمداً یہ کسی عذر کی وجہ سے حج نہ کر سکے تو دوسرے سال حج بجالائے ۔اور اگر عمداً ترک کردیا ہے تو دوسرے سال فوراً بجالانا واجب ہے ۔
مسئلہ (۶)مستطیع شخص پر واجب ہے پہلی فرصت میں مقدمات سفر حج (چاہے کتنا ہی طولانی ہو ) کو آمادہ کرے اور اگر سفر حج کے لئے بہت زیادہ کاروان (ٹور) ہوں تو جو کاروان معتبر اور مورد اطمنان ہو اس کے ساتھ سفر کرے لیکن اگر تمام کاروان مورد اطمنان ہیں تو ضروری نہیں ہے کہ پہلے ہی کاروان کے ساتھ جائے ، بلکہ بعد والے کاروان کے ساتھ سفر کرنا جائز ہے اور ایسی صورت میں اگر دوسرے کاروان کے ساتھ سفر کیا اور اتفاقً حج کے زمانے تک نہ پہونچ سکا اور پھر دوبارہ مستطیع نہ ہوسکا تو اس نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے اور اس کے ذمہ حج باقی نہیں رہے گا ۔
مسئلہ (۷) اگربعد میں جانے والے کاروان پر اسے ا طمینان نہیں تھا کہ وہ حج میں شریک ہوسکے گا لیکن پھر بھی اسی کاروان کے ہمراہ وہ حج کے لئے گیا اور حج انجام دیا تو اس نے کوئی گناہ نہیں ہے اور اس کا حج بھی صحیح ہے اور اگر حج انجام نہ دے سکا تو اس کے ذمے حج باقی رہے گا اور اسے چاہیئے کہ بعد میں انجام دے ،
’’حجتہ الاسلام کے واجب ہونے کے شرائط‘‘
مسئلہ (۸)چند شرائط کے موجود ہونے کی صورت میں حج واجب ہوجاتا ہے
۱۔بالغ ہونا ، ۔۲۔عاقل ہونا ، ۳۔آزادہونا۔ ۴۔ استطاعت ہونا

بلوغ:۔

مسئلہ (۹)پہلی شرط بالغ ہونا ہے لہذا نابالغ بچیپر (چاہے وہ نزدیک بالغ ہو)حج واجب نہیں ہے
مسئلہ(۱۰)ممیزبچے کا حج کے لئے جانا مستحب ہے اور اس حج کے صحیح ہونے میں ولی (مثلاًباپ) کی اجازت ضروری ہے اگے بالغ ہونے کے علاوہ واجب حج کے تمام شرائط اس میں پائے جائیں تو اس کا حج صحیح ہے لیکن اس کا یہ حج ’’حجۃ السلا م‘‘کے لئے کافی نہ ہوگا،
مسئلہ (۱۱)اگر نابالغ حج کرے اور احرام باندھنے سے پہلے بالغ ہو جائے اور مستطیع بھی تھا تو اس کا حج صحیح ہوگا اور یہ حجۃ الاسلام کے لئے ہوگا ،
مسئلہ(۱۲)اگر کسی نے نا بالغ ہونے کا گمان کرکے مستحبی حج انجام دیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ بالغ تھا تو اس کا حج صحیح ہے اور حجۃ الاسلام کے لئے کافی ہے،لیکن اگر حج کو مستحبی سمجھ کر انجام دیا اس طرح سے کہ اگر معلوم ہوتا کہ واجب ہے تو انجام نہیں دیتا اس طرح کا فرض بہت کم دیکھا گیا ہے ۔
مسئلہ (۱۳) مستحب ہے کہ غیر ممیز (چاہے لڑکا ہو یا لڑکی ) بچہ کو اس کا ولی احرام بندھوائے یعنی اسے احرام کے کپڑے (یعنی عام کپڑے اتارنے کے بعد پہنانے اور اس تلبیہ یعنی لبیک کہلوائے چاہے تلقین ہی کے ذریعے اگر قابل تلقین ہو (یعنی جو کچھ ولی کہے بچہ اسکو دہرائے ) اور اگرتلقین کے قابل نہ ہو تو ولی اس کے بدلے خود ہی لبیک کہے گا ، اور ولی کو چاہیے کہ جو کچھ محرم پر حرام ہیں اس سے اسکو روکے اور جتنا بھی اعمال حج بجا لانے کی قدرت رکھتا ہو اس سے انجام دلوائے اور اگر بچہ خود نہ بجالاسکے تو ولی بچہ کی نیابت میں بجالائے اور اس کو خانہ کعبہ کا طواف کرائے اور صفا و مروہ کے درمیان کرائے اور عرفات اور مشعر میں اسے ٹھہرائے اور رمی خمیرات خود اپنے ہاتھوں سیت انجام دے اور اسی طرح نماز طواف ،بال منڈوانا اور بقیہ اعمال حج کو اس سے انجام دلوئے ۔
مسئلہ(۱۴) بچے کے حج کا خچ (اگر چہ وطن کے خرچ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو )خود بچے کے مال سے ہونا چاہیے مگریہ کہ غربت اور فقیری کا سبب ہو تو جائز نہیں ہے ۔
مسئلہ(۱۵)قربانی کا جانور بطے کے پیسے سے خریدے اور اگر بچے کے پاس پیسہ نہ ہو تو ولی کو چاہیے کہ اس کی طرف سے اپنے پیسے سے قربانی کرائے ۔
مسئلہ (۱۶)اگر بچے نے حالت احرام میں شکار کرلیا تو اس کا کفارہ ولی کے مال سے دیا جائے گا اگر ولی باپ ہو لیکن اگر ولی باہ نہ ہو تو خود بچے کے مال سے اداکیا جائے گا اور اسی طرح دوسرے تمام کفاروں کو (شکار کے کفارہ کے علاوہ ) بچے کے مال سے اداکیا جائے گا چاہے ولی باپ ہو چاہے باپ نہ ہو ۔
مسئلہ(۱۷) اس صورت میں جب کفارہ بچہ کے مال سے دیا جائے تو اگر ولی نے کفارہ کو اس کے مال سے اداکردیا تو اس نے اپناوظیفہ انجام دیا ہے لیکن اگر ولی نے ادانہ ہو تو بچہ کے ذمہ باقی ہے اسے چاہیے کہ بالغ ہونے کے بعد اداکرے ،

عقل:۔

مسئلہ (۱۸)حج واجب ہونے کے دوسری شرط عقل ہے لہذا دیوانہ پر چاہے ادواری ہی کیوں نہ ہو (یعنی کبھی دیوانہ کبھی اچھاہو )حج واجب نہیں ہے ہاں اگر وہ مستطیع تھا اور تمام ارکان حج کو عاقل ہونے کی صورت میں انجام دے سکے تو اس پر حج واجب ہے اور بے ہوش) انسان دیوانے کے حکم میں ہے ۔

آزادی :۔

مسئلہ(۱۹) حج واجب ہونے کی تیسری شرط آزادی ہے لہذا غلاموں (غلام اور کنیز زمر خرید ) پر حج واجب نہیں ہے اگر چہ وہ مستطیع بھی ہوں اور ان کے مولانے اجازت بھی کیا ہو البتہ مولا کیی اجازت سے مستحبی انجام دے سکتا ہے اور اس کا حج صحیح ہوگا لیکن حجۃالسلام کو انجام سے ۔

استطاعت:۔

مسئلہ (۲۰) حج کے واجب ہونے کی چوتھی شرط استطاعت ہے اور اس میں پانچ چیزوں کا ہونا ضروری ہے (۱)جسمانی صحت اور طاقت (۲) راستہ کا کھلاہونا راستہ کا آزاد ہونا (۳) وقت میں وسعت اور اس کا کافی ہونا (۴) سفر کے ضروریات کے لئے زاد راہ اور سواری کا ہونا (۵)اور آمد و رفت کے آخراجات کے علاوہ ضروریات زندگی گذار سکتا ہو ۔
۱۔جمانی قدرت و طاقت :۔
مسئلہ (۲۱)سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ انسان کا جسم اعمال حج بجالانے کی قدرت رکھتا ہو لہذا اگر کوئی شخص بیماری یا ضعیفی یا بدن کے کسی حصے کے کم ہونے کی وجہ سے یا اسی کے مانند دوسری چیزوں کی وجہ سے اعمال حج کو انجام نہ دے سکے تو اس پر حج واجب نہیں ہے لیکن اگرمستطیع ہونے کے تمام شرائط اس کے اندر موجود ہوں اور فقط جسمانی قدرت و طاقت نہ رکھتا ہو تو اس پر واجب ہے کہ اپنی طرف سے کسی کو نائب بنائے تا کہ وہ اعمال حج انجام دے ۔
۲۔راستے میں رکاوٹ کا نہ ہونا:۔
مسئلہ(۲۲)دوسری چیز یہ ہے کہ راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو یعنی حکومت کی طرف سے منع نہ ہو ، جان کا خطرہ نہ ہو ، مال و ناموس کی راستے یا وہاں قیام کی صورت میں عزت و آبرو خطرے میں نہ ہو یا کوئی شرعی ممانعت نہ ہو (یعنی واجب کا ترک کرنا حج سے زیادہ اہم ہو جیسے جہاد عینی کا واجب ہونا ، یا ایسی گناہ کا انجام دینا جس کا فساد مصلحت حج سے شرعی طور پر زیادہ ہو ) لہذا اگر اپنے شہر میں بہت زیادہ مال رکھتا ہو اور حج پر جانے کی صورت میں وہ تمام مال ضائع ہوجائے گا تو اس پر حج واجب نہ ہوگا۔
۳۔وقت میں وسعت ہونا :۔
مسئلہ(۲۳)تیسری چیز یہ ہے کہ وقت زیادہ ہو یعنی مکہ معظمہ آنے جانے میں اور اعمال کے واجبات کو بجالانے میں وقت زیادہ ہو لہذا اگر مال اس وقت حاصل ہوا کہ مکہ معظمہ پہونچنے اور اعمال حج کے بجالانے بھر وقت نہ ہو یا وقت ہے لیکن اتنی زیادہ پریشانی اور مشقت ہو جس کا برداشت کرنا ممکن نہ ہو تو حج واجب نہیں ہوگا۔
۴۔ضروریات سفر کے لئے زادراہ کا ہونا:۔
مسئلہ (۲۴) چوتھی چیز زادراہ اور سواری کا ہونا ہے
زاد:یعنی روزانہ کی ضرویات زندگی ، اور وہ چیز یں جن کی گذربسر کے لئے ضرورت ہوتی ہے بھی رکھتا ہو ۔مثلاًکھانا پینا ،رہنے کے لئے گھر گھر کا سامان سواری وغیرہ یا نقد رقم کہ ضرورت کے وقت ان چیزوں کو مہیا کرسکے ۔
راحلہ:یعنی آمد و رفت کے لئے کسی چیز کا ہونا اگر چہ آج کے دور میں ہوائی جہاز کا کرایہ ، یا کوئی گاڑی یا کشتی وغیرہ ہو ،
مسئلہ(۲۵)ضروری ہے کہ زاد و راحلہ مناسب اور اس شخص کے معیار کے مطابق ہو گر چہ اس کی (راستہ )مقدار کم ہو چنانچہ اگر کسی کے لئے بغیر زحمت و پریشانی اور نقصان کے پیدل جانا ممکن ہو تو سواری کا ہونا لازم نہیں ہے ۔
مسئلہ (۲۶) زاد و راحلہ میں میزان و معیار موجودہ حالت ہے اور اگر کوئی زاد و راحلہ کو راستے میں کام کرکے زاد و راحلہ آمادہ کرے تو اس پر حج واجب نہیں ہے ۔
مسئلہ (۲۷) وہ استطاعت جو حج میں معتبر ہے وہ استطاعت فعلی مکلف مراد ہے یعنی جہاں پروہ ہے نہ اس کا وطن مراد ہے لہذا اگر کوئی کوئی شخص تجارت یا کسی اور کام سے مدینہ منور ہ یا جدہ گیا ہو اور وہ حج کا زمانہ ہو اور وہاں سے حج کا خرچ رکھتا ہو (اگر چہ اس مال میں اپنے وطن سے مستطیع نہ ہو ) تو اس پر حج واجب ہے اگر بقیہ تمام شرائط پائے جائیں ۔
مسئلہ (۲۸) اگر مستطیع شخص نقد رقم نہ رکھتا ہو اور اس کے پاس کوئی ماکیت ہو تو اسے بیچ دے اگر چہ خریدار نہ ہونے کی وجہ سے معمول سے کم قیمت ہو بیچنا پڑے اور اس میں کوئی نقصان نہ تو واجب ہے کہ اسے بیچ کے حج کے لئے جانتے لیکن اگر اس طرح بیچنا اس کے لئے مشدقت کا باعث ہو تو حج واجب نہیں ہے ۔
مسئلہ (۲۹)اگر وقتی طور پر حج کے آخراجات زیادہ ہوجائیں (مثلاًکرایہ وغیرہ اس سال کے لئے بڑھایا گیا ہے اور آئندہ سال پھر کم ہو جائے گا) اور مکلف اس خرچ پر قدرت رکھتا ہو ( بغیر کسی پریشانی کے ) تو تاخیر کرنا جائز نہیں ہے اور اسی حج کرنا ضروری ہے ۔
مسئلہ(۳۰)استطاعت میں مکہ جانے کا پورا خرچ رکھنا شرط ہے لیکن واپسی کا خرچ اس وقت معتبر ہوگا جب مکلف وطن واپس آناچاہتا ہو ۔لیکن اگر اس کے مکہ رہنے میں اور وطن رہنے میں کوئی فرق نہیں ہے اور سختی کا سبب نہیں ہے اور وہ چاہتا ہے کہ مکہ میں زندگی بسر کرے تو استطاعت کی شرط نہیں ہے اور اگر مکہ جانے کا خرچ ہے تو استطاعت صادق آئے گی اور اس پر حج واجب ہوگا اور یہی معیار اس وقت بھی ہوگا جب انسان اپنے وطن کے علاوہ کسی دوسری جگہ واپس جائے ، یعنی اگر وہ چاہتا ہے کہ کسی دوسرے شہر میں زندگی بسر کرے تو وہاں تک پہونچنے کے لئے استطاعت کی شرط ہوگی اور اسی طرح جتنا دن وہ مکہ میں رہے اتنا خرچ رکھنا بھی استطاعت کی شرط ہے
۵۔حج کی استطاعت میں خود کفائی
مسئلہ (۳۱) پانچویں چیز جو استطاعت ہونے کے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ انسان ، خود کفائی کرے یعنی حج سے واپسی کے بعد کجتجارت یا زراعت یا کوئی صنعت یا باغ یا دکان جیسی ملکیت کی اتنی منعفت رکھتا ہو کہ اس اپنا اور اپنے اہل و عیال کا خرچ چلاسکتا ہو اور وی محتاج اور فقیر نہ ہو تو اگر مکلف کے پاس پیسہ ہو جو اس کی زندگی کا سرمایہ ہے ہے اور وہ اسے حج کے سفر مین خرچ کرے تو کسب معاش سے دور ہوجائے گا اور اپنی حیثیت و شان کے مطابق اخراجات حاصل نہیں کرسکے گا تو اس پر حج واجب نہیں ہے ۔
مسئلہ (۳۲) زندگی میں کام آنے والی ضروری چیزوں کا بیچنا یعنی جوچیزیں انسان کے لئے ضروری ہیں لازم نہیں ہے مثلاً گھر اور کپڑے جو اس کی شان و حیثیت اور آبرو کے لئے ضروری ہے اور گھر کے سامان ، اور وہ چیزیں جس کی انسان کو زندگی مین ضرورت پڑتی ہے یہاں تک کہ اہل علم کی وہ کتابیں جو اس کی تعلیم کے لئے ضروری ہیں اور اسی طرح اہم چیزیں (یعنی ان کا بیچنا لازم نہیں ہے )
مسئلہ (۳۳)اگر مذکورہ تمام چیزیں ضرورتاور حاجت سے زیادہ ہوں اور حج کا پورا خرچ نکل آئے تو ان چیزوں کا صرف حج کے لئے بینچنا واجب ہے مثلاً اگر کسی کے پاس دو گھر ہو اور ایک گھر ٖضرورت زندگی سے زیادہ ہے تو اس پر واجب ہے کہ ایک گھر کو بیچ کر حج بجالائے ۔
مسئلہ (۳۴) اگر انسان کی زندگی میں کسی چیز کی حاجت زیادہ نہ مثلاً سونا اور ہیرے جو اہرات کے زیور ، اس عورت کے لئے جو جبتک جوان تھی اس استعمال کرتی تھی اور جب بوڑھی ہوگئی ہے تواس کو استعمال نہیں کرتی اور خود کو نہیں سنوارتی ہے اور اس کی شان و حیثیت کے برابر نہ ہو اور اگر اسے بیچ دے تو حج کا سارا خرچ حاصل ہوجاتے تو اس پر واجب ہے کہ اسے بیچ کر حج بجالائے ۔
مسئلہ (۳۵)اگر انسان کے پاس اپنا ذاتی گھر ہو اور کسی دوسرے کا مکان بھی اس کے اختیار میں ہو کہ بغیر کسی زحمت و پریشانی کے اس میں زندگی بسر کرسکتا ہے مذلاً وہ گھر جو وقف کا ہے اور اسی کے لئے ہے تو اپنے ذاتی گھر کو بیچ کر حج پر جانا واجب نہیں ہے (اور حج کا خرچ حاصل کرے ) لیکن اگر وقف کے مکان میں رہتا ہے اور لوگوں کی نگاہ میں اس کاذاتی گھر اس کی ضرورت سے زیادہ ہو تو یہی حکم تمام ذاتی اور غیر ذاتی چیزوں میں بھی جاری ہوگا مثلاً اگر کوئی اہل علم اپنی ذاتی کتابیں رکھتا ہو اور وقف کی ہوئی کتابیں بھی اس کے اختیار میں ہوں ۔
مسئلہ (۳۶)اگر کسی کے پاس اتنی رقم موجود ہو جس سے وہ حج کرسکتا ہے لیکن اس نے شادی نہیں کیا ہے یا رہنے کے لئے گھر اور تمام لوازمات زندگی نہیں رکھتا تو سب سے پہلے اس پر واجب ہے مگر یہ کہ شادی نہ کرنا یا گھر کے وسائل کا نہ خریدنا اس کے لئے بہت زیادہ مشقت اور سختی کا باعث ہو کہ عموماًاس کا تحمل کرنا مشکل ہو تو ایسی صدورت میں حج واجب نہیں ہے ۔
مسئلہ (۳۷)جس شخص کا دوسرے پر قرضہ ہو اور اس میں حج کے تمام دوسرے شرائط موجود ہوں تو اگر قرض دار سے قرضہ مانگنے کا وقت آگیا ہو اور قرض دار اچھا انسان ہے اور اگر وہ مطالبہ کرے تو فوراً اداکردے تو واجب ہے کہ وہ مطالبہ کرے اور حج کرنے جائے ۔
مسئلہ (۳۹) اگر قرض لینے والا قرض سے انکار کرے تو واجب ہے کہ عدالت میں مقدمہ پیش کرے (چاہے عدالت غیر شرعی ہو )اور اس سے اپنا حق طلب کرے اور حج کا فریضہ انجام دے ۔
مسئلہ(۴۰)اگر قرض اداکرنے کی مدت معین ہے اور ابھی مدت ختم نہیں ہوئی ہے لیکن قرض دار حج پر جانے کی وجہ سے قرضہ اداکرے تو اس بناء پر مطالبہ واجب ہے اور حج کا ادا کرنا بھی واجب ہے لیکن اگر قرضدار فقیر و بد حساب ہے اور دوسروں کے ذریعہ اس کو مجبعر کرنا ممکن نہ ہو یا مطالبہ کا وقت ابھی باقی ہے اور قرض دار وقت سے پہلے اداکرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا یا اصلاً قرض ہی کا انکار کردے اور عدالت سے ثابت کرانے میں بہت مشکلات ہوں تو ان تما م صورتوں میں حج واجب نہیں ہے ۔
مسئلہ (۴۱) اگر کوئی اپنے تمام سرمایہ کو حج میں خرچ کردے اور فقیر ہوجائے تو اس پر حج واجب نہیں ہے یہاں تک کہ اگر فقراء کے لئے موقوف ہوں اور وہ اپنی زندگی گذار سکتا ہو۔
مسئلہ (۴۲)مستطیع شخص پر لازم نہیں ہے کہ خود اپنے پیسے سے حج کرے بلکہ جب بھی دوسروں کا پیسہ یا بھیک مانگ کر ، یا اسی طرح دوسری چیزوں سے پیسہ حاصل کرے حج پر جائے تو جاس نے واجب کو اداکردیا ہے اگر کسی کے حرام مال سے حج بجالائے اور احرام کا لباس ،طواف کا لباس اور سعی کا لباس حلال مال سے ہو تو اس کا حج صحیح ہے اگر چہ اس نے حرام مال خرچ کرکے گناہ کیا ہے لیکن اگر ان کپڑوں میں سے کوئی ایک بھی کپڑا حرام ہو تو گناہ کے ساتھ ساتھ اس کا حج بھی باطل ہے۔

استطاعت کے احکام

مسئلہ (۴۳ )کام کاج یا اس کے علاوہ کسی چیز کے ذردسیعے استطاعت حاصل کرنا واجب نہیں ہے لہذا اگر کوئی شخص کسی انسان کو کچھ مال تحفہ دے جو حج کے خرچ کے برابر ہو تو اس کا قبول کرنا لازم نہیں ہے ۔
مسئلہ (۴۴) اگر کوئی شخص کسی کو اپنی خدمت کے لئے اجیر کرے کہ وہ اجرت کیا وجہ سے مستطیع ہوجائے تو اس کا قبول کرنا واجب نہیں ہے چاہے خدمت اس کے شایان شان ہی کیوں نہ ہو ۔
مسئلہ (۴۵)اگر کوئی شخص حج کے راستے میں خدمت کے لئے اتنی اجرت پر جس سے حج کا پورا خرچ نکل آئے خود کو اجیر کرے اور اس اجرت کی وجہ سوے مستطیع ہوگیا اوروہ تمام ارکان حج میں (بلکہ عرجات ،مشعر اور منیٰ میں ) حاجیوں کے ساتھ تھا اور کوئی بھی ایسی چیز انجام نہ دی جو حج کے منافی ہو تو اسی سال اس پر حج واجب ہے ۔
مسئلہ (۴۶)اگرکوئی حج کے لئے اجیر ہو اور اس کا کام اعمال حج کے منافی ہو مثلاًاجیر اس لئے ہو ا تھا کہ قافلء والوں کے سامان کی عرفات و مشعر میں ٹھہر نے کے وقت وہ مکہ معظمہ میں رہکر حفاظت کرے گا جو کہ اعمال سے منافات رکھتا ہے لہذا وہ اس سال مستطیع نہیں ہوگااور اس ہر حج واجب نہیں ہے اور ضروری نہیں ہے کہ اس رقم کو آئندہ سال تک محفوظ رکھے۔
مسئلہ( ۴۷)اگر کوئی شخص نیابتی حج کے لئے اجیر مقررہوا ہو اور اس اجرت کی وجہ سے خود اجیر بھی مستطیع ہوجائے (مثلاًحج کا خرچ ایک لاکھ تومان (روپیہ) ہے اور اجرت کی رقم ۲/ لاکھ تومان (یاروپیہ )ہے ) یعنی اتنی رقم میں دو حج نیابتی دوسرے سال بجالاسکتا ہے تو ضروری ہے کہ اس سال نیابتی حج بجالائے اور بقیہ رقم کے لئے ضروری نہیں ہے کہ اس کی حفاظت کرے تاکہ آئندہ اپنا حج انجام دے اور اگر وہ اجازت دے تو واجب ہے کہ اس سال خود اپنا حج بجالائے اور دوسرے سال نیابتی حج انجام دے ۔
مسئلہ(۴۸)اگر انسان حج کا خرچ نہیں رکھتا ہو لیکن قرض لیکر حج کے اخراجات حاصل کرے اور قدرت رکھتاہے کہ حج کی واپسی پر تجارت وغیرہ کرکے اداکردے گا تو اس پرقرض لینا واجب نہیں ہے اور اس پر حج بھی واجب نہیں ہے بلکہ اگر اس حج کے اخراجات کی مقدار میں قرض لیا جب شرعی طور پر استطاعت نہیں ہوگی اور اس پر حج بھی نہیں ہوگا ۔
مسئلہ(۴۹) اگر انسان کے پاس حج کا خرچ موجود ہو مگر وہ قرضدار ہے کہ اگر حج کرنے جائے تو اپنا قرض ادانہیں کرپائے گا تو اس پر حج واجب نہیں ہے چاہے قرض کی مدت طولانی ہو یا نہ ہو چاہے قرض سے پہلے یہ رقم حاصل ہوئی ہو یا بعد میں حاصل ہوئی ہو ۔ لیکن اگر قرض کو اپنے معین وقت پر اداکرنے کی قدرت رکھتا ہو تو اقویٰ یہ ہے اس پر حج واجب ہے ۔
مسئلہ(۵۰)اگر حج کے اخراجات کی رقم رکھتا ہو لیکن حقوق شرعی ادانہ کیا ہو (مثلاًخمس ،زکواۃ، مال کا کفارہ وغیرہ )اور اس رقم کو حج کے لئے خرچ کردے تو ان حقوق کو ادانہیں کرپائے گا اور اگر حقوق شرعی کو اداکرے تو حج کے خرچ میں کمی آجائے گی ، تو اس صورت میں حج واجب نہیں بلکہ لازم ہے کہ حقوق شرعیہ کو اداکرے ۔
مسئلہ (۵۱)اگر انسان کے پاس کچھمیں مال ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ یہ مال حج کے لئے کافی ہے یا نہیں ،اس لئے اسے علم نہیں ہے کہ حج کے اخراجات کتنے ہیں یا حج کے اخراجات کتنے ہیں یا حج کے اخراجات کا علم ہے مگر کی مقدار معلوم نہیں ہے تو واجب ہے کہ تحقیق کرے ۔
مسئلہ (۵۲) اگر رقم ہو مگر اس کے پاس موجود نہ ہو (دوسری جگہ پر ہو)اور اس کے علاوہ پیسہ نہ ہو اور ممکن نہ ہو اس مال (چاہے وکالت یا کسی اور ذریعے سے یا وہ بغیر کسی زیادہ نقصان کے ) میں تصرف کرے تو اس پر حج واجب نہیں ہوگا اور جب بھی اس کے لئے ممکن ہوجائے تو اس پر حج واجب ہوجائے گا۔
مسئلہ(۵۳) جب بھی انسان مالی اعتبار سے مستطیع ہوجائے لیکن حج کا زمانہ نہ ہو تواس پر لازم نہیں ہے کہ اس مال کو حج کے لئے محفوظ رکھے لہذا جائز ہے کہ اس مال کو اس طرح خرچ کرے (دوسروں کو دیدے )کہ استطاعت ختم ہوجائے مگر یہ اس وقت ہوگا جب قافلہ حج کی طرف جارہے ہوں ۔
مسئلہ(۵۴) جس طریقے سے حج پر جانے کے لئے زاد و راحلہ (سواراور اخراجات )کا ہونا لازم ہے واپسی بھی (اگر واپس آنا چاہتا ہے ) اور جتنے دن مکہ معظمہ میں قیام کرے گا توتمام چیزوں کا خرچ ہونا ضروری ہے لہذا اگر حج کے اخراجات چاہے سفر سے پہلے یا سفر کے آخر تک مال تمام ہوجائے تو ظاہر ہے کہ وہ استطاعت نہیں رکھتا اور اس پر حج واجب نہیں تھا ۔
مسئلہ (۵۵)اگر انسان کے پاس حج کے آخراجات کی مقدار میں پیسہ ہو اور اسے اس بات علم نہیں تھا یا واجب سے غافل تھااورجس وقت وہ ان دو چیزوں پر متوجہ ہوا پیسہ ختم ہوگیا تھا تو ایسی صورت میں اس پر کحج واجت نہیں ہے لیکن شرط یہ کہ وہ غفلت کیہ صورت میں مقصر نہ رہا ہو ۔
مسئلہ (۵۶ )کافر جوکہ مستطیع ہے اس پر حج اور تمام عبادتیں واجب ہیں لیکن جب تک وہ کفر پر باقی رہے گا صحیح حج انجام نہیں دے سکتا لیکن اگر مسلمان ہوگیا اور استطاعت باقی ہے تو اس پر حج واجب ہے اور اس کا حج بھی صحیح ہوجائے گا۔
مسئلہ(۵۷)اگر اسلام قبول کرنے سے پہلے ہی کافر کی استطاوت کختم ہوگئی اور پھر وہ مسلمان ہوا تو اس پر حج واجب نہیں ہے لیکن اگر کفر کی حالت میں مستطیع نہیں تھا اور مسلمان ہونے کے بعد وہ مستطیع ہوگیا تو اس پر حج واجب ہے ۔
مسئلہ (۵۸) مرتد پر (یعنی جو شخص مسلمان تھا مگر اسلام سے دور ہوگیا )چاہے و مرتد ملی ہو یا مرتد فطری ہو حج واجب ہے لیکن جب تک وہ مرتدکے زمرے میں ہے اس کا حج صحیح نہیں لہذا اقویٰ یہ ہے کہ جب بھی اس نے تو یہ کیا اور حج کے فریضے کو انجام دیا تو اس کا حج صحیح ہے چاہے وہ مرتد فطری ہی کیوں نہ ہو ۔
مسئلہ(۵۹) اگر کسی غیر شیعہ نے حج کے فرائض کو انجام دیا اور اس کے بعد وہ شیعہ ہو گیا تو اگر اس کے اندر دو صورتیں پائی جاتیں تو دوبارہ حج نہیں کرے گا ۔
۱۔ اگر اس نے اپنے مذہب کے مطابق حج کو صحیح انجام دیا ہے اگر چہ وہ شیعوں کے اعتبار سے صحیح نہ ہو ،
۲۔اگر حج شیعوں کے مطابق حج ہو اور خود اس کے مذہب کے اعتبار سے باطل ہو لیکن اگر اس کے مذہب اور شیعہ نظر یہ کے مطابق باطل ہو تو لازم ہے کہ دوبارہ حج بجالائے ۔
مسئلہ(۶۰) اگر کسی پر حج واجب تھا اور اس نے کوتاہی کی اور استطوعت ختم ہوگئی تو اس پر واجب ہے کہ جس طرح سے بھی ہو حج کو انجام دے چاہے بہت زیادہ سخت ہی کیوں نہ ہو (جس کا تحمل کرنا حرام نہ ہو) لیکن اگر حج کرنے سے پہلے مرجائے تو اس کے ورثا ء کو کاس کے ترکہ سے حج کرانا چاہیے لیکن اگر کسی نے بغیر افرت کے اس کے بدلے میں حج انجام دیا تو صحیح اور کفایت کرے گا ۔

حج کی نیابت

مسئلہ (۶۱) جس طرح سے انسان اپنے مال کی وجہ سے مستطیع ہوتا ہے اور اس پر حج واجب ہوتا ہے اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کو حج کے تمام آخراجات اداکرے تو اس پر حج واجب ہوجئے گا چاہے باذل (یعنی مال دینے والا ) ایک شخص ہو یا چند افراد ہوں ، چاہے اصل زاد و راحلہ دے جیا اس کی قیمت دے چاہے وہ کاروان کے انچار ج سے یہ کہے کہ اسے میرے خرچ پر حج کے لئے لے جاؤ یا کسی اور طریقے سے حج کرائے۔
مسئلہ(۶۲) اگر کوئی شخص (مثلاًعلی ) حج کے خرچ کے متعلق و صیت کرے یا وقف کرے یا نذر کرے تا کہ دوسرے شخص (مثلاً حسن ) کو دیدیں تا کیہ وہ حج کرے تو جب بھی مال اسکے پاس پہونچے حج اس پر (حسن) واجب ہوجائے گا جس طرح سے قبول کرنا واجب تھا ، لیکن اگر اس نے یہ شرط نہ رکھی ہو کہ اس مال سے حج کرے تو قبول کرنا واجب نہیں ہے اور اگر قبول نہیں کیا توحج بھی واجب نہیں ہوگا۔
مسئلہ (۶۳)( خود کفائی (جس کے معنی ہم پانچویں امر میں بیان کرچکے ہیں ) اگر حج کے انجام دینے کی وجہ سے اس کی زندگی سے اس کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا تو حج نیابتی میں خود کفائی کی شرط نہیں ہے اور حج واجب ہوجائے گا اگر چہ واپسی کے ذریعہ معاش نہ ہو لیکن اگر حج کی بجاآوری سے اس کے بعد کی زندگی پر اثر پڑے مثلاً جو اس کا پورا سالانہ خرچ ہے وہ صرف حج کے خرچ کے برابر ہے اور حج انجام دینے کی وجہ سے وہ اس سے دور ہوگیا اور اسکے سالانہ خرچ میں کمی آگئی تو ایسی صورت میں حج بذلی میں بھی ،خود کفائی ، کی شرط ہے ۔
مسئلہ (۶۴) اگر انسان کسی شخص کو حج کے خرچ جتنا مال ہدیہ کرے اور حج وغیرہ کا تذکرہ نہ کرے تو اس ھبہ کا قبول کرنا جائز نہیں ہے اور حج واجب نہیں ہوگا لیکن اگر نے خود اسے قبول کرلیا تو وہ مستطیع ہوجائے گا اور اور اس پر حج واجب ہوجائے گا لیکن اگر اس نے مال دیتے ہوئے یہ شرط لگائی کہ وہ حج کرے یا یہ کہے کہ تمہیں اختیار ہے چاہے حج کرو نہ کرو ، تو ایسی صورت میں ھبہ کا قبول کرنا جائز ہے اور وہ مستطیع ہوجائے گا اور اس پر حج واجب ہے (مگر منت اور نقصان اس میں ہے )
مسئلہ (۶۵) اگر انسان کسی کے مال کی وجہ سے مستطیع ہوا اور مقروض بھی ہے اور حج پر جانے کی وجہ سے قرض کی ادائیگی میں تاخیر ہو تو حج واجب نہیں ہے چاہے قرض کی مدت زیادہ ہو یا نہ ہو چاہے قرض دینے والا مطالبہ کرے یا نہ کرے لیکن اگر حج عمر کے آخر تک قرض کی ادائیگی میں مانع نہیں ہے لیکن اس کے اداکرنے میں تاخیر ہو اور قرض دینے والا مطالبہ کررہا ہو چاہے قرض کی مدت زیادہ ہو یا نہ حج واجب نہیں ہے لیکن اگر حج قرضے کی ادائیگی میں تاخیر کا سبب نہ ہو یا قرض دینے والا تاخیر پر راضی ہو جائے تو حج واجب ہوجائے گا ۔
مسئلہ (۶۶) اگر کوئی اپنامال ایک جماعت کے حوالے کرے کہ ان میں سے کوئی ایک حج کے لئے جائے لہذا ایک شخص نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مال کو اپنے قبضے میں کرلیا تو بقیہ دوسرے لوگوں سے ذمہ داری ختم ہوگئی بلکہ فقط جس نے ذمہ داری لی ہے وہ مسؤل ہوگا ، اور اگر کسی نے بھی ذمہ داری نہیں لی اور مال بھی نہ لیا جب کہ ہر انسان حج پر جانے کی قدرت رکھتا تھا تو تمام لوگوں پر حج واجب کفائی ہوگا ۔
مسئلہ(۶۷) نیابت کی وجہ سے فقط وہ حج واجب ہے جو مبذول لہ(یعنی جس کی نیابت کررہاہے )پر مستطیع ہونے کی وجہ سے وظیفہ تھا ،اور دوسرا کوئی حج اس پر واجب نہیں لہذااگر مبذول لہ کا وظیفہ حج تمتع تھا یا حج قرآن تھا یا حج افراد ک(کہ جس کے معنی بیان کئے جائیں گے ) تھا تو اس کع نیابت دی جائے یا اس کے بر عکس یعنی جس کا وظیفہ حج قرآن یا افراد تھا ، اگر اس سے حج تمتع کرایا جائے تو اس کا قبول کرنا واجب نہیں ہے ۔
مسئلہ (۶۸) اگر کسی پر حجۃ الاسلام واجب ہے یعنی استطاعت پیدا ہوگئی اور وہ حج بجانہ لایا یہاں تک و نادار و غریب ہوگیا اگر اسے کوئی مال دے تو اسے قبول کرناواجب ہے اور اسی طرح اگر کسی پر نذر و قسم وغیرہ کی وجہ سے حج واجب ہوگیا ہو مگر وہ قدرت نہ رکھتا ہو تو اس پر واجب ہو کہ اسے (بذل ) قبول کرے ۔
مسئلہ (۶۹) اگر کوئی کسی کو پیسہ دے کہ وہ حج انجام دے اور وہ مال راستے میں ضایع ہوجائے تو اس پر حج ساقط ہوجائے گا ، لیکن اگر ممکن ہو کہ اپنے پیسوں سے سفر کا خرچ برداشت کرے اور حج کو بجالائے اس صورت میں جب باقی شرائط بھی اس میں پائے جائیں تو اسے چاہیے کہ اپنا پیسہ خرچ کرے تو اس پر واجب ہوجائے گا اور اس کا یہ حج ’’حجۃ الاسلام ‘‘کے لئے کافی ہوگا،
مسئلہ(۷۰)حج بذلی میں قربانی کے پیسے بخشش کرنے والے کے ذمہ ہوں گے لہذا اگر قربانی کا پیسہ نہیں دیا تو حج واجب نہیں ہے لیکن اگر یہ خود قربانی کا پیسہ اداکرنے کی قدرت رکھتا ہو تو اس صورت میں حج واجب ہوجائے گا ۔
مسئلہ(۷۱) حج بذلی یعنی وہ حج جو انسان دوسرے کے مال سے انجام دیتا ہے وہ حجۃ الاسلام کے لئے کافی ہے اگر قبول کرنے والا خود مستطیع ہوگیا اس پر حج واجب نہیں ہوگا ۔
مسئلہ(۷۲) باذل (یعنی مال عطاکرنے والا ) کے لئے جائز ہے کہ مبذول لہ (قبول کرنے والا) کے احرام پہننے سے پہلے اپنی بات سے پھر جائے تو وہ ضامن ہے کہ مبذول لہ کے آمد و رفت کا خرچ اداکرے لیکن اگر اس نے احرام پہن لیا ہے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ باذل (مال خرچ کرنے والا) اپنی بات سے نہ پھرے ۔
مسئلہ(۷۳) اگر باذل اپنا مال خرچ کرنے سے انکار کردے تو اگر مبذول لہ استطاعت رکھتا ہے تو حج کو انجام دے اور واجب ہے کہ حج کو مکمل کرے اور یہ حجۃ الاسلام ہوگا اور اگر وہ استطاعت نہیں رکھتا ہے تو وجوب حج ساقط ہوجائیگا۔
مسئلہ (۷۴) اگر انسان کو وحج کے لئے مال دیا گیا اور اس نے حج کے فرائض انجام دیئے لیکن بعد میں معلوم ہو کہ وہ مال غصبی تھا تو یہ حج ’’حجۃالاسلام‘‘ کے لئے کافی نہیں ہوگا اور اس مال کے مالک کو حق ہے کہ وہ چاہے دینے والے لے چاہے لینے والے سے اپنا مال حاصل کرے ، لیکن اگر اس نے دینت والے سے لیا تو اس جس کو دیا ہے اس کی طرف رجوع کرسکتا ہے جو کچھ دیا ہے اس کا بدلہ لیلے ، مگر یہ کہ دینے والے کو پہلے سے معلوم رہا ہو کہ یہ مال غصبی ہے ۔
مسئلہ (۷۵) اگر مبذول لہ نے احرام کی حالت میں کوئی ایسا کام دیا جس سے کفارہ واجب ہوجاتا ہے تو کفارہ کی ذمہداری خود اسی پر ہے ۔
مسئلہ (۷۶) وہ شخص جو مستطیع نہیں ہے وہ خود یا کسی دوسرے کے لئے تبرعاً یا اجرت پر حج انجام دیا تو یہ حج اس کے لئے حجۃالاسلام کے لئے کافی نہ ہوگا اور جب بھی وہ مستطیع ہوجائے تو اسے چاہیے کہ حجۃالاسلام اداکرے ۔
مسئلہ(۷۷) اگر کسی کو معلوم ہے کہ وہ مستطیع نہیں ہے لیکن مستحب سمجھ کر حج پر گیا اور حکم الہی کو انجام دیا بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مستطیع تھا تو اس کا حج حجۃ الاسلام کی کفایت کرے گا اور اس پر دوبارہ حج کرنا واجب نہیں ہے لیکن اگر مستحب کی نیت اس طرح تھی کہ اگر وہ جنتا کہ مجھ پر واجب ہے تو انجام نہیں دیتا (لیکن ایسا فرض بہت کم ہے )تو حجۃالاسلام کے لئے کگایت نہیں کرے گا بلکہ جب بھی مستطیع ہوگا اس پر حج واجب ہوجائے گا ۔
مسئلہ(۷۸)اگر عورت مستطیع ہوجائے تو حج کے لئے شوہر کیا اجازت ضروری نہیں ہے اور شوہر کو حق حاصل نہیں کہ وہ حجۃ الاسلام کے لئے مانع ہو ۔
مسئلہ( ۷۹) حج مستحبی میں شوہر کی اجازت ضروری ہے اور شوہر عورت کو مستحبی حج کرنے سے منع کرسکتا ہے اگر سفر حج شوہر کے حق سے منافات رکھتا ہو ۔ اور اسی بناء بر احتیاط منافی نہ ہونے کی صورت میں بھی یہی حکم ہے ۔
مسئلہ(۸۰) اگر عورت طلاق رجعی کے عدہ میں ہو تب بھی یہی حکم ہے کیونکہ شرعاً وہ حکم زوجیت رکھتی ہے ۔
مسئلہ(۸۱) اگر حج واجب میں عورت کے جان و مال و آبرو کا خطرہ نہ ہو تو اس کے ساتھ محرَ م کا ہونا ضروری نہیں ہے لیکن اگر امنیت نہ ہو تو اس صورت محرم کا ساتھ میں ہونا ضروری ہے چاہے اجرت ہی پر کیوں نہ ہو اور اگر عورت اجرت اداکرنے کی استطاعت نہ رکھتی ہو تو اس پر حج واجب نہیں ہے ۔

حج نذری

مسئلہ(۸۲) چوں حج نذری کیلئے بالغ و عاقل کی شرط ہے اور دوسرے وہ تمام شرائط جو کتاب نذر میں بیان ہوئے ہیں ۔
مسئلہ(۸۳) اگر کوئی شخص یہ نزر کرے کہ (مثلاً) میں ہر سال عرفے کی دن کربلائے معلیٰ میں حضرت امام حسینؑ کی زیارت کرونگا ، لیکن نذر کے بعد مستطیع ہوجائے تو اس کی نذر ختم ہوجائے کی اور اس پر حج واجب ہوجائے گا اور چوتھی نذر استطاعت سے پہلے کرے اور وہ حج سے ٹکرارہی ہو تب بھی یہی حکم ہے یعنی اگر استطاعت ہوگئی تو نذر ختم ہوجائے گی اورحج واجب ہوجائے گا ۔
مسئلہ (۸۴) اگر کوئی انسان مستطیع ہے اور اس کا جسم صحیح و سلامت ہے تو اسے خود حج کے لئے جانا چاہییے اور اگر کوئی اس کی طرف سے تبرعاً یا اجرت پر حج کرے تو کافی نہیں ہے لیکن اگر کوئی کسی کی طرف سے مستحبی حج انجام دیدے توکوئی حرج نہیں ہے

حج کی نیابت

مسئلہ(۸۵)نائب میں چھ شرطوں کا ہونا لازمی ہے
۱۔بالغ ہونا :لہذا نابالغ کی نیابت اگر چہ ممیز بھی ہو تب بھی صحیح نہیں ہے ۔
۲۔ عاقل ہونا : لہذا دیوانے کی نیابت چاہے وہ ہمیشہ دیوانہ رہے یاکبھی کھبی (ادواری ) دیوانہ ہوجائے تو دیوانگی کی حالت میں نیابت صحیح نہیں ہے ۔
۳۔ مومن ہونا : یعنی شیعہ اثناعشری ہو اور تمام ائمہ علیھم السلام کی امامت پر اعتقاد رکھتا ہو لہذا غیر شیعہ کی بیابت صحیح نہیں ہے گرچہ حج شیعہ نظریہ کے مطابق بجالائے ۔
۴۔ عدالت :اس کے عمل انجام دینے میں یقین و اطمنان حاصل ہونا بناء بر احتیاط ، اگر چہ اصل صحت ہر اعتماد رکھنا وجوہ سے خالی نہیں ہے ۔
۵۔ نائب کا حج کے احکام وافعال کا جاننا ،چاہے وہ عمہ انجام دیتے وقت کسی دوسرے کے بتانے سے جان لے۔
۶۔(اس سال ) نائب پر حجۃ السلام واجب نہ ہو ۔
مسئلہ (۸۶) نابالغ اور ممیز بچے اور دیوانے کی نیابت جائز ہے بلکہ اگر ادواری مجنون بھی ہو (یعنی جنون سے دوری ) تو اس پر حج واجب ہے اور انجام دے سکتا تھا لیکن انجام نہ دیا تو اس کے وارث پر لازم ہے کہ اس کی موت کے بعد نائب سے حج کرائے ۔
مسئلہ(۸۷) مرس کی نیابت عورت کے لئے اور عورت کی نیابت مرد کے لئے جائز ہے ۔
مسئلہ(۸۸) بیابت صرورۃ (یعنی جس نے ابھی تک حج نہیں کیا ہے ) چاہے مرد ہو یا عورت اس کی چند قسمیں ہیں ۔
۱۔عورت کی نیابت صرورہ مرد صرورۃ سے بناء پر احوط منع ہے ۔
۲۔ مرد کی نیابت صرورۃ عورت صرورہ سے بغیر کسی کراہت کے جائز ہے ۔
۳۔ عورت کی نیابت صرورۃ مرد غیر صرورہ سے مکروہ ہے ۔
۴۔ عورت کی نیابت غیر صورۃ مرد صرورۃ سے مکروہ ہے ۔
مسئلہ(۸۹) منوب عنہ ( یعنی جس کی طرف سے حج انجام دیا جارہاہو ) کا مسلمان ہونا لازمی ہے لہذا کافر بیابت صحیح نہیں ہے اور اسی طرح منوب عنہ مرچکا ہو یا اس کا جسم حج کی انجام دہی کی قدرت نہ رکھتا ہو البتہ یہ حکم واجب حج کے لئے ہے لیکن مستحبی حج حج میں زندہ کی طرف سے نیابت جائز ہے اگر چہ منوب عنہ کا جسم صحیح وسالم ہو ۔
مسئلہ(۹۰) نائب کو عمل کے انجام ددینے میں نیابت کا قسد کرنا لازم ہے اور جس کی وہ نیابت کررہا ہے نیت میں اجمالی طور پر ہی صحیح اس معین کرنا چاہیے اور نیت میں اس کے نام کا ذکر شرط نہیں ہے اگر چہ تمام مواقف حج میں مستحب ہے ۔
مسئلہ(۹۱) جس طریقے سے نیابت بہ اجارہ صحیح ہے اسی طرح جعالہ اور حج تبرعی اور شرط بھی عقد کے ضمن میں صحیح ہے ۔
مسئلہ(۹۲) حج کے بعض اعمال کو بجالانے سے معزور شخص کو اجیر بنانا بناء بر احوط جائز نہیں ہے بلکہ اگر یہی معذور شخص فی سبیل اللہ میت کی طرف سے حج بجالائے تو میت کے حج سے بری الذمہ ہونے میں اشکال ہے ۔
مسئلہ (۹۳) جس شخص کے ذمہ حج واجب ہوچکا ہو اگر وہ کسی مرض یا بڑ ھاپر اور کسی اور وجہ سے حج پر جانے کی قدرت نہ رکھتا ہو یا حج کے لئے جانا اس کے لئے حرج اور مشقت کا مسبب ہو تو واجب ہے کہ نائب معین کرے ۔
مسئلہ(۹۴)اگر دولتمند انسان خود حج پر جانے کی قدرت نہیں رکھتا یا اس کے لئے جانا مشقت و حرج ہو ، اگر چہ اس پر حج واجب نہیں ہوا ہے لیکن واجب ہے کہ نائب معین کرے تا کہ اس کی طرف سے حج انجام دے ۔
مسئلہ(۹۵)جس طرح سے انسان پر استطاعت کے فوراً بعد حج واجب ہوتا ہے اسی طرح واجب ہے کہ فوراً نائب معین کرے ۔
مسئلہ(۹۶)اس صورت میں جب کہ نائب حج کے لئے چلاجائے اور منوب عنہ کا عذدر اس کی موت تک باقی رہے تو نائب کا حج کفایت کرے گا لیکن اگر اس کے مرنے سے پہلے عذر اس کی موت تک باقی رہے تو نائب کا حج کفایت کرے گا لیکن اگر اس کے مرنے سے پہلے عذر بر طرف ہوجائے تو اس پر واجب نہیں ہے کہ خود حج انجام دے اگر چہ احوط یہ کہ انجام دے ۔
مسئلہ(۹۷) اگر کوئی شخص خود حج انجام دینے سے معذور ہوا ور نائب بنانے کی قدرت بھی نہیں رکھتا تو اس سے واجب حج ساقط ہوجائے گا ، لیکن اگر اس پر حج پہلے واجب ہوا تھا تو تو اس کے مرنے کے بعد اس کی قضا واجب ہے اور اگر وہ نائب معین کرسکتا تھا اور نائب نہیں بنایا اور اس پر حج واجب تھا اور اس کا مال ابھی بادقی ہے تو اس کی قضا واجب ہے ۔
مسئلہ (۹۸) اگر نائب معین کرنا واجب ہوگیا لیکن نائب بہ بنایا اور کوئی دوسرا شخص تبرعً (بغیر اجرت کے ) اس کی طرف سے حج بجالائے تو اس کے لئے کافی ہے اگر چہ احتیاط نائب معین کرنے میں ہے ۔
مسئلہ(۹۹)نیابت میقات سے جائز ہے اگر چہ نیابت منوب عنہ کے شہر (محل سکونت ) سے بہتر ہے ۔
مسئلہ(۱۰۰) جس شخص پر حج واجب تھا اگر احرام باندھنے کے بعد اور حرم میں داخل ہونے کے بعد مرجائے تو اس کا حج حجۃ الاسلام کے لئے کافی ہے لیکن اگر احرام بندھنے اور حرم میں داخل ہونے سے پہلے مرجائے تو ظاہر ہے کہ حج کی قضا واجب ہے لیکن اگر احرام باندھنے کے بعد مرجائے چاہے چاہے حرم میں داخل ہو یا نہ ہو ا ہو تو حجۃ الاسلام ہونے میں وجوہات سے خالی نہیں ہے ۔
مسئلہ (۱۰۱)جس شخص پر حجۃ الاسلام واجب تھا وہ مرجائے اور حج کے لئے وصیت کیا ہو تو حج کا خرچ اس کے اصل ترکہ سے لیا جائے گا مگر یہ کہ ۳/۱ ثلت کی قید لگادی ہو اس صورت میں اگر ثلث کافی ہو تو اسی میں سے لیا جائے گا اور باقی لوگوں پر اس کی وصیت کا پورا کرنا مقدم ہے اور اگر ثلث کافی نہ ہو تو بقیہ اس کے اصل ترکہ سے لیا جائے گا لیکن اگر یہی شخص بغیر وصیت کئے ہوئے مرجائے جب بھی واجب ہے کہ اس کے اصل ترکہ سے حج کا خرچ لیا جائے اور اس کے لئے نائب معین کیا جائے ۔
مسئلہ (۱۰۲) اگر کوئی شخص مرجائے اور اس پر حجۃ الاسلام واجب تھا اور کسی کے پاس اس کی مانت ہو یا شخص امین یہ جا نتا ہے یا ظن رکھتا ہے اس کے وارث حج انجام نہیں دیں گے اگر امانت بھی ان کو دیا جائے تو امین شخص پر لازم ہے کہ میت کے لئے نائب معین کرے تا کہ میت حج سے بری الذمہ ہوجائے اور اگر امانت میں سے کچھ بچ جائے تو اسے ورثاء کے حوالے کردے اور کوئی فرق نہیں ہے کہ یہ شخص خود اس کی طرف سے حج انجام دے یا کسی کو نائب بنائے تاکہ میت کی طرف سے حج انجام دے یہ حکم امانت کے علاوہ اور دوسرے اموال مثلاً عاریہ یا اجارہ یا اجارہ یا طلب وغیرہ کے لئے جاری نہیں ہوگا ۔
مسئلہ(۱۰۳)اگر کائی شخص مرجائے اور اس پر حجۃ الاسلام واجب ہواور مقروض بھی ہو اور خمس و زکواۃ بھی اس پر واجب ہو اور اس کے ترکہ سے یہ تمام چیزیں کافی نہ ہوں تو اگر خمس و زکواۃ کی مقدار میں مال ہو تو خمس وزکواۃ کو اداکرنا چاہیے لیکن اگر خمس وزکواۃ اس کے ذمے ہو تو اسے تمام قرضوں میں اختیار ہے لیکن احوط یہ ہے کہ تمام قرضوں پر حج کو مقدم کرے ۔
مسئلہ (۱۰۴) اگر کوئی مرجائے اور اس پر حجۃ الاسلام باقی ہو تو اگر اس کا ترکہ حج کے خرچ کے برابر ہو تو نائب بنانے سے پہلے ورثاء کو اس مال میں تصرف کرنے کا حق نہیں ہے اور اگر ترکہ حج کے خرچ سے زیادہ ہو ا ور وارثوں نے نائب بنانے کا ارادہ بھی کیا ہے تو کچھ حصوں میں تصرف کرسکتے ہیں اور اگر دوسرے قرض وغیرہ بھی ہوں تو یہی حکم جاری ہوگا ۔
مسئلہ(۱۰۵) جو شخص مرگیا ہو اور اس ترکہ حج کے خرچ کے برابر نہ ہو اور مقروض بھی نہ ہو تو اس کا ترکہ وارثوں کو دیا جائے گا اور ان لوگوں ہر واجب نہیں ہے کہ وہ اپنے مال سے اس خرچ کو پورا کریں ۔
مسئلہ(۱۰۶)جس شخص پر حج واجب تھا وہ جرجائے تو اس کے لئے مکہ مکرمہ کے سب سے نزدیک میقات سے نائب بناسکتے ہیں اور اس کے شہر سے نائب بنانا واجب نہیں ہے لیکن اگر دولت و ثروت زیادہ رکھتا ہو تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ نائب اس کے شہر سے بنایا جائے اورزیادہ اجرت کی رقم بالغوں کے مال سے اداکیا جائے نہ یہ کہ بچوں کے مال سے ۔
مسئلہ(۱۰۷) جس شخص پر حج واجب تھا وہ جرجائے تو وارثوں کو چاہیے کہ اسی سال کو نائب کی اجرت اصل ترکہ سے دیا جائے اور سال آئندہ تک تاخیر کانا اگر چہ یقین بھی ہو کہ میقات سے نائب مل جائے گا جائز نہیں ہے البتہ یہ حکم اس صورت مین ہوگا جب نائب کا خرچہ اس کے شہر اور میقات میں بہت زیادہ فرق ہو لیکن اگر بہت زیادہ فرق ہو اور کمسن وارث اور قرضہ دار بہت زیادہ ہو تو تاخیر جائز ہے اور یہ تفصیل اس وقت کہوگی جب میت نے نیابت کے لئے مال معین نہ کیاہو ۔
مسئلہ(۱۰۸) اگر مرنے والے پر بعض وارث حجۃ الاسلام کے وجوب کا اقرار کریں اور بعض وارث انکار کریں تو اقرار کرنے والوں پر لازم ہے کہ (سھم الارث) یعنی جو کچھ مرنے والے نے حج کے لئے معین کیا ہے تو اس کو ادا کریں اور اگر اس رقم کی مقدار حج کے لئے کافی ہو تو نائب بنائے لیکن اگر یہ مقدار حج کے لئے کافی نہ ہو تو لازم نہیں ہے کہ ورثاء اپنے مال سے اس کو مکمل کریں ،اور نائب بنانا واجب نہیں ہے ۔
مسئلہ( ۱۰۹) اگر مرنے والے پر حج واجب تھا اور کوئی تبرعاً اس کی طرف سے حج انجام دیدے تو حج کا پورا خرچ وارثوں کو دیا جائے گا لیکن اگر مرنے والے پر حجۃ الاسلام واجب نہیں تھا لیکن اس نے حج کے لئے وصیت کیا ہو اور اس کا نظریہ و ادارہ بھی معلوم ہو کہ اس رقم سے حج انجام دیا جائے (چاہے کوئی دوسرا شخص تبرعاً اس کی طرف سے حج کرے یا نہ کرے ) ضروری ہے کہ اس پیسے سے نائب معین کیا جائے اور یہ رقم وارثوں کو نہیں دی جائے گی اور اگراس کے ارادے میں شک بھی ہو جب بھی وارثوں کو نہیں دیا جائے گا بلکہ ضروری ہے کہ نائب معین کیا جائے ۔
مسئلہ(۱۱۰)اگر کسی پر حج واجب تھا اور اس کی وصیت تھی کہ نائب اس کے شہر سے بنایا جائے تو واجب ہے کہ نائب اس کے شہر سے معین کیا جائے لیکن میقات کی اجرت سے جو زیادہ خرچ ہو اسے اس کے ایک تہائی ترکہ سے لیا جائے گا اور اگر اس نے حج کے لئے وصیت کیا لیکن میقات یا شہر وغیرہ کا تعیین نہ کیا تو ایقات سے ہی نائب بنایا جائے گا ،مگر یہ کہ اسے علم ہو کہ وہ اپنے شہر سے نائب بنانا چاہتا تھا مثلاً کچھ رقم معین کیا ہو جو اسی شہر سے نائب لینے کی اجرت کے مناسب ہو اس صورت میں نائب اسی کے شہر سے بنایا جائے گا ۔
مسئلہ (۱۱۱)اگر کوئی حجۃ الاسلام کی نیابت کے لئے وصیت کرے اور اجرت بھی معین کیا ہے تو اس وصیت پر عمل کرنا واجب ہے اور اگر خرچ اجرۃ المثل زیادہ نہ ہو تو اس کے اصل مال سے لیا جائے گا لیکن اگر اجرۃ المثل سے زیادہ ہو اور فرق ایک تہائی ہو مگر نیابت اجرۃ المثل سے پیدا نہ ہو تو اس صورت میں تمام خرچ اصل مال سے لیا جائے گا ۔
مسئلہ(۱۱۲) اگر مرنے والا معین مال کے لئے وصیت کرے کہ اس سے حج اداکرایا جائے اور وصی (جس سے وصیت کیا ہے ) جنتاہے کہ اس مال سے خمس اور زکواۃ ادا نہیں کیا گیا ہے تو واجب ہے سب سے پہلے اس مال سے خمس و زکواۃ ادا کرے اور بقیہ مال کو حج کی انجام دہی میں خرچ کرے لیکن اگر حج کے پورے خرچ کی کفایت نہ کرے تو لازم ہے کہ اصل سرمایہ سے لیا جائے یہ حکم اس صورت میں ہوگا جب وصیت حجۃ الاسلام کے لئے کی گئی ہو ۔
مسئلہ(۱۱۳)جب بھی وارث یا وصی کی کوتاہی اور بے تو جہی کی وجہ سے وہ مال جو موصی (وصیت کرنے والے) نے حج کے لئے معین کیا تھا ضایع ہو جائے تو کوتاہی کرنے والا ضامن ہے اور ضروری ہے کہ اپنے مال سے نائب بنائے اور اگر اس کی کوتاہی و بے توجہی کی وجہ سے مال کی قیمت کم ہوجائے اور حج کے لئے کفایت نہ کرے تو کوتاہی کرنے والا ضامن ہے اور ضروری ہی بقیہ مال کا تدارک کرے ۔
مسئلہ(۱۱۴) اگر مرنے والے پر حج واجب تھا اور شک پیدا ہو کہ اس نے انجام دیا ہے نہیں تو اس قعدے کے تحت ’’حمل فعل مسلم بر صحت ‘‘یقین کریں کہ اس نے انجام دیا ہے ۔
مسئلہ(۱۱۵) اگر مرنے والے پر حج واجب تھا تو فقط نائب بنانے سے خود میت اور وارث بریء الذمہ نہیں ہوں گے بلکہ لازم ہے کہ حج انجام دیا جائے لیکن اگر معلوم ہو کہ نائب نے چاہے عذرکی وجہ سے یا بغیر کسی عذر کے حج انجام نہیں دیا ہے تو واجب ہے کہ دوبارہ نائب بنائے اور اجرت کو اصل مال سے اداکرے (اگر پہلے والے نائب سے پیسہ واپس نہ سکے)اور اس صورت میں جب کہ وصی یا وارث نے کوتاہی کیا ہو تو وہ افرت کے لئے ضامن ہوں گے ۔
مسئلہ(۱۱۶)اگر متعدد نائب ہوں تو وارث کو اختیار ہے کہ جو سب سے کم اجرت لے اس حج کے لئے بھیجے (لیکن اعمال حج صحیح انجام دے )اور حیثیت کے اعتبار سے مرنے والے کی شان کے مطابق ہو اور اگر ورثاء زیادہ پر راضی نہ ہو ں یا وارثوں میں کمسن افراد بھی ہوں تو جو سب سے کم اجرت لے اسے بھیجے ۔
مسئلہ(۱۱۷)شہر یا میقات سے اجیر بنانے میں وارث کے مقلد کو دیکھا جائے گا نہ کہ میت کے مجتہد کو لہذا اگر میت کے عقیدے کے اعتبار سے حج اس کے شہر سے واجب تھا لیکن وارث کا عقیدہ میقات سے اجیر بنانا جائز ہو تو وارث پر واجب نہیں ہے کہ اس کے شہر سے کسی کو نائب بنائے مگر یہ کہ خصوصاً وصیت کیا ہو ۔
مسئلہ (۱۱۸)اگر مرنے والے پر حجۃ الاسلام واجب ہو اور اس نے کوئی ترکہ نہیں چھوڑا ہے تو وارثوں پر واجب نہیں ہے کہ اس کے لئے نائب بنائیں لیکن مستحب ہے کہ میت کا ولی اس کیلئے نائب بنائے ۔
مسئلہ( ۱۱۹)اگر مرنے والے نے حج کے لئے وصیت کیا ہو اور اگر معلوم ہو کہ اس کی مراد حجۃ الاسلام ہے تو اصل سرمایہ سے اس کا خرچ کلیا جائے گا مگر یہ کہ اس ایک سوم کی وصیت کی ہو لیکن اگر معلوم ہو کہ اس کی مراد حجۃ الاسلام نہیں ہے یا مشکوک ہو تو ضروری ہے کہ ایک تہائی سرمایہ سے لیا جائے ۔
مسئلہ( ۱۲۰)اگر مرنے والا حج کے لئے وصیت کرے اور کسی کو حج کی انجام دہی کے لئے بھی معین بھی کیا ہو تو لازم ہے کہ اس کی وصیت کے مطابق عمل کرے لیکن اگر اس نے قبول نہ کیا مگر یہ کہ اسے اجرت المثل زیادہ دیا جائے تو جو زیادہ دیا جارہا ہے اسے ایک تہائی سے دیا جائے گا یا وارث کی اجازت سے اصل مال سے دیا جائے اور اگر ثلث کافی نہ ہو اور ورثاء بھی زیادہ پر راضی نہ ہو تو دوسرے کو نائب بنائے ۔
مسئلہ(۱۲۱)اگر کائی اپنے گھر کو بیچے اور مشتری (خریدنے والے ) سے شرط رکھے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی قیمت کو واجب حج میں خرچ کرے تو یہ شرط لازم ہوگی اور حج کا خرچ اصل مال سے لیا جائے گا ۔
مسئلہ(۱۲۲) اگر مرنے والے کے مال سے حج کا خرچ لینے کے بعد وصی مرجائے اور معلوم نہ ہو کہ مرنے سے پہلے کسی نائب بنایا ہے یا نہیں اتنی مدت گذر جائے کہ جس میں نائب بنانا ممکن تھا تو اس قاعدہ ’’حمل فعل مسلم بر صحت ‘‘کے تحت یقین کریں گے کہ اس نے نائب بنایا تھا لیکن اگر اتنی مدت میں نائب بنانا ممکن نہ تھا تو واجب ہے کہ مال سے نایب بنایا جائے ۔
مسئلہ (۱۲۳)اگر حج کے لئے کچھ مال ہو اور وصی کی کوتاہی اور بے توجہی کے بغیر وہ مال ضائع ہوجائے یا اس کی کوتاہی کے بارے میں شک ہو (کہ کوتاہی کیا ہے یا نہیں ) تو وصی ضامن نہیں ہے اور واجب ہے کہ مرنے والے کے بقیہ مال سے نائب بنایا جائے (لیکن اگرمال وارثوں کے در میان تقسیم کردیاگیا ہو تو ہر ایک سے برابر لیا جائے گا ) اس صورت میں جب کہ یہ حج حجۃالاسلام ہو اور اگر یہ حج حجۃالاسلام نہ ہو تو میت کے بقیہ ایک سوم مال سے نائب بنایا جائے گا اور یہی حکم اس شخص کے لئے ہے جس نے کسی کی طرف سے حج کی نیابت لی ہو اور حج انجام دینے سے پہلے مرجائے اور ترکہ نہ ہو یا ترکہ ہو مگر ورثاء اس رقم کو جو اس نے نیابت کی صورت میں لیا تھا واپس نہیں کررہے ہیں تو ضروری ہے کہ مرنے والے کے اصل مال سے اگر حجۃ الاسلام ہو لیا جائے اور اگر حجۃ الاسلام نہ ہو تو ایک سوم سے جو باقی ہے اس سے نائب بنایا جائے ۔
مسئلہ (۱۲۴) اگر نائب احرام پہننے سے پہلے مرجائے تو منوب عنہ (یعنی جس کی طرف سے حج انجام دیا جائے )بری الذمہ نہیں ہوگا بلکہ واجب ہے کہ اس کے لئے دوبارہ نائب معین کیا جائے اور اگر احرام باندھنے کے بعد اور حرم میں داخل ہونے مرجائے تو یہ منوب عنہ کے حج کے لئے کافی نہ ہوگا ، اور اس حکم میں حج کی قسموں میں کوئی فرق نہیں ہے کہ چاہے حج تمتع ہو یا حج افراد ہو چاہے حج واجب ہو یا واجب نہ ہو اور اسی طرح نائب میں اور اس شخص مین جو تبرعاً حج انجام دے کوئی فرق نہیں ہے (سب میں یہی حکم جاری ہوگا مترجم)
مسئلہ(۱۲۵)اگر نائب احرام باندھنے اور حرم میں داخل ہونے کے بعد مرجائے تو اگر منوب عنہ کے بری الذمہ ہونے کیلئے اجیر ہوا ہو یاوہ حج جو اس نائب پر مستحب تھا تو اجیر تمام اجرت کا مستحق ہوگا لیکن اگر اعمال حج انجام دینے کے لئے اجیر ہوا تھا تو جتنا عمل اس نے انجام دیا ہے اس کے مطابق اجرت کا مستحق ہوگا لیکن اگر احرام باندھنے سے پہلے مرجائے تو اجرت کا مستحق نہیں ہوگا ہاں اگر سفر حج کے مقدمات اجارے میں شامل ہوں تو جتنی مقدار میں اس نے مقدمات انجام دیئے ہیں اتنی اجرت کا مستحق قرار پائے گا ۔
مسئلہ(۱۲۶)اگر کسی شہر سے حج کے لئے نایب ہوا ہو لیکن راستہ معین نہ ہو ا ہو تو نائب کو اختیار ہے چاہے جس راستے سے جائے لیکن اگر راستہ اور مسیر معین ہو تو دوسری مسیر اختیار کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اسے معلوم ہو کہ منوب عنہ کسی خصوصی راستے کو نظر میں نہیں رکھا ہے یا عقد کے بعد شرط کو ساقط کردیا ہے ۔
مسئلہ (۱۲۷) اگر کوئی شخص حج کی انجام دہی کے لئے اسی سال اجیر ہواہو اور دوسرے کے لئے بھی اسی سال اجیر معین ہوتو دوسرے والے کی نیابت باطل ہے اور اگر دو آمیوں کی نیابت لی ہو اور نہ مباشرۃ کی قید ہے اور نہ سال ہی معین ہوا ہو تو دونوں نیابتیں صحیح ہیں پہلی صورت میں دوسرے کو حج کے لئے بھیجے لیکن دوسری صورت میں دو سال حج انجام دے گا ۔
مسئلہ(۱۲۸)اگرسا ل معین کے لئے نیابت لی تو مقدم و مؤخر کرنے کا حق نہیں ہے مگر یہ کہ منوب عنہ کی رضایت سے اور اگر مقدم یامؤخر کیا تو اگر منوب عنہ کی نیت اسی سال حج بجا آوری کی تھی یعنی اگر اس سال حج کو انجام نہ دینا ہو تا تو وہ کسی کو نائب نہیں بناتا تو نائب اجرت کا مستحق نہیں ہوگا اور اجرت باطل ہوجائے گی ،اور اگر ایسا نہیں تھا یعنی منوب عنہ کی نیت فقط حج بجالانے کی تھی چاہے اس سال بجالائے چاہے دوسرے سال میں انجام دے لیکن معین شدہ سال میں کچھ عوض معین تھا تو ایسی صورت میں اجرت کا مستحق ہوگا اور منوب عنہ کو چاہے کہ اسے اجرۃ المثل اداکرے ۔
مسئلہ(۱۲۹) اگر نائب کسی مشکل یا دشمن کے خوف یا بیماری کی وجہ سے اعمال حج انجام نہ دے سکے حتیٰ اگر احرام باندھنے اور حرم میں داخل ہونے کے بعد بھی ہو تو نائب پر حج باقی رہے گا ۔
مسئلہ(۱۳۰) اگر نائب کوئی ایسا کام انجام دے جس کی وجہ سے کفارہ واجب ہوجائے تو اسے چاہیے کہ خود اپنے مال سے کفارہ اداکرے ۔
مسئلہ(۱۳۱) اگر حج کے آخراجات معین شدہ رقم سے زیادہ ہو تو منوب عنہ پر واجب نہیں کہ اس کمی کو پورا کرے اور اسی طرح اگر اجرت حج کے خرچ سے زیادہ ہو تو نائب پر واجب نہیں ہے کہ اسے واپس کرے ،اگر چہ کمی وزیادتی کا جبران اور واپس کرنا مستحب ہے ۔ مسئلہ(۱۳۲) اگر کوئی واجب یا مستحب حج کے لئے نائب ہوا ہو اور شعر الحرام میں ٹہرنے سے پہلے اجماع کے ذریعے اپنے حج کو باطل کردے یعنی مکہ میں حج کے لئے احرام باندھنے کے بعد خود مکہ میں یا میدان عرفات میں جماع کرے تو اسے چاہیے کہ حج کے تمام اعمال کو انجام دے اور یہ حج منوب عنہ کو بری الذمہ کردے گا اور نائب پر واجب ہے کہ دوسرے سال حج بجالائے (قصد نیابت اور ما فی الذمہ بھی لازم نہیں ہے ) اور ایک اونٹ بطور کفارہ دے اور نائب اجرت کا مستحق ہوگا چاہے آئندہ حج انجام دے یا انجام نہ دے چاہے اجرت میں معین سال کی قید لگائی گئی ہو اگر کوئی تبرعاً بھی حج انجام دے تب بھی یہی حکم ہے ۔
مسئلہ(۱۳۳)جیسے ہی عقد اجارہ ہوا نائب اجرت کا مالک ہوجائے گا لیکن واجب نہیں ہے کہ عمل سے پہلے اسے اجرت اداکرے مگر پہلے سے شرط کی ہو کہ عمل سے پہلے اجرت اداکرے یا کوئی قرینہ (عمل سے پہلے اجرت اداکرنے) پایا جائے جب کہ عموماً حج نیابتی میں عمل سے پہلے اجرت لی جاتی ہے ایسے موارد میں لازم ہے کہ عمل سے پہلے اجرت دی جائے ۔
مسئلہ (۱۳۴) اجارہ کے عقد میں (اگر اس میں کوئی قرارداد یا قرینہ نہ ہو ) نائب کو بذات خود اسی پہلے سال میں ھج انجام دینا چاہیے اور کسی دوسرے کو نائب نہیں بنا سکتا یا کسی دوسرے سال انجام دے سکتا مگر یہ کہ اجازت دے یا منوب عنہ سے کسی طرح ظاہر ہو ۔
مسئلہ (۱۳۵) جس کے پاس وقت کم ہو اور عمرہ تمتع کو مکمل طور پر انجام نہ دے سکے اور پھر اعمال حج تمتع بجالائے اور حج تمتع سے حج افراد کی طرف عدول کرنے پر مجبور ہوجائے تو وہ کسی ایسے شخص کا نائب بن سکتا جس کے ذمہ حج تمتع ہو ۔
مسئلہ (۱۳۶) اگر نائب کے پاس وقت زیادہ ہے اور اعمال عمرتمتع اور حج تمتع کو انجام دے سکتا ہو لیکن اگر حج تمتع کے لئے اس قدر وقت تنگ ہوگیا کہ مجبور ہے کہ عمرہ تمتع سے احج افرادکی طرف عدول کرے اور بعد میں عمرہ مفرد بجالائے تو منوب عنہ بری الذمہ ہوجائے گا اور نائب بھی اجرت کا مستحق قرار پائے گا ۔
مسئلہ(۱۳۷) مستحبی حج میں ایک انسان کئی آدمیوں کے بدلے مین حج انجام دے سکتا ہے لیکن واجب میں جائز نہیں ہے کہ ایک انسان دو انسانوں یا اس زیادہ لوگوں کی طرف سے حج بجالائے اور بیابت فقط ایک ہی شخص کی طرف سے ہوگی مگر اس صورت میں جب کہ حج دو آدمی یا س سے زیادہ پر واجب ہومثلاً دو آدمی یا دو سے زیادہ لوگ نذر کریں کہ سب لوگ مل کر ایک شخص کو حج کے لئے نیابت دیں ۔
مسئلہ (۱۳۸)کئی نائب ایک ہی سال میں ایک شخص کی طرف سے (چاہے مردہ ہوں یا زندہ ، تبرعاً یا اجرت پر) مستحبی حج بجالاسکتے ہیں اور یہی حکم واجب حج کے لئے ہے اگر متعدد ہوں ( اور منوب عنہ جسمانی طاقت نہ رکھتا ہو یا مرچکا ہو) مثلاً کسی شخص پر نذر کی وجہ سے دو حج واجب ہوا ہو یعنی دو مرتبہ نذر کیا ہو یا ایک مرتبہ نذر کیا ہو اور اس پر حجۃالاسلام باقی ہو اور ہر حج کے لئے ایک نائب معین کرے اور اسی طرح اگر ان دو حجوں میں ایک واجب ہوا ور دوسرا مستحب ہو ۔
مسئلہ(۱۳۹) نائب نیابتی حج انجام دینے کے بعد خود اپنے لئے یا کسی دوسرے شخص کے لئے عمرہ مفرد یا طواف انجام دے سکتا ہے
مسئلہ(۱۴۰)نائب اپنے مجتہد کے فتوے کے مطابق عمل کرے گا نہ یہ کہ منوب عنہ جس کی تقلید میں تھا ۔
مسئلہ(۱۴۱)انسان عمرہ تمتع کے بجالانے کے بعد اور حج سے پہلے عمرہ مفردہ کے لئے نائب نہیں بن سکتا اور اسی طرح عمرہ تمتع اور حج کے درمیان خود اپنے لئے عمرہ مفردہ انجام نہیں دے سکتا اور اگر کوئی جہالت یا بھول کر عمرہ مفردہ بجالائے تو اس کا حج صحیح ہے اور دوسرا عمرہ شمار ہوگا ۔
مسئلہ (۱۴۲) وہ عورت جو ابھی پاک نہیں ہوئی ہے اور قافلے سے جدا بھی نہیں ہوسکتی ، تو اسے چاہیے کہ طواف زیارت اور طواف نساء کے لئے نائب معین کرے اور سعی کو خود انجام دے ۔

چند مسائل

مسئلہ(۱۴۳) اگر کوئی شخص حج انجام دینے کی استطاعت نہین رکھتا لیکن قرض وغیرہ لیکر حج انجام دے سکتا ہے تو تو مستحب ہے کہ حج بجالائے ۔
مسئلہ( ۱۴۴) اگر کسی شخص نے حجۃ الاسلام انجام دیا ہے تو مستحب ہے کہ دوبارہ حج کرے اور اسی طرح مستحب ہے کہ اپنے رشتہ داروں یا ان کے علاوہ دوسروں کی طرف سے مکمل حج یاطواف وغیرہ نماز کے ساتھ فی سبیل اللہ انجام دینا مستحب ہے چاہے وہ مردہ ہو یا زندہ ہوں ۔ مسئلہ(۱۴۵)خصوصاً معصومیں علیہم السلام کی طرف سے طواف و نماز وغیرہ یا مکمل حج بجالانا مستحب ہے چاہے ان کی زندگی میں انجام دیا جائے یا ان کی شہادت کے بعد انجام دیا جائے ۔
مسئلہ (۱۴۶) اعمال حج انجام دینے کے بعد مکہ معظمہ سے نکلتے وقت واپسی کی نیت کرنا مستحب ہے اور یہ عمر کی زیادتی کا سبب ہے اور دوبارہ حج کے لئے نہ آنے کی نیت کرنا مکروہ ہے اور یہ عمر میں کمی کا باعث ہے ۔
مسئلہ(۱۴۷) مستحب ہے کہ وہ لوگ جو حج نہیں کرسکتے انہیں حج کا خرچ دیا جائے اور انھیں حج کے لئے بھیجا جائے اور یہ ان کے حجۃ الاسلام کی کفایت کرے گا ۔
مسئلہ (۱۴۸) حج میں زیادہ خرچ کرنا متحب ہے
مسئلہ (۱۴۹)مستحب ہے کہ مستحبی حج کو تمام مستحبی عبادتوں مثلاً نماز ،روزہ ،مستحبی جہاد اور صدقہ وغیرہ پر مقدم کرے ۔
مسئلہ (۱۵۰) مستحبی حج میں شرط ہے کہ بیوی ، شوہر سے غلام اپنے مولاسے اور اولاد اپنے والدین سے بناء بر احتیاط اجازت لے ، اگر چہ ان لوگوں کے منع کرنے کی وجہ سے وہ دینا میں بیماری میں مبتلا ہوگا داور آخرت میں بہت زیادہ افسوس کرے گا جیسا کہ روایتوں میں بیان کیا گیا ہے ۔

حج کی قسمیں

مسئلہ(۱۵۱) حج کی تین قسمیں ہیں ۔
۱۔حج تمتع ، ۲۔حج افراد، ۳، حج قران ،
مسئلہ (۱۵۲) حج تمتع ان لوگوں کا فریضہ ہے جن کا وطن مکہ معظمہ سے سولہ فرسخ (تقریباً ۸۸ کیلو میٹر ) یا اس سے زیادہ دور ہو ۔
مسئلہ (۱۵۳) حج افراد اور حج قران ان لوگوں کا فریضہ ہے جن کا وطن مکہ معظمہ سے سولہ فرسخ سے کم ہو یا وہ خود مکہ معظمہ میں رہتا ہو
مسئلہ(۱۵۴) یہ حکم حجۃ الاسلام یا اس حج کے لئے ہے جو نذر وغیرہ کی وجہ سے ان تینوں قسموں سے کوئی ایک واجب ہواہو ، لیکن بقیہ تمام واجبی اور مستحبی حج میں انسان کو اختیار ہے کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی انجام دے اگر چہ حج تمتع بجالانا افضل ہے ۔
مسئلہ (۱۵۵)اگر کسی کا وطن مکہ معظمہ سے سولہ فرسخ سے زیادہ دور ہو اور وہ مکہ میں زندگی بسر کرتا ہے اور وہاں رہتے ہوئے دوسال گذر گئے ہوں ، تو اسے چاہیے کہ حج قران یا حج افراد انجام دے لیکن اگر دوسال نہ ہو ا ہو تو اسے چاہیے کہ حج تمتع بجالائے اور اس حکم میں کوئی فرق نہیں ہے کہ وطن کا قصد یا مجاورت رکھتا ہو یا نہ چاہے مستطیع ہونے وے پہلے مقیم ہوا ہو یا بعد میں رہنے گا ہو ۔
مسئلہ (۱۵۶)وہ شخص جو مکہ معظمہ میں رہنے لگا اور دوسال گذرنے سے پہلے اگر چاہتا ہے کہ حج تمتع بجالائے تو اسے چاہیے کہ اس کے وطن کی طرف سے جو ’’میقات ‘‘ پڑتی ہو وہاں تک واپس جائے اور وہاں سے عمرہ تمتع کے لئے احرام باندھے اور پھر ادنی الحل (مثلاً تنعیم (جو مکہ سے بہت نزدیک ہے )) میں داخل ہو تو دوبارہ نیت کرے اور یہی حکم مستحبی حج تمتع میں بھی جاری ہوگا جب اہل مکہ معظمہ اسے انجام دینا چاہیں ۔
مسئلہ (۱۵۷)وہ شخص جس کا دو وطن ہے ایک وطن کا سولہ فرسخ سے کم ہے اور دوسرا وطن سولہ فرسخ سے زیادہ کی دوری پر ہے تو جس وطن میں زیادہ رہتا ہو اس کے مطابق عمل کرے لیکن اگر دونوں وطن میں برابر رہتا ہے تو اسے اختیار ہے مگر حج تمتع بجالانا افضل ہے ۔

حج تمتع

مسئلہ(۱۵۸)حج تمتع دو اعمال سے مرکب ہے
۱۔عمرہ تمتع ، ۲۔حج تمتع
اعمال عمرہ تمتع
مسئلہ (۱۵۹) اعمال عمرہ تمتع پانچ چیزوں پر مشتمل ہے ۔
۱۔کسی بھی ایک میقات سے احرام باندھنا (جس کا ذکر آئندہ ہوگا)
۲۔ خانہ کعبہ کا طواف کرنا۔
۳۔ مقام ابراہیم علیہ السلام کے نزدیک یا اسکے پیچھے دو رکعت نماز طواف بجالانا ۔
۴۔صفااور مروہ کے درمیان سعی کرنا ۔
۵۔تقصیر (یعنی تھوڑے سے بال یا ناخن کانٹنا )

اعمال حج تمتع

مسئلہ (۱۶۰) اعمال حج تمتع تیرہ چیزوں پر مشتمل ہے ۔
۱۔مکہ معظمہ میں احرام باندھنا (جس کی تفصیل آئندہ بیان ہوگی )
۲۔ عرفات میں وقوف ( ٹھہرنا ) کرنا ، ( ۹/ذی الحجہ کو ظہر سے غروب آفتاب تک ۔
۳۔مشعر الحرام ( مذدلفہ ) میں وقوف (ٹھہرنا ) عید قربان کی اذان صبح سے اول آفتات تک ۔
۴۔عید قربان کے دن منیٰ میں بڑے شیطان کو کنکریاں مارنا۔
۵۔منیٰ میں قربانی کرنا۔
۶۔منیٰ میں سرکا منڈانا یا تھوڑا سا بال یا ناخن کاٹنا۔
۷۔ مکہ جاکر طواف زیارت کرنا ۔
۸۔ مقام ابراہیم ؑکے نزدیک یا اس کے پیچھے دو رکعت نماز طواف اداکرنا ۔
۹۔ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا ،
۱۰۔طواف النساء کرنا ۔
۱۱۔دو رکعت نماز طواف النساء پڑھنا ۔
۱۲۔ ذی الحجہ کی گیارہویں اور بارہویں رات کو منیٰ میں رہنا بلکہ بعض مورد میں ذی الحجہ کی تیرہویں شب میں منیٰ میں رہنا جس کا ذکر آئندہ کیا جائے گا۔
۱۳۔گیاہوریں اور بارہویں ذی الحجہ کو تینوں شیطانوں ( ادنیٰ و سطیٰ ، عقبہ ) کو کنکریاں مارنا اور جو لوگ ذی الحجہ کی تیرہویں رات منیٰ میں رہے ہوں ۔ انھیں ذی الحجہ کی تیرہ تاریخ کو بھی تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنا چاہیے۔

حج تمتع کے شرائط

مسئلہ(۱۶۱)حج تمتع کے لئے چند شرطیں ہیں ،
۱۔سب سے پہلی چیزنیت ہے جب عمرہ کے لئے احرام باندھے تو اس کی نیت پہ ہو کہ حج تمتع بجالاتا ہوں قربۃً الی اللہ اور اگر اس کے علاوہ نیت کی (شخص و معین کیا ) باشک کی حالت میں نیت کیا تو حج باطل ہوجائے گا ،
۲۔ عمرہ اور حج دونوں ایک ساتھ حج کے مہینوں (شوال ، ذیقعدہ ، ذی الحجہ ) میں انجام دیا جائے لہذا اگر عمرہ تمتع کے تمام اعمال یا کچھ اعمال شوال سے پہلے انجام دیا جائے تو عمرہ باطل ہوجائے گا،
۳۔ حج تمتع اور عمرہ تمتع ایک ہی سال بجالائے اور اگر عمر ہ تمتع کو بجالایا اور حج تمتع کو دوسرے سال بجالائے تو اس کا حج تمتع صحیح نہ ہوگا اور اس حکم میں کوئی فرق نہیں ہے کہ ایک سال تک مکہ معظمہ میں قیام کرے ،یا وطن واپس آجائے اور دوبارہ مکہ معظمہ جائے ، اور اسی طرح کوئی فرق نہیں ہے عمرہ تمتع کے کا احرام باندھے رہے (یعنی تقصیر کو انجام نہ دیا ہو ) یا احرام سے باہر ہوگیا ہو ،
۴۔حالت اختیاری میں حج تمتع (نہ عمرہ تمتع ) کے لئے احرام خود مکہ معظمہ سے باندھے لیکن بہتر یہ ہے کہ احرام مسجد الحرام سے باندھے اور مسجد میں بھی بہتر ہے کہ مقام ابراہیم یا حجر اسماعیل سے احرام باندھے ،
۵۔تمام اعمال عمرہ تمتع اور حج تمتع کو ایک شخص کے لئے ایک ہی شخص انجام دے اور اگر دو آدمی ایک شخص کی طرف سے عمرہ تمتع اور حج تمتع انجام دینے کے لئے نائب بنیں یعنی ایک شخص عمرہ تمتع اوردوسرا شخص حج تمتع انجام دے تو یہ صحیح نہیں ہوگا ،اور اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کے لئے عمرہ تمتع انجام دے اور وہی شخص دوسرے کے لئے حج تمتع انجام دے تو یہ صحیح نہیں ہے ۔

چند مسئلے

مسئلہ(۱۶۲) حج تمتع سے پہلے عمرہ تمتع بجالانا واجب ہے۔
مسئلہ (۱۶۳) اعمال عمرہ تمتع انجام دینے کے بعد اور ۹/ ذی الحجہ قریب آنے تک اپنے کو حج تمتع کے لئے آمادہ کرے ۔
مسئلہ(۱۶۴) احتیاط مستحب یہ ہے کہ عمرہ تمتع سے محل ()ہونے کے بعد (یعنی اعمال عمرہ تمتع تمام ہوجائے ) اور حج تمتع انجام دینے سے پہلے مکہ معظمہ سے طولانی سفر کے لئے خارج نہ ہو مگر یہ کہ کوئی اہم ضرورت ہو، لیکن مکہ معظمہ کے اطراف یا مختصر سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
مسئلہ(۱۶۵)عمرہ تمتع کے درمیان مکہ معظمہ سے باہر جانا (چاہے طواف سے پہلے ، چاہے طواف اور سعی کے درمیان یا سعی اور تقصیر کے درمیان ) احتیاط مستحب کے خلاف ہے ،
مسئلہ(۱۶۶) اگر عمرہ تمتع انجام دینے کے بعد بغیر احرام کے مکہ معظمہ سے باہر گیا اور میقات سے گذر گیا ہو یہاں دوصورتیں ہیں ،۔
۱۔پہلی صورت یہ ہے کہ اس کا مکہ معظمہ واپس آنا خارج ہونے کے مہینے سے پہلے ہو ایسی صورت میں ضروری ہے کہ بغیر احرام کے مکہ معظمہ واپس آجائے اور حج تمتع کے لئے مکہ سے احرام باندھے ۔
۲۔دوسری صورت یہ کہ اس کا مکہ معظمہ واپس آنا خارج ہونے کے مہینے کے بعد ہو ایسی صورت میں ضروری ہے کہ احتیاطاً عمرہ تمتع کے لئے احرام باندھے اور دوبارہ عمرہ تمتع انجام دے یہاں پر مہینے سے مراد تیس۳۰/ دن ہیں
مسئلہ (۱۶۷) جس شخص کا وظیفہ حج تمتع ہے تو وہ حج افراد یا حج اقران انجام نہیں دے سکتا ، مگر یہ کہ وقت اتنا تنگ ہو کہ عمرہ تمتع کو انجام نہ دے سکے اور خود کو حج کے لئے آمادہ کرے ایسی صورت میں عمرہ تمتع سے حج افراد کی نیت کرے اور عمرہ کو ترک کردے اور اعمال حج افراد کو بجالائے اور حج انجام دینے کے بعد عمرہ مفردہ بجالائے ۔
مسئلہ(۱۶۸)تنگئی وقت کا میار :
مسئلہ(۱۶۹) اگر کسی شخص کا وظیفہ حج تمتع ہو اور وہ احرام عمرہ تمتع پہننے سے پہلے جانتا ہے کہ وقت کی تنگی کی وجہ سے عمرہ تمتع کو مکمل نہیں کرسکتا تو اسی کے لئے بعید نہیں ہے کہ وہ اپنے عمرہ کو حج افراد سے بدل دے یعنی ابتدا سے ہی حج افراد کے لئے احرام باندھے ۔
مسئلہ(۱۷۰) اگر کسی نے عمرہ تمتع اگر کسی نے عمرہ تمتع کے لئے حرام باندھا اور وقت میں بھی وسعت ہے لیکن طواف اور سعی کو انجام دینے میں عمداً اس حد تک تاخیر کرے کہ سے انجام نہ دے سکے اور حج کے اعمال کو درک کرے تو اس نے گناہ کیا ہے اور بعید نہیں ہے کہ ضروری ہو کہ اپنے عمرہ کو حج افراد کی طرف عدول کردے یعنی وہ احرام جو اس نے عمرہ تمتع کے لئے باندھا ہے حج افراد کی نیت کرکے عرفات جائے اور حج کے اعمال بجالائے اور حج افراد مین قربانی لازم نہیں ہے لیکن حج انجام دینے کے بعد عمرہ مفردہ انجام دے ۔

حج افراد کی صورت

مسئلہ (۱۷۱) حج افراد خود مستقل اور جدا گانہ فریضہ ہے اور کہ اہل مکہ معظمہ اور ان لوگوں کے لئے ہے جن کا فاصلہ مکہ سے سولہ فرسخ سے کم ہو اور حج افراد کے علاوہ عمرہ مفردہ بھی بجالاسکتے ہوں عمرہ مفردہ خود مستقل اس پر واجب ہوگا ، اور اگر دونوں انجام دے سکتا ہو تو واجب ہے کہ دونوں کو انجام دے اور کوئی فرق نہیں ہے چاہے جس کو مقدم کرے ۔
مسئلہ(۱۷۲) حج تمتع اور حج افراد کے تمام اعمال مشترک ہیں ،صرف پانچ فرق ان دونوں کے درمیان موجود ہے جس میں سے کچھ کی طرف اشارہ کررہے ہیں ۔
۱۔حج تمتع ،عمرہ تمتع ، کے ساتھ یعنی ایک ہی سال میں انجام دیا جائے لیکن حج افراد اور عمرہ مفردہ میں ایک ہی سال میں انجام دینا ضروری نہیں ہے اور حج تمتع میں عمرہ تمتع کو حج تمتع سے پہلے انجام دیا جائے گا لیکن حج افراد میں جو بھی پہلے انجام دیا جائے کائی حرج نہیں ہے
۲۔حج تمتع میں قربانی واجب ہے لیکن (عمرہ تمتع )میں واجب نہیں ہے۔
۳۔حج افراد میں اختیاری حالت میں طواف اور حج کی سعی کو وقوفین ( وقوف عرفات ،وقوف مشعر) پر مقدم کرسکتے ہیں ۔
۴۔حج افراد میں احرام حاجیوں کی جگہ یو میقات کے پانچ مقامات عمرہ تمتع میں سے کسی ایک جگہ سے باندھے لیکن حج تمتع کا احرام خود مکہ معظمہ سے باندھا جائے گا۔
۵۔ حج تمتع میں ضروری ہے کہ عمرہ تمتع اور حج تمتع دونوں کو حج کے مہینوں ( شوال ، ذیقعدہ اور ذی الحجہ ) میں انجام دے لیکن حج افراد میں ایسا کرنا لازم نہیں ہے یعنی حج کے مہینوں کے علاوہ عمرہ بجالاسکتاہے ۔

حج قران کی صورت

مسئلہ ( ۱۷۳)حج قران اور حج افراد کے تمام اعمال مساوی ہیں مگر صرف فرق موجود ہے ۔
۱۔حج قران میں قربانی کرنا واجب ہے لیکن حج افراد میں قربانی واجب نہیں ہے اور حج قران میں احرام پہننے وقت مکلف کو چاہیے کہ قربانی کا جانور ساتھ میں رکھے ۔
۲۔حج افراد میں احرام صرف تلبیہ سے ثابت ہوگا لیکن حج قران میں تلبیہ سے بھی ثابت و محقق ہوگا اور قربانی کے جانور پر اشعار(علامت گذاری ) کے ذریعے یا تقلید (یعنی جانور کے گردن میں کسی چیز کے لٹکانے کی وجہ سے) سے ثابت ہوگا اور جب بھی حج قران کے لئے احرام باندھے تو حج تمتع کی طرف عدول کرنا جائز نہیں ہے ۔

’’عمرہ تمتع کا تفصیل اعمال‘‘

مسئلہ (۱۷۴)حج اور عمرہ کے تمام اعمال کی بجاآوری کے وقت بیت کا ہونا لازمی ہے ۔
نیت سے مراد :اعمال کا قصد قربت یعنی قربۃً الی اللہ بجالانا مثلاًاس طرح نیت کرے کہ میں حج تمتع انجام دے رہاہوں اور اس سے پہلے عمرہ تمتع انجام دے رہا ہوں قربۃ ًالی اللہ

’’عمرہ تمتع کے اعمال‘‘

(۱) احرام:

مسئلہ(۱۷۵) اعمال عمرہ تمتع میں سب سے پہلی چیز احرام ہے اور احرام میقات سے باندھنا چاہیے

میقات:

مسئلہ (۱۷۶) حج یا عمرہ تمتع میں احرام باندھنے کے لئے جو جگہیں معین ہیں اسے ’’ میقات‘‘ کہتے ہیں اور واجب ہے کہ احرام وہیں سے باندھا جائے اور جائز نہیں ہے کہ اختیار ی حالت میں وہاں سے مکہ معظمہ تک بغیر احرام باندھے چلاجائے اور یہ جگہیں (میقات ) یہ ہیں ، مسجد شجرہ، وادی عقیق جحفہ ، یلمسلم ، قرن المنازل ،مکہ مکرمہ ، منزل حاج ، جعرانہ ، محاذات ، ادنیٰ الحل کی ایک جگہ ، فخ،
مسئلہ(۱۷۷)مسجد شجرہ: یہ مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ آنے والوں کا میقات ہے اور شخص جو بھی چاہتا کہ مدینے کے راستے سے حج کے لئے جائے تو اس کے لئے جائز ہے کہ مسجد کے باہر احرام باندھے اس طرح سے کہ محاذی کے برابر ہو داہنے اور بائیں طرف سے اس شخص کے لئے جو مکہ معظمہ کی طرف رخ کرکے کھڑاہو ، لیکن احتیاط یہ ہے کہ مسجد شجرہ کے اندر سے احرام باندھاجائے اور وہ شخص جو مدینے کی طرف سے کہ حج کے لئے جائے اور مسجد شجرہ پہونچے اور راستے میں جحفہ نامی میقات بھی پڑے تو اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ مسجد سے بغیر احرام پہنے گذر جائے اور جحفہ سے احرام باندھے ، مگر وہ شخص جو بیمار ہو یا ضعیف و کمزور ہو یا اسی طرح وہ لوگ جو معذور ہیں اور مسجد شجرہ سے احرام نہیں باندھ سکتے ۔
مسئلہ(۱۷۸) مجنب شخص اور حائض عورت مسجد شجرہ میں داخل نہیں ہوسکتے اور نہ وہاں سے احرام باندھ سکتے ہیں مگر یہ کہپ مسجد سے گذرنے کی حالت میں احرام باندھے یعنی ایک دروازے سے داخل ہوا ور دوسرے دروازے سے نکل جائے اور گذرتے وقت احرام باندھے اس کے علاوہ دوسری صورتوں میں طاہیے کہ مسجد کے باہر اور محاذات میں احرام باندھے یونی مسجد کو اپنے داہنی یا بائیں طرف قرار دے ۔
مسئلہ (۱۷۹) وادی عقیق:یہ میقات اہل عراق اور نجد کے لئے ہے اور ان لوگوں کے لئے جو بھی اس راستے سے مکہ جاتے ہوں چاہے وہ عراق اور نجد کے نہ ہوں ۔

اس میقات کے تین حصے ہیں ۔

۱۔اس کے ابتدائی حصے کو ’’مسلخ‘‘کہتے ہیں ۔
۲۔اس کے درمیانی حصے کو’’غمرہ ‘‘کہتے ہیں
۳۔اس کے آخری حصے کو ’’ذات عرق‘‘کہتے ہیں
مسئلہ (۱۸۰) احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگر کوئی عذر مثلاً بیماری یا تقیہ وغیرہ نہ ہو تو غمرہ سے احرام باندھا جائے اور ذات عرق تک احرام باندھنے میں تاخیر نہ کرے ۔
مسئلہ (۱۸۱) جحفہ: یہ میقات اہل شام ، مصر اور مغرب والوں کا ہے اور ان لوگوں کے لئے ہے جو یہاں سے گذرتے ہوں ، اگر چہ یہاں کے رہنے والے نہ ہوں ، یہ اس صورت میں ہوگا جب اس میقات سے پہلے والی میقات (مسجد شجرہ )سے احرام نہ باندھا ہو ۔
مسئلہ (۱۸۲)یلملم: ایک پہاڑ کا نام ہے اور یہ یمن والوں کے لئے میقات ہے اور ان لوگوں کے لئے جو یہاں سے گذرتے ہوں
مسئلہ (۱۸۳)قرن المنازل : یہ اہل طایف کا میقات ہے اور جو لوگ اس راستے سے حج کے لئے جاتے ہیں ان کا میقات ہے ۔
مسئلہ(۱۸۴)مکہ معظمہ: حج تمتع کا میقات ہے ( عمرہ تمتع کا نہیں ہے ) اور اسی طرح اہل مکہ کے لئے حج قران اور حج افراد کے لئے میقات ہے ۔
مسئلہ (۱۸۵)منزل حاج : (یعنی خود حج کرنے والے کا گھر )یعنی جن کے گھر سے میقات دور اور مکہ معظمہ نزدیک ہو اور ایکس شخص اپنے گھر سے احرام باندھ سکتا ہے اور اس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ احرام باندھنے کے لئے کسی ایک میقات پر جائے ، اگر چہ مستحب ہے کہ اپنے گھر سے احرام باندھے اور میقات پر جا کر تجدید کرے ، اور اگر اس کا دو گھر ہے کہ ایک میقات سے پہلے ہے اور دوسرا میقات سے پہلے ہے اور دوسرا میقات کے بعد ہے تو احتیاط یہ کہ میقات سے احرام باندھے ،
مسئلہ(۱۸۶) جعرانہ: یہ ان لوگوں کا میقات ہے جو مکہ معظمہ میں دوسال سے زیادہ سے رہتے ہوں ،
مسئلہ(۱۸۷)محاذات: پہلے جو پانچ میقات بیان ہوئے ہیں ان میں سے ایک ہے ان لوگوں کے لئے جو کسی بھی میقات سے نہ گذرے ہوں ۔
مسئلہ(۱۸۸) ادنیٰ الحل : یعنی حرم سے سب سے نزدیک جگہ ،اور یہ عمرہ مفردہ کے لئے ہے اس شخص کے لئے جو مکہ معظمہ میں ہو اور چاہتا ہے کہ عمرہ مفردہ بجالائے ، مگر بہتر یہ ہے کہ حدیبییہ یا تنعیم یا جعفرانہ سے احرام باندھے ۔
مسئلہ(۱۸۹)فخ: ان بچوں کا میقات ہے جو مدینہ منورہ سے آئے ہوں اور مسجد شجرہ میں احرام نہ باندھا ہو لیکن اگر دوسرے راستے سے آئیں تو جو میقات اس راستے میں ہو وہاں سے احرام پہن کر آئیں ۔
مسئلہ(۱۹۰) میقات سے پہلے احرام باندھنا جائز نہیں ہے اور اسی طرح حالت احرام میں میقات سے گذرنا بھی کا
فی نہیں ہے بلکہ خود میقات سے احرام باندھنا چاہیے اور اسن دو حکم سے دو چیزیں مستثنیٰ ہوتی ہیں ،
۱۔اگر کوئی نذر کرے کہ میقات پہنچنے سے پہلے ایک معین جگہ پر احرام باندھوں گا تو اس صورت میں میقات سے پہلے احرام پہننا صحیح ہے اور میقات پہونچ کر یا میقات سے گذرتے وقت تجدید کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اس حکم میں کوئی فرق نہیں ہے کہ چاہے احرام حج واجب کے لئے ہو یا حج مستحب کے لئے ہو یا عمرہ منفردہ کے لئے ہو ۔
۲۔اگر کسی کا ارادہ ہو کہ عمرہ مفردہ کو رجب کے مہینے میں انجام دے گا لیکن اسے خوف ہے کہ اگر میقات سے احرام باندھت گا تو عمرہ انجام نہیں دے پائے گا تو ایسے شخص کے لئے جائز ہے کہ میقات سے پہلے ہی محرم ہوجائے (یعنی احرام باندھ لے)
مسئلہ (۱۹۱) بوسیلہ نذر جدہ سے احرام باندھ سکتا ہے اور اگر کسی نے نذر کیا ہو کہ میقات سے پہلے احرام باندھے گا لیکن اپنے نذر کی مخالفت کرکے میقات سے احرام باندھ لیا تو اس کا احرام باطل نہیں ہے لیکن نذرکی مخالفت کونے کی وجہ سے اس کا کفارہ واجب ہے اگر اس نے عمداًنذر کی مخالفت کی ہے ۔
مسئلہ (۱۹۲) جس طرح سے کہ میقات سے پہلے احرام باندھنا جائز نہیں ہے اسی طرح میقات کے بعد تاخیر کرنا بھی جائز نہیں ہے لہذا اگر کوئی حج یا عمرہ یا مکہ معظمہ میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتا ہو تو اختیاری حالت میں بغیر احرام باندھے ہوئے میقات سے گذر نا جائز نہیں ہے چاہے دوسری میقات پر واپس آئے اور احرام باندھے ہوئے میقات سے گذرجائے تو واجب ہے کہ میقات پر واپس آئے اور احرام باندھے مگر یہ کہ کوئی اور میقات موجود ہو مثلاً مسجد شجرہ سے بغیر احرام باندھے گذر جائے لیکن میقات جحفہ باقی ہے کہ وہاں سے احرام باندھنا کافی ہے ۔
مسئلہ(۱۹۳) اگر کائی شخص جان بوجھ کر بغیر احرام باندھے میقات سے گذرجائے تو اگر واہس ہلٹنا ممکن ہو تو واجب ہے میقات تک واپس جائے لیکن اگر واپس جانا ممکن نہ ہو اور راستے میں کوئی دوسری میقات موجود ہو تو وہاں سے احرام باندھے اور اگر کوئی دوسری میقات نہ ہو تو اس کا احرام اور حج بناء بر قول اقویٰ باطل ہے اور اس کی قضا واجب ہے ۔
مسئلہ(۱۹۴) اگر کوئی شخص بھولنے یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے ( اس صورت میں مقصر نہ ہو بناء بر احتیاط ) میقات پر احرام نہ باندھا اور میقات سے گذرگیا ہو تو جب بھی عذر برطرف ہوجائے تو واجب ہے کہ میقات پر واپس جائے اور احرام باندھے اور اگر میقات تک واپس جانا ممکن نہ ہو تو جہاں سے میقات نزدیک ہو اسی جگہ سے احرام باندھ لے مثلاً اگر حرم میں داخل ہوگیاہے تو اس صورت میں جس قدر واپس جاکر احرام باندھ لے مثلاً اگر حرم میں داخل ہوگیا ہے تو اس صورت میں جس قدر بھی حرم سے دور جاسکتا ہو اس قدر واپس جاکر احرام باندھے اور اگر حرم سے باہر نکلنا ممکن نہ ہو تو جہاں پر بھی ہو وہیں سے احرام باندھ لے چاہے مکہ معظمہ میں داخل ہو یا داخل نہ ہواہو۔
مسئلہ(۱۹۵) اگر حائض عورت مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے میقات سے بغیر احرام کے گذر گئی تو اسے گذشتہ مسئلہ (۱۹۴)کے مطابق عمل کرنا چاہیئے۔
مسئلہ (۱۹۶) اگر کلی طور پر احرام کو بھول گیا اور یہاں تک عمرہ کے تمام انجام بھی دیدیا تو اس کا عمرہ صحیح ہے اور اسی طرح اگر مسئلہ سے بے تاخیر تھا یا یہ کہ احرام کو ایسی جگہ پر میقات سمجھ کر باندھا کہ اصلاً جو میقات نہ تو اگر مقصر نہیں ہے تو احتیاطاً (یہی حکم ہے)
مسئلہ(۱۹۷) اگر کسی کا وطن مکہ معظمہ سے سولہ فرسخ سے زیادہ دور ہے اور وہ حج یا عمرہ بجالانا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ کسی بھی ایک میقات سے احرام باندھ لے ، اور اگر اس کے راستے میں کوئی میقات نہ پڑے تو اسے چاہیے کہ کسی بھی میقات کے محاذ ات سے احرام باندھے۔
مسئلہ(۱۹۸) وہ شخص جو مکہ معظمہ میں رہتا ہے اور حج تمتع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو واجب ہے کہ میقات جائے اور عمرہ تمتع کے لئے احرام باندھے اور اگر میقات تک جانا ممکن نہ ہو تو اس کا حکم اس کے حکم کی طرح ہے جس نے احرام کو فراموش کردیا ہے اور مسئلہ نمبر۱۹۵میں اس کا حکم ہوچکاہے ۔

احرام حج تمتع

مسئلہ (۱۹۹) جو شخص حج تمتع بجالانے کا ارادہ رکھتا ہے اور عمرہ تمتع بجالاچکا ہے تو اسے چاہیے کہ مکہ معظمہ سے احرام باندھے اور عرفات جائے اور اگر جان بوجھ کے عمداً مکہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ سے احرام باندھا تو اس کا احرام صحیح نہیں ہوگا چاہے وہ احرام پہن کر مکہ میں داخل ہو بلکہ اگر ممکن ہو تو واجب ہے کہ مکہ میں احرام کی تجدید کرے ورنہ اگر ایسا نہ کیا تو اس کا حج باطل ہےَ
مسئلہ( ۲۰۰)اگر کوئی احرام حج کو بھول گیا اور حج کے آخری اعمال کی بجا آوری تک اسے یاد نہ آیا تو اس کا حج صحیح ہے اور یہی حکم اس شخص کے لئے بھی ہے جو مسئلہ نہ جانتا ہو ۔
مسئلہ(۲۰۱ ) اگر کوئی شخص حج تمتع کرنا چاہتا ہے اور اگر احرام باندھنا بھول گیا اور بغیر احرام باندھے عرفات گیا تو اگر ممکن ہو تو اسے چاہیے کہ مکہ واپس آئے اور احرام باندھے اور اگر واپس پلٹنا ممکن نہ ہو تو جہاں پر ہے چاہے عرفات ہی میں کیوں نہ ہو وہیں سے احرام باندھ لے اوراگر انسان اس مسئلہ سے جاہل ہے جب بھی یہی حکم جاری ہوگا ۔

واجبات احرام

مسئلہ (۲۰۲) احرام باندھنے کے وقت تین چیزیں واجب ہیں ۔
۱۔احرام کے لباس کا پہننا ۔
۲۔نیت کرنا
۳۔تلبیہ پڑھنا
۱۔احرام کا لباس ’’ پہننا‘‘
مسئلہ(۲۰۳) واجبات احرام میں پہلا عمل یہ ہے کہ احرام کے دو کپڑے (لنگ اور چادر ) پہنے یعنی وہ لباس جو محرم پر حرام ہے اسے اتار دے ( اور احرام پہنے)
مسئلہ(۲۰۴) ان دو کپڑوں کے پہننے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک کو لنگی کی طرح کمر سے اس طرح باندھے کہ ناف اور گھٹنوں کو چھپالے (اور اسے ازار کہتے ہیں ) اور دوسرے کپڑے کو تولیہ کی طرح کاندھے پر ڈالے تا کہ دونوں کا ندھے ڈھک جائیں ( اور اسے رداء کہتے ہیں )
مسئلہ (۲۰۵)احتیاط یہ ہے کہ لنگی اور چادر کو احرام کی نیت کرنے اور ’’لبیک ‘‘کہنے سے پہلے پلن لے اور اگر نیت اور تلبیہ سے پہلے پہن لیا ہے تو چاہیے کہ دوبارہ انجام دے ۔
مسئلہ(۲۰۶)احرام کے دونوں کپڑوں کا پہننا واجب تعبدی ہے اور احرام کے محقق ہونے کی شرط نہیں ہے اور ان دونوں کپڑوں کے پہننے کی کوئی خاص ترکیب بھی بیان نہیں ہوئی ، لیکن احتیاطاً اس طرح پہنے کہ عرف قبول کرے ۔
مسئلہ (۲۰۷) اگر کوئی بھول کر یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے اپنے پہنے ہوئے کپڑے کو نہ اتارے اور اسی پر احرام پہن لے تو جیسے ہی اسے یاد آئے اپنے پہلے والے لباس کو اتار دے اور اس کا احرام صحیح ہے اور اگر احرام پہننے کے بعد بھول کر یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے اس نے اپنا پہلے والا لباس پہن لیا تو جیسے ہی وہ متوجہ ہو اپنے عادی لباس کو اتار دے اور اس کا احرام صحیح ہوگا۔
مسئلہ(۲۰۸) احرام کی ابتداء میں یا اس کے بعد دو کپڑوں سے زیادہ لباس گرمی یا سردی سے بچنے کے لئے یا کسی اور وجہ سے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
مسئلہ(۲۰۹) جو شرطیں نمازی کے لباس کے لئے ہیں وہی احرام کے دونوں کپڑوں کے لئے بھی ہیں لہذا ضروری ہے کہ احرام کا کپڑا پاک اور مباح ہو لہذا ایسی نجاسے سے نجس شدہ کپڑے جو نماز میں معاف ہوتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور اگر نجس ہوجائے تو فوراً پاک کرے یا تبدیل کردے اور اگر پاک یا تبدیل نہ کیا تو گناہوں کا مرتکب ہوا ہے لیکن احرام صحیح ہے ۔
مسئلہ(۲۱۰)احرام کا لباس خلص ریشم کا نہ ہو یہاں تک کہ عورت کے احرام کا لباس بھی خالص ریشم کا نہ ہو اور حرام گوشت جانور کی کھال کا بھی نہ ہو اور مرد کا لباس بھی بناہوا نہ ہو اور اسی طرح لنگی اور چادر اتنا ہلکا نہ ہو کہ اس سے جسم نظر آئے ۔
مسئلہ (۲۱۱) واجب نہیں ہے کہ احرام کے کپڑے ہمیشہ پہنے رہے بلکہ ان کا تبدیل کرنا دھونے اور نہانے کے لئے یا کسی اور وجہ سے اتارنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

۲۔نیت

مسئلہ(۲۱۲)واجبات احرام میں دوسرا اعمال نیت ہے اور اس میں چند شرطیں ہیں اگر نہ ہو ں تو احرام صحیح نہ ہوگا۔
۱۔قصد قربت :یعنی نیت قربتاً الی اﷲ ہو نا چاہیئے یعنی پورے خلوص کے ساتھ صرف اطاعت پروردگار کی نیت سے احرام باندھے۔
۲۔نیت احرام باندھتے وقت کرنا چاہیئے۔
۳۔نیت میں یہ معین کرے کہ احرام عمرہ کے لیئے ہے یا حج کے لیئے ،اپنے لیئے باندھ رہا ہے یا کسی کی نیابت میں ۔
ٍٍ مسئلہ۲۱۳۔نیت کے صحیح ہونے میں صرف اقرار کافی ہے اور زبان سے دہرانا یا دل میں کہنا ضروری نہیں ہے اگر چہ مستحب ہے کہ نیت کو زبان پر لائے اور کہے ’’احرام باندھتا ہوں عمرہ تمتع کیلئے حجتہ السلام کے قربۃً الی اﷲ‘‘۔
مسئلہ ۲۱۴۔احرام باندھنے سے آخر احرام تک فقط ترک محرمات کا ارادہ رکھنا احرام کے صحیح ہونے کیلئے کافی ہے یعنی اگر احرام پہنتے وقت محرمات کو ترک کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اگر چہ آخر تک اپنے ارادہ پر باقی نہ رہے تب بھی اس کا احرام باطل نہیں ہوگا۔

تلبیہ(لبیک)

مسئلہ۲۱۵۔واجبات احرام میں تیسرا عمل لبیک کہنا ہے یعنی ان چند جملوں کا زبان سے ادا کرنا۔’’لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ‘‘ نیز احتیاط یہ ہے کہ ان جملوں کا اضافہ کرے ’’ان الحمد و النعمۃ لک الملک لا شریک لک ‘‘ اور بہتر ہے کہ کلمہ ’لبیک‘ کو اس کلمہ آخر میں اضافہ کرے۔لہذا مکمل تلبیہ اس طرح ہوگا:’’لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک،ان الحمد و النعمۃ لک الملک لا شریک لک لبیک‘‘۔ مسئلہ ۲۱۶۔لبیک کاصرف ایک با ر کہنا واجب ہے اور اس کے پڑھتے ہی احرام ثابت ہو جائے گا لیکن مستحب ہے کہ تلبیہ کی تکرار کرتا رہے۔نید سے بیدار ہو نے کے بعد ،ہر واجب نماز کے بعد ،کسی سواری کے نزدیک پہونچ کر،ٹیلے پر چڑھتے اوراترتے وقت،نیز مستحب ہے کہ سحر مے وقت بہت زیادہ تلبیہ کہے اگر چہ منجنب یا حائض بھی ہو۔
مسئلہ ۲۱۷۔مستحب ہے کہ عمرہ تمتع میں تلبیہ کو ترک نہ کرے یہاں تک کہ مکہ معظمہ کے گھر دیکھائی دینے لگیںاور حج تمتع میں عرفہ کے دن مستحب ہے کہ زوال تک تلبیہ کو ترک نہ کرے۔
مسئلہ۲۱۸۔اگر کوئی شخص بھول کر میقات(احرام باندھنے کی جگہ)میں تلبیہ نہ پڑھے ،اور میقات سے گزرنے کے بعد یاد آئے تو اگر میقات تک واپس جانا ممکن ہو تو واپس جائے اور اگر واپس جانا ممکن نہ ہو تو وہیں سے تلبیہ کئے اور اس کا احرام صحیح ہے اور اگر حرم کے حدود میں داخل ہو گیا ہو تو اگر حرم سے باہر آنا ممکن ہو حرم سے باہر آئے اور تلبیہ کئے۔
مسئلہ۲۱۹۔مکلف پر لازم ہے کہ تلبیہ کے الفاظ کو یاد کرے اور عربی کی صحیح قرائت سے ادا کرے(نماز کی قرائت کی طرح)چائے دوسرا شخص ہی کیوں نہ پڑھائے یعنی کوئی صحیح طور پر قرائت کر رہا ہو اور یہ شخص دہرا کر صحیح ادا کرے اور اگر اس نے صحیح قرائت کو نہ سیکھا اور کوئی پڑھنے والا بھی نہ ملے تو واجب ہے کہ جتنا ممکن ہو سکے ادا کرے اور مستحب یہ ہے کہ اس کے علاوہ ترجمہ بھی زبان سے کہتا رہے اور بہتر ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ نائب مقرر کرے۔
مسئلہ۲۲۰۔اگر کوئی شخص گونگا اور بہرہ ہو تو اسے چاہیے کہ انگلیوں سے تلبیہ کا اشارہ کرے اور اپنی زبان کو حرکت دے اور بہتر یہ ہے کہ اس کام کے علاوہ نائب بھی مقرر کرے تاکہ ان کلمات کو اس کی طرف سے صحیح ادا کرے۔
مسئلہ۲۲۱۔بے ہوش شخص کے لئے اور غیر ممیز بچے کی طرف سے نیابتاً کوئی تلبیہ پڑھے اگر چہ بے ہوش شخص اعمال سے پہلے ہوش میں آجائے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ وہ خود میقات تک واپس جائے اور وہاں سے احرام باندھے۔
مسئلہ ۲۲۳: اشعار کی تعریف یہ ہے کہ اونٹ کے کوہان کا پھاڑنا اور افضل احتیاط یہ ہے کہ کوہان کے داہنی حصے کو پھاڑ ا جائے اور بہتر یہ ہے کہ مُحرم قیام کی حالت میں اشعار کرے اور اونٹ کے بدن کو خون آلود کرے۔
مسئلہ۲۲۴ : تقلید قربانی ( بناء بر احتیاط ) یعنی وہ پرانی نعلین ( جوتا ) کہ جسے پہن کر نماز ادا کی ہے قربانی کے جانور کی گردن میں لٹکادے ۔
مسئلہ ۲۲۵ : ضروری نہیں ہے کہ تلبیہ اور احرام کی نیت کا وقت اور احرام کا لباس پہننا ایک ہی وقت میں ہو بلکہ احتیاط ہے اور نیت احرام اور لباس احرام کے بعد بھی نیت جائز ہے ۔
مسئلہ ۲۲۶ : احرام کے صحیح ہونے میں حدث اصغر اور حدث اکبر سے پاک ہونا شرط نہیں ہے لہذا بغیر وضو کئے ہوئے شخص کا احرام ، جنابت، اور عورت کا حیض و نفاس کی حالت میں رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
مسئلہ ۲۲۷ : تلبیہ (یا حج قرآن میں اشعار اور تقلید ) یعنی جس طرح سے نماز کے صحیح ہونے میں تکبیرۃ الاحرام کی شرط ہے اسی طرح تلبیہ احرام کے ثابت ہونے کے لئے شرط ہے اور احرام بغیر تلبیہ کے ثابت نہیں ہے لہذا جب بھی احرام کی نیت کی اور احرام کا لباس پہنا، لیکن ابھی تلبیہ نہیں کہا ( یا حج قرآن میں اشعار یا تقلید نہیں کیا )تو احرام ثابت نہیں ہو گا اور اگر محرمات احرام کو انجام دیا تو کفارہ واجب نہیں ہوگا ،
مسئلہ ۲۲۸: اگر کوئی چاہتا ہے کہ مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ جائے تو مستحب ہے کہ تلبیہ کو ٬٬ بیداء ،، تک ( یعنی وہ جگہ مسجد شجرہ سے تقریباً ۲! کیلو میٹر پر واقع ہے ) آہستہ آہستہ پڑھے اور اس کے بعد مستحب ہے کہ بلند آواز سے پڑھے اور اگر کوئی کسی دوسرے راستے سے مکہ معظمہ جائے تو مستحب ہے کہ راستے کے کچھ حصّے میں آہستہ تلبیہ پڑھے اور پھر کچھ حصّے میں بلند آواز سے پڑھے اور یہ بھی مستحب ہے کہ احرام اور احرام کا لباس پہنتے وقت آہستہ آہستہ تلبیہ پڑھے اور اگر کوئی چاہتا ہے کہ مکہ سے عرفات جائے تو مستحب ہے کہ تلبیہ کو ٬٬ رقطاء ،، تک ( مکہ کے ایک محلہ کا نام ) آہستہ پڑھے پھر اس کے بعد بلند آواز سے پڑھے ۔
مسئلہ ۲۲۹: عمرہ تمتع میں جس وقت مکہ معظمہ کے گھروں پر نگاہ پڑے تو ضروری ہے کہ تلبیہ پڑھنا ترک کر دے اور عمرہ مفردہ میں جب حرم کے باہر احرام باندھے اور جب حرم میں داخل ہو تو تلبیہ پڑھنا ترک کر دے اور اگر مکہ میں موجود تھا اور احرام کے لئے مکہ سے باہر گیا تو جیسے ہی کعبے پر نظر پڑے تلبیہ پڑھنا ترک کر دے اور تمام حجاج عرفہ کو ظہر کے وقت سے تلبیہ پڑھنا ترک کر دیں۔
مسئلہ ۲۳۰: اگر لباس احرام پہننے کے بعد اور میقات سے گذرنے سے پہلے شک کرے کہ تلبیہ کہا ہے یا نہیں ؟ ! تو نہ کہنے پر بناء رکھے ، اور تلبیہ پڑھے اور اگر تلبیہ پڑھنے کے بعد شک کرے کہ صحیح ادا کیا ہے یا نہیں ؟! اور صحت پر بناء رکھے تو اس کا احرام اور عمل دونوں صحیح ہے

محرمات احرام

مسئلہ ۲۳۱: احرام باندھنے کے بعد مُحرم پر پچیس۲۵ چیزیں حرام ہو جاتی ہیں:
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱صحرائی جانور کا شکار
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲ عورت کے ساتھ ہمبستری کرنا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۳ عورت کا بوسہ لینا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۴ عورت کو شہوت کے ساتھ چھونا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۵ عورت کو شہوت کی نگاہ سے دیکھنا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۶خود نکاح کرنا یا کسی کا نکاح پڑھنا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۷استمناء (یعنی منی باہر نکالنے کی خواہش کرنا)
[L:4 R:220][L:4 R:219]۸خوشبو کا استعمال کرنا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۹مردوں کے لئے سلا ہوا لباس پہننا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱۰موزہ اور بند جوتا پہننا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱۱ سرمہ لگانا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱۲ زینت و آرائش کے لئے آئینہ دیکھنا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱۳جھوٹ بولنا اور گالی دینا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱۴ جدال (یعنی اللہ کا نام لیکر قسم کھا نا)
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱۵بدن کی جویں مارنا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱۶ زینت وآرائش کرنا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱۷بدن پر تیل وغیرہ کی مالش کرنا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱۸بدن سے بال وغیرہ اکھاڑنا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱۹ مرد کے لئے کسی چیز سے سر ڈھاپنا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲۰عورتوں کے لئے چہرہ ڈھاپنا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲۱مردوں کے لئے زیر سایہ چلنا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲۲بدن سے خون نکالنا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲۳ ناخن کاٹنا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲۴کافور لگانا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲۵اسلحہ ساتھ رکھنا
ان چیزوں کی تفصیل اگے بیان ہوگی:

۱۔ صحرائی جانور کا شکار

مسئلہ ۲۳۲: محرم پر صحرائی جانور کا شکار کرنا حرام ہے چاہے حرم کے اندر ہو یا حرم کے باہر ہو البتہ حرم کے اندر مطلقاً شکار حرام ہے چاہے محرم ہو چاہے غیر محرم ہو اور اسی طرح شکاری کی مدد کرنا بھی حرام ہے چاہے اشارے سے ہی کیوں نہ ہو اور کوئی فرق نہیں ہے کہ شکاری مُحرم ہو یا غیر محرم ہو ۔
مسئلہ ۲۳۳: مُحرم کے لئے شکار کا گوشت کھانا حرام ہے چاہے خود اس نے شکار کیا ہے اور ذبح کیا ہے یا کسی مُخِلّ نے شکار کیا اور ذبح کیا ہے چاہے یہ حرم کے اندر ذبح ہوا ہو یا حرم کے باہر ذبح ہوا ہو
مسئلہ ۲۳۴:ٹڈی صحرائی جانور کے حکم میں ہے اور محرم کا اس کو پکڑنا اور شکار کرنا اور اس کا کھانا حرام ہے
مسئلہ ۲۳۵:صحرائی جانور کا چوزہ ( بچہ ) اور انڈا خود صحرائی جانور کے حکم میں ہے لہذا چوزے کا شکار کرنا یا شکاری کی مدد کرنا یا شکاری کو شکار کی نشان دہی کرنا اور اس کا گوشت کھانا یہ تمام چیزیں مُحرم پر حرام ہیں اور اسی طرح انڈے کا اٹھانا اور اس کو کھانا یا کسی کو انڈا اٹھانے کی ترغیب دینا یا مدد کرنا بھی حرام ہے
مسئلہ ۲۳۶: شکار کے احکام صحرائی جانور سے مخصوص ہیں اور دریائی جانور اور گھریلو جانور ( مثلاً بکری ، اونٹ ، وغیرہ ) اس احکام سے خارج ہیں
مسئلہ ۲۳۷: مُحرم کے لئے درندوں کا مارنا جائز نہیں ہے مگر اس وقت جب انسان پر حملہ کریں یا یہ کہ اس سے خوف رکھتا ہو اور اسی طرح افغی ( یعنی زہریلا سانپ ) اور کالا اور ڈسنے والا سانپ ، بچھو ، شہد کی مکھی ، چوہا ، کوّا ، گدھ اور شکاری باز کا مارنا جائز ہے اور ان کے مارنے پر کوئی کفارہ نہیں ہے

شکار کرنے کا کفارہ

مسئلہ ۲۳۸:اگر مُحرم شتر مرغ کا شکار کرے تو ایک اونٹ کفارہ دے گا اور وحشی گائے کا شکار کرے تو ایک پالتو گائے دے گا اور اگر وحشی گدھے کو مارا تو ایک اونٹ یا ایک پالتو گائے دے گا اور اگر ہرن ، خرگوش یا لومڑی کا شکار کیا تو ایک بکری بطور کفارہ دے گا ۔
مسئلہ ۲۳۹: اگر مُحرم نے ایسی چیز کا شکار کیا جس کا کفارہ ایک اونٹ ہے اور وہ اونٹ خریدنے سے عاجز ہو گیا تو اس کی قیمت کے برابر گیہوں خریدیاور فقیروں میں تقسیم کرے اور اگر اس نے ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلایا تو یہ بھی کافی ہے اور ہر فقیر کو ۷۵۰گرام ( تین پاؤ ) گیہوں دے اور کھانے کا خرچ اونٹ کی قیمتے سے کم ہو اور اس کے بجالانے سے بھی عاجز ہو تو اسے چاہئے کہ ۱۸ ! دن روزہ رکھے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ مسلسل اٹھارہ دن روزہ رکھے ۔
مسئلہ ۲۴۰:اگر کفارے میں گائے دینا ہو اور گائے حاصل کرنے سے عاجز ہو تو اس کی قیمت کے برابر گیہوں خریدے اور اسے فقیروں میں تقسیم کرے یا تیس فقیروں کو کھانا کھلائے اور اگر اس سے بھی عاجز ہو تو نو دن روزہ رکھے۔
مسئلہ ۲۴۱:اگر کفارہ بکری ہو لیکن بکری حاصل کرنے سے عاجز ہو تو دس فقیروں کو کھانا کھلائے اور اگر اس سے بھی عاجز ہو تو تین دن روزہ رکھے۔
مسئلہ ۲۴۲: اگر مُحرم نے حرم کے باہر کبوتر یا اس کے مثل پرندوں میں سے کسی چیز کا شکار کر لے اور اسے مار دے تو اس کا کفارہ ایک بکری ہے لیکن اگر کبوتر کا بچہ یا اس کی طرح کسی چیز کو ماردے تو ایک بھیڑیا بزغالہ (بکری کا بچہ ) یا نصف درہم صدقہ دے اگر چہ اس صورت میں احتیاط یہ ہے کہ بھیڑیا بکری کے بچے کی قیمت کو بعنوان صدقہ دے ۔
مسئلہ ۲۴۳: اگر کبوتر کا انڈا یا اس کے مثل کسی چیز کو توڑے اور اس کے اندر بچہ حرکت کر رہا تھا تو اس کا کفارہ ایک بکری ہے اور اگر اس میں بچہ حرکت نہیں کر رہا تھا تو اس کا کفارہ اس کی قیمت ہے
مسئلہ ۲۴۴: اگر محلّ نے حرم کے اندر کبوتر یا اس کے مثل کسی چیز کو مارے تو اسے اختیار ہے چاہے ایک درہم صدقہ دے یا اس حیوان کی قیمت کو بطور صدقہ دے اگر چہ احتیاط یہ ہے کہ دوسراوالا انجام دے اور اگر کبوتر کے بچے کو مارا تو کفارہ نصف درہم ہے اور اگر انڈا توڑا ہے تو ربع درہم کفارہ ادا کرے
مسئلہ ۲۴۵: اگر محرم حرم کے اندر کبوتر یا اس کے مثل کسی چیز کو مار دے تو اس کا کفارہ ایک بکری اور اس کی قیمت ہے اور اگر اس کے بچے کو مارا تو اس کا کفارہ ایک بھیڑ یا ایک بکری کا بچہ اور اس کی قیمت ہے اور اگر اس نے انڈے کو توڑڈالا تو اگر اس میں بچہ تھااور متحرک تھا تو اس کا کفارہ ایک بکری ہے اور اگر بچہ غیر متحرک تھا تو اس کی نصف قیمت صدقہ دیدے
مسئلہ ۲۴۶:مرغ سنگ خوار چکور تیتر اور اس کے مثل جو بھی ہیں ان کو مار دے تو کفارہ ایک بکر ی ہے اور گوریّا سرخاب اور ممولا ( ایک چھوٹا پرندہ جس کے سینے پر کالی لکیریں ہوتی ہیں )ان سب کا کفارہ اگر حرم کے باہر شکار کیا ہے تو محرم مخیر ہے چاہے اس کی قیمت کو بعنوان صدقہ دے یا ایک مٹھی گیہوں دے لیکن اگر حرم کے اندر شکار کیا ہے تو کفارہ دو برابر ہو گیا اور ان کے بچوں میں بھی یہی حکم جاری ہوگا اور اگر ان کے انڈے کو توڑا ہے تو انڈے کی قیمت کو بطور صدقہ دے گا
مسئلہ ۲۴۷: اگر کسی نے ایک ٹڈی کو مارا ہے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ چاہے ایک مٹھی گیہوں یا ایک خرمہ دے لیکن اگر بہت زیادہ ٹڈیوں کو مارا ہے توایک بکری بعنوان کفارہ دے گا
مسئلہ ۲۴۸: اگر صحرائی چوہے اور جنگلی چوہے ٬٬گوہ ،،کا شکار کیا تو ایک بکری کا بچہ کفارہ دے گا اور اگر چھپکلی ماری ہے تو ایک مٹھی کھانا کفارہ دے گا اور شہد کی مکھی کو عمداً مارنے کی صورت میں تھوڑا سا کھانا بطور کفارہ ادا کرے گا لیکن اگر اذیت دور کرنے کے لئے ایسا کیا ہے تو کفارہ واجب نہیں ہوگا
مسئلہ ۲۴۹:اگر راستے میں بہت زیادہ ٹڈیاں ہیں تو مُحرم کو چاہئے کہ دوسرے راستے سے جائے تاکہ ٹڈیوں کو موت کے گھاٹ نہ اتارے لیکن اگر دوسزرے راستے سے جانا ممکن نہ ہو اور نہ چاہتے ہوئے بھی ٹڈیاں پائمال ہو جائیں تو کوئی اشکال نہیں ہے
مسئلہ۲۵۰: اگر ایک جماعت نے مل کر شکار کیا ہے تو ہر ایک پر الگ الگ کفارہ ہوگا
مسئلہ ۲۵۱: شکار کی ہوئی چیزوں کے کھانے کا کفارہ خود شکار کا کفارہ ہے
مسئلہ ۲۵۲: اگر کسی کے ساتھ شکار ہو تو جب حرم میں داخل ہو تو اسے چاہئے کہ چھوڑ دے لیکن اگر اسے نہیں چھوڑا اور وہ حرم کے اندر مر گیا تو چاہئے کہ کفارہ ادا کرے بلکہ اس شخص پر بھی یہی حکم جاری ہوگا جس نے احرام پہننے سے پہلے شکار کیا ہے اور پھر بعد میں احرام پہنا ہے یعنی احرام پہننے کے بعد ضروری ہے کہ شکار کو چھوڑ دے اگرچہ حرم کے اندر ڈاخل نہ ہو ( احتیاط کی بنا پر)
مسئلہ ۲۵۳: شکار کرنے یا شکار کا گوشت کھانے کی صورت میں وجوب کفارہ میں کوئی فرق نہیں ہے چاہے عمداً ہو یا سہواً یا چاہے مسئلہ سے بے خبر ہونے کی وجہ سے ہو
مسئلہ ۲۵۴: جتنی مرتبہ شکار کرے گا اتنی ہی مرتبہ کفارہ بھی ادا کرنا ہو گا

۲۔ جماع ( ہمبستری )

مسئلہ ۲۵۵:محرمات احرام میں سے دوسری چیز عورتوں کے ساتھ ہمبستری کرنا ہے چاہے شرمگاہ میں دخول کرے چاہے نشیمگاہ سے دخول کرے چاہے عمرہ کا احرام پہنے ہو یا حج کا احرام پہنے ہو
مسئلہ ۲۵۶: جب مُحرم طواف نساء اور نماز طواف نساء سے فارغ ہو جاے تو عورت حلال ہو جائے گی اوراسی طرح عمرہ تمتع کے تمام اعمال بجالانے کے بعد عورت حلال ہو جائے گی
مسئلہ ۲۵۷: جس طرح سے عورت محرم مرد پر حرام ہے اسی طرح مرد بھی عورت پر جو کہ حالت احرام میں ہے حرام ہے
مسئلہ ۲۵۸: اگر عمرہ تمتع میں سعی کے بعد اور تقصیر سے پہلے جان بوجھ کر عورت سے ہمبستری کرے تو اس کا کفارہ ایک اونٹ ہے لیکن اگر اونٹ دینے سے عاجز ہو تو ایک گائے کفارہ دے گا لیکن اگر گائے دینے سے بھی عاجز ہو تو ایک بکری دے گا اس کا عمرہ صحیح ہے لیکن اگر یہ اعمال سعی سے پہلے انجام دیا ہو تو عمرہ باطل ہے اور کفارہ ادا کرے گا اور اگر ممکن ہو تو دوبارہ عمرہ کرے
مسئلہ ۲۵۹: اگر محرم نے حج کا احرام پہنا مزدلفہ ( مشعر) میں ٹھیرنے سے پہلے جان بوجھ کر عورت سے ہمبستری کیا اور تو اگر عورت بھی راضی تھی تو دونوں کا حج باطل ہے لیکن واجب ہے کہ حج کے تمام اعمال کو بجا لائے اور آئندہ سال دوبارہ حج کرے چاہے حج واجب ہو یا مستحب لیکن اگر عورت راضی نہیں تھی تو اس کا حج باطل نہیں ہے اور مرد پر دو کفارہ واجب ہو گا اور عورت پر کوئی کفارہ واجب نہ ہوگا اور واجب ہے کہ اس عورت و مرد میں اسی جگہ سے جہاں اس حج میں عمل انجام دیا ہے اور وہ حج کے جو آئندہ انجام دے گا دونوں میں جدائی ہو یہاں تک کہ دوبارہ اس مقام پر پہونچ جائے یعنی وقوف عرفات اور مشعر کے بعد
مسئلہ۲۶۰: اگر محرم مزدلفہ میں ٹھیرے کے بعد جان بوجھ کر اپنی بیوی سے ہمبستری کرے تو اگر یہ عمل طواف نساء سے پہلے انجام دیا ہے تو اس پر کفارہ واجب ہو گالیکن حج باطل نہیں ہو گا لیکن اگر یہ عمل طواف نساء کے ساڑھے تین شوط(چکر) پورا کرنے کے بعد ہو تو حج صحیح ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ کفارہ دے لیکن اگر اس نے بے عمل طواف نساء کے بعد اور نماز طواف نساء سے پہلے انجام دیا ہو تو کفارہ نہیں ہے اور حج بھی صحیح ہے
مسئلہ۲۶۱:اگر کوئی عمرہ مفردہ میں جان بوجھ کر سعی سے پہلے عورت سے ہمبستری کرے تو عمرہ باطل ہوگا اور اس کا کفارہ ایک اونٹ ہے اور اس پر واجب ہے کے اس عمرہ کو مکمل کرے اور عمرہ مفردہ بجالانے کے لئے دوبارہ احرام پہنے اور دوبارہ تمام اعمال عمرہ کو انجام دے لیکن اگر یہ عمل طواف نساء کے بعد اور نماز طواف نساء سے پہلے انجام دیا ہے تو اس کا عمرہ صحیح ہے اور کفارہ نہیں ہے لیکن اگر یہ عمل طواف نساء انجام دیتے وقت انجام دے تو اس کا حکم بھی گذشتہ مسئلے کی طرح ہے لیکن اگر یہ عمل سعی کے بعد اور تقصیر سے پہلے ہو تو عمرہ باطل نہیں ہوگا لیکن ایک اونٹ کفارہ ادا کرے گا اور یہی حکم عمرہ تمتع میں بھی جاری ہوگا
مسئلہ ۲۶۲: اگر کوئی اپنی مُحرم بیوی کے ساتھ اور وہ راضی بھی ہو ہمبستری کرے تو وہی احکام جو مرد پر عائد ہوئے تھے اس عورت پر بھی جاری ہوگا
مسئلہ ۲۶۳: اگر کوئی محرم مسئلہ نہ جاننے کی بناء پر یا بھولنے کی وجہ سے یا سہواً چاہے سہو اور نسیان کے حکم میں ہو یا احرام میں ہو اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کرے تو عمرہ اور حج دونوں صحیح ہے اور کوئی کفارہ نہیں ہے

۳۔بوسہ لینا

مسئلہ ۲۶۴: محرمات احرام میں تیسری چیز عورت کا بوسہ لینا ہے
مسئلہ۲۶۵: محرم کے لئے جائز نہیں ہے کہ جان بوجھ کر شہوت کے ساتھ اپنی بیوی کا بوسہ لے اور اگر اس نے بوسہ لیا اور منی خارج ہو گئی تو اس پر لازم ہے ایک اونٹ کفارہ دے اور اگر اس نے شہوت کے ساتھ بوسہ لیا اور منی خارج نہیں ہوئی تو قول اقویٰ کی بناء پر ایک اونٹ کفارہ دے گا اور اگر اس نے بغیر شہوت کے بوسہ لیا اور منی خارج ہو گئی تو اس کا کفارہ ایک بکری ہے اور اسی طرح سے اگر منی خارج نہ ہو تو بناء بر احتیاط اس کا کفارہ ایک بکری ہے

۴۔ چھونا ( مس کرنا )

مسئلہ ۲۶۶: محرمات احرام میں چوتھی چیز عورت کو چھونا ہے
مسئلہ ۲۶۷: محرم کے لئے یہ بات صحیح نہیں ہے کہ اپنے بدن کو عورت کے بدن سے شہوت کے ساتھ مس کرے اور اس عمل کے بعد منی خارج ہو جائے تو ایک اونٹ کفارہ دے

۵۔ نگاہ کرنا

مسئلہ ۲۶۸: محرمات احرام میں پانچویں چیز عورت کو دیکھنا اور اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرنا ہے
مسئلہ ۲۶۹: اگر محرم شہوت کے ساتھ اپنی بیوی سے خوش فعلی کرے یا اس کی طرف دیکھے یہاں تک کہ منی خارج ہو جائے تو اس کا کفارہ ایک اونٹ ہے
مسئلہ ۲۷۰: اگر عورت عمداً نا محرم کو دیکھے اور منی خارج ہو جائے چاہے شہوت کے ساتھ ہو یا بغیر شہوت کے ہو چاہے منی نکالنے کا قصد رکھتی ہو یا نہ رکھتی ہو اور اگر اقتصادی لحاظ سے مالدار ہو تو ایک کفارہ ایک اونٹ ہوگا اور اگر متوسط حالت رکھتی ہے تو ایک گائے کفارہ دے اور اگر فقیر ہو تو ایک بکری ہے لیکن اگر منی خارج نہیں ہوئی ہو تو اگرچہ اس نے گناہ کیا ہے اس پر کفارہ نہیں ہے
مسئلہ ۲۷۱: انسان اگر کسی ایسی عورت کو بغیر شہوت کے دیکھے جو اس کی محرم ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور کفارہ بھی نہیں ہے
مسئلہ ۲۷۲: عورت ان تمام احکامات میں مردوں کی طرح سے ہے اورعورت کویہ حق نہیں ہے کہ مردکو شہوت کے ساتھ دیکھے یا اس کو چھوئے یا اس کا بوسہ لے

۶۔ عقد کرنا

مسئلہ ۲۷۳:محرمات احرام میں سے چھٹی چیز عقد نکاح ہے چاہے خود اپنا نکاح کرے یا کسی دوسرے کا عقد دائمی ہو یا عقد موقت ( متعہ )ہو چاہے محرم ہو یا محرم نہ ہو
مسئلہ ۲۷۴: اگر ایک محرم دوسرے محرم کے لئے کسی عورت کو دوسرے عقد میں دے اور محرم شوہر اس عورت کے ساتھ دخول کرے اور عورت بھی حالت احرام میں ہو ( یعنی محرم ہو ) اور یہ تینوں افراد مسئلے سے با خبر ہوں تو ہر ایک پر ایک ایک اونٹ کفارہ واجب ہے اور عقد باطل ہے اور ہمیشہ کے لئے حرام ہو جائے گی علاوہ جماع کے ان بقیہ احکام میں جو پہلے ذکر ہو چکا ہے
مسئلہ ۲۷۵: اگر یہ عمل جہالت یا بھولنے یا غفلت اور اضطرار کی وجہ سے انجام پذیر ہوا ہے تو کفارہ نہیں ہے
مسئلہ ۲۷۶: اگر محرم اپنے لئے کسی عورت کے ساتھ عقد کرے جب کہ دونوں حالت احرام میں ہوں تو اس کا حکم گذشتہ مسئلہ کی طرح ہے ( یعنی جہالت وغیرہ کی وجہ سے ) اور اگر غیر محرم کے لئے عقد کرے اور شوہر و عورت محرم نہیں تھے تو عقد باطل ہے اور محرم کو چاہئے کہ ایک اونٹ کفارہ دے
مسئلہ ۲۷۷: محرم پر نکاح کے وقت حاضر ہونا یا اسی طرح عقد نکاح کی گواہی دینا حرام ہے اور اسی طرح حالت احرام میں خواستگاری کرنا حرام ہے لیکن اگر طلاق رجعی دی جانے والی عورت کی طرف رجوع کرے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔

۷۔استمناء

مسئلہ ۲۷۸: محرمات احرام سے ساتویں چیز استمناء ہے چاہے جس وسیلے سے بھی ہو ( یعنی اپنی منی باہر نکالنا)
مسئلہ ۲۷۹: اگر محرم اپنے آلہ تناسل کے ساتھ بازی کرے اور منی خارج ہو گئی تو اس کا حکم ایسا ہے گویا کسی نے اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کیا ہے اس بناء پر اگر استمناء حج کے احرام میں مزدلفہ میں ٹھہرنے سے پہلے ہو تو حج باطل ہو جائے گا اور ضروری ہے کہ حج کے اعمال کو آخر تک بجا لائے اور آئندہ سال دوبارہ حج بجالائے اور اسی طرح اگر عمرہ مفردہ میں سعی سے فارغ ہونے سے پہلے استمناء کرے تو عمرہ بھی باطل ہو جائے گا اور ضروری ہے کہ آخر اعمال تک بجالائے اور دوبارہ عمرہ مفردہ کے لئے احرام پہنے اور عمرہ دوبارہ کرے
مسئلہ ۲۸۰: اگر محرم اپنے آلہ تناسل کے علاوہ کسی چیز سے استمناء کرے مثلاً کسی اجنبی عورت کو دیکھا یا فاسد خیالات کی وجہ سے منی خارج ہو گئی تو اس کا کفارہ اگر مالدار ہے تو ایک اونٹ ، اور اگر متوسط حالت رکھتا ہے تو ایک گائے اور اگر فقیر ہے تو ایک بکری ہے لیکن حج اور عمرہ باطل نہیں ہوگا

۸۔ خوشبوکا استعمال

مسئلہ ۲۸۱:محرمات احرام میں آٹھویں چیز خوشبوکا استعمال کرنا ہے
مسئلہ ۲۸۲: ہر طرح کی خوشبو کا استعمال مثلاً زعفران ، عنبر ، ورس ، مشک چاہے کھانا یا سونگھنا چاہے بدن پر ملنا ، محرم پر حرام ہے اور اسی طرح ایسا لباس پہننا حرام ہے جس سے عطر کی خوشبو آتی ہو اور احتیاط یہ ہے کہ ہر طرح کی خوشبوسے پرہیز کرے یہاں تک کہ دارچینی ، ادرک ، چھوٹی الائچی ، کافور ، عود وغیرہ سے بھی
مسئلہ ۲۸۳: پھولوں کا کھانا ، اور خوشبودار پھلوں کا کھانا مثلاً بہ سیب اور خوشبو والی ادویات کا کھانا اور خوشبودار معجون وغیرہ کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور احوط یہ ہے کہ کھاتے وقت اس کے سونگھنے سے پرہیز کرے
مسئلہ ۲۸۴خوشبو کے استعمال کرنے کا کفارہ ( سونگھنا اور کھانا وغیرہ ) اگر زعفران یا مشک یا عنبر یا ورس ہو تو ایک بکری ہے اور بقیہ میں کفارہ نہیں ہے
مسئلہ ۲۸۵: محرم کے لئے حرام ہے کہ بدبو کی وجہ سے اپنی ناک بند کرے لیکن بدبو سے بچنے کے لئے تیز تیز چلنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اسی طرح دھوئیں وغیرہ کی وجہ سے ناک بند کرنے میں جب ضرر ہو تو کوئی حرج نہیں ہے

۹۔مردوں کے لئے سلا ہوا لباس پہننا

مسئلہ ۲۸۶ : محرمات احرام سے نویں چیز مردوں کے لئے سلا ہوا لباس پہننا ہے
مسئلہ ۲۸۷ : قمیص ، قبا ، پائجامہ ، اور بٹن دار کپڑا ، اور زرہ اور ہر وہ کپڑا جو آستین دار ہو اگر چہ سلا ہوا نہ ہو مثلاً نائلون کا کپڑا یا وہ کپڑا جو ایک ہی ساتھ بُنا ہوا ہو مثلاً جنہیں غد کے ساتھ دبا کر بالا پوش کی شکل اختیار کر لیتے ہیں مردوں پر حرام ہیں
مسئلہ ۲۸۸: تین چیزوں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ استثناء ہوا ہے اگر چہ سلا ہوا ہی کیوں نہ ہو ہمیان ( تھیلی ) جس میں رقم رکھی جاتی ہے اور فتق بند یعنی بیضتین ( ہائیڈورسیل ) کے بڑا ہو جانے کی صورت میں انھیں باندھنے کا کپڑا
مسئلہ ۲۸۹: جس طرح سے سلا ہوا لباس پہننا حرام ہے اسی طرح لنگی اور رداء وغیرہ میں گرہ لگانا بھی حرام ہے لیکن احرام کے لباس کو سوتی یا کسی چیز کے ساتھ ایک دوسرے سے ملا دے تو کوئی حرج نہیں ہے
مسئلہ۲۹۰: عورتوں کے لئے سلے ہوئے لباس پہننا چاہے جیسے بھی ہو کوئی حرج نہیں ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ عورتیں احرام کے وقت چادر اور رداء ( جس کا تذکرہ احرام میں گذر چکا ہے ) پہنیں اور کوئی فرق نہیں ہے کہ زیر لباس ہو یا لباس کے اوپر ہو
مسئلہ ۲۹۱: اگر مرد نے جان بوجھ کر سلا ہوا کپڑا پہن لیا تو اس کا کفارہ ایک بکری ہے

۱۰۔ چکمہ اور موزہ

مسئلہ۲۹۲: محرمات احرام سے دسویں چیز جوراب اور چکمہ کا پہننا ہے یعنی ہر ایسی چیز کا پاؤں میں پہننا جو پاؤں کے اوپر کے تمام حصے کو چھپا دے
مسئلہ ۲۹۳:محرم مرد پر چکمہ یا موزہ کا پہنا حرام ہے اور اگر مرد کے لئے نعلین یا اس کے جیسی کوئی چیز فراہم نہ ہو اور چکمہ اور موزہ پہننے کی ضرورت پیش آجائے تو احتیاط یہ ہے کہ اس کے اوپری حصے کو پھاڑ دے اور ایسی چپل وغیرہ پہننا جو اوپری حصے کو نہ چھپائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے
مسئلہ ۲۹۴: عورت کے موزہ یا اس جیسی چیزیں پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر چہ احتیاط یہ ہے کہ ایسی چیز نہ پہنے کہ پورے پیر کو چھپا دے
مسئلہ ۲۹۵: اگر محرم چکمہ ، موزہ یا اس جیسی چیز جان بوجھ کر پہن لے تو ایک بکری بطور کفارہ ادا کرے گا

۱۱۔ سرمہ لگانا

مسئلہ ۲۹۶:محرمات احرام سے گیارہویں چیز سرمہ لگانا ہے
مسئلہ ۲۹۷: سرمہ لگانے کی چار صورتیں ہیں
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱ ایسا سیاہ سرمہ آنکھ میں لگانا جس میں زینت ہو
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲ سرمہ سیاہ لگائے مگر زینت کا قصد نہ کرے بلکہ آنکھوں کی قوت اور روشنی کے لئے لگائے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۳وہ سرمہ جو سیاہ نہ ہو اور زینت کے لئے لگائے
یہ تینوں قسمیں حرام ہیں
[L:4 R:220][L:4 R:219]۴ وہ سرمہ جو سیاہ نہ ہو اور زینت کا بھی قصد نہ ہو تو اس کا لگانا حرام نہیں ہے مگر یہ کہ زینت میں شمار نہ ہو
مسئلہ ۲۹۷: سرمہ لگانے کا کفارہ نہیں ہے بلکہ استغفار کرے اگر چہ مستحب ہے ایک بکری ذبح کرے

۱۲۔ آئینہ دیکھنا

مسئلہ ۲۹۹: محرمات احرام سے بارہویں چیز محرم کا زینت کے ارادے سے آئینہ دیکھنا ہے
مسئلہ ۳۰۰: محرم کا زینت کے لئے آئینہ دیکھنا حرام ہے لین اگر زینت کا ارادہ نہ ہو ( مثلاً ڈرائیور جو شیشے کی طرف اس لئے دیکھتا ہے کہ پیچھے یا دائیں بائیں دیکھے ) تو کوئی حرج نہیں ہے
مسئلہ ۳۰۱: صاف پانی میں دیکھنا جس میں شکل دکھائی دے اسی طرح ہر وہ چیز جو ایسی ہے چاہے وہ بہنے والی ہو یا بہنے والی نہ ہو ، کوئی حرج نہیں ہے اور اسی طرح عینک لگانا اگر باعث زینت نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے
مسئلہ ۳۰۲: زینت کے لئے اگر آئینہ دیکھا ہے تو کوئی کفارہ نہیں ہے بلکہ اسے چاہئے کہ استغفار کرے اور مستحب ہے کہ جب آئینہ دیکھے تو دوبارہ تلبیہ پڑھے

۱۳۔ جھوٹ بولنا اور گالی دینا

مسئلہ ۳۰۳: محرمات احرام سے تیرہویں چیز جھوٹ اور گالی ہے
مسئلہ ۳۰۴: جھوٹ اور گالی دینا چاہے احرام کی حالت میں چاہے غیر حالت احرام کے ہو حرام ہے لیکن احرام کی حالت میں حرمت شدیدتر ہو جاتی ہے
مسئلہ ۳۰۵: محرم کے لئے دوسروں پر فخر و افتخار جتلانا حرام ہے یعنی اپنے فضائل و کمالات کا اظہار کرے اور دوسروں کے فضائل بیان نہ کرے یا دوسروں کی برائیوں کو بیان کرے اور اپنی برائیاں چھپا لے لیکن فخر و مباہات اگر حق و صحیح ہے اور اس میں دوسرے کی توہین نہیں ہو تو حرام نہیں ہے
مسئلہ ۳۰۶: اگر محرم نے جھوٹ بولا یا گالی دیا یا فخر و مباہات کیا تو اس کا احرام صحیح ہے اور اس کے اوپر استغفار کے علاوہ کوئی کفارہ واجب نہیں ہے

۱۴۔ جدال

مسئلہ ۳۰۷: محرمات احرام سے چودھویں چیز جدال کرنا ہے ( یعنی کسی مطلب کے اثبات یا رد میں قسم کھانا)
مسئلہ ۳۰۸:محرم پر کلمہ ٬٬ لا واللہ ،، اور بلی واللہ کے ذریعے جھگڑے کے وقت قسم کھانا چاہے جس زبان میں بھی ہو حرام ہے لیکن ضرورت کے وقت مثلاً کسی حق کو ثابت کرنے یا باطل کو باطل کرنے کے لئے ان دو کلموں کے ذریعے قسم کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اسی طرح اگر اس کا قصد و ارادہ تعظیم اور محبت کے اظہار کے لئے ہو تو کوئی حرج نہیں ہے مثلاً کہے کہ خدا کے واسطے اس کام کو انجام نہ دو
مسئلہ ۳۰۹: اگر جدال کرنے والا مقام قسم میں سچا ہو اور دو مرتبہ قسم کھائے تو اس نے گناہ کیا ہے لیکن اس کے اوپر کوئی کفارہ نہیں ہے بلکہ اس کے لئے استغفار ہی کرنا کافی ہے اوراگر اس نے تیسری مرتبہ یا اس سے زیادہ قسم کھائی تو اسے چاہئے کہ ایک بکری کفارہ دے اور اگر اس نے جدال کے وقت جھوٹی قسم کھائی ہے تو اس پر واجب ہے کہ پہلی ہی مرتبہ میں ایک بکری کفارہ میں دے اور اگر اس نے دو مرتبہ جھوٹی قسم کھائی تو ایک گائے کفارہ میں دے گا اور اگر تین مرتبہ جھوٹی قسم کھائی تو ایک اونٹ بطور کفارہ اد اکرے گا

۱۵۔بدن کے جانوروں کا مارنا

مسئلہ ۳۱۰: محرمات احرام سے پندرہویں چیز بدن کے جانوروں کا مارنا ہے
مسئلہ ۳۱۱: محرم کے لئے جوں کھٹمل اور مچھر کا مارنا اور اپنے بدن سے ہٹا دینا حرام ہے لیکن اگر اس نے ایسا کیا تو اس پر واجب ہے کہ فقیر کو ایک مٹھی گیہوں بطور کفارہ دے لیکن اگر اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر اس وقت کہ وہاں سے اس کے گرنے کا خطرہ نہ ہو

۱۶۔ عورت کا زینت کرنا اور مہندی لگانا

مسئلہ ۳۱۲: محرمات احرام میں سے سولھویں چیز زینت کرنا ہے
مسئلہ ۳۱۳: عورت کا زینت کے لئے زیور پہننا حرام ہے البتہ حرام سے قبل جن زیورات کا پہننا عادت میں شامل ہے بوقت احرام ان کو اتاردینا ضروری نہیں ہے اور اس کا ظاہر کرنا صحیح نہیں ہے اور اسی طرح حالت احرام میں مہندی لگانا بھی حرام ہے ( بناء بر احتیاط )
مسئلہ ۳۱۴: محرم کے لئے گھڑی لگانا یا چشمہ لگانا اگر زینت کے لئے نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے
مسئلہ ۳۱۵: ہاتھ میں انگوٹھی پہننا چاہے مرد ہو یا عورت اگر زینت کے لئے ہے تو حرام ہے لیکن مستحب کے قصد سے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے
مسئلہ ۳۱۶: زینت کے کرنے کی صورت میں بناء بر احتیاط ایک بکری ہے اور انگوٹھی پہننے کا کوئی کفارہ نہیں ہے

۱۷۔بدن پر تیل ملنا

مسئلہ ۳۱۷: محرمات احرام سے سترہویں چیز بدن پر تیل ملنا ہے
مسئلہ ۳۱۸: محرم کے لئے اپنے بدن پر تیل کی مالش کرنا صحیح نہیں ہے اگر چہ اس میں خوشبو نہ ہو لیکن اضطراری حالت میں جس تیل میں خوشبو نہ ہو حتی المقدور اسی کو استعمال کرے
مسئلہ ۳۱۹: اگر محرم نے جان بوجھ کر اور بغیر اضطرار کے کے تیل کی مالش کی تو بربناء بر احتیاط مستحب ہے کہ ایک بکری بطور کفارہ دے

۱۸۔ اپنے یا کسی دوسرے کے بدن سے بال ہٹانا

مسئلہ ۳۲۰: محرمات احرام سے اٹھارویں چیز بدن سے بال ہٹانا ہے
مسئلہ ۳۲۱: محرم کا اپنے بدن سے بال ہٹانا ( جان بوجھ کر ) حرام ہے چاہے جو بھی صورت ہو مگر صرف چارجگہ استثناء ہیں
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱جوئیں زیادہ ہو گئیں ہو ں
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲ بال اتارنا اگر کسی مجبوری کی وجہ سے ہو مثلاً بال بہت بڑا ہو یا بہت زیادہ ہو جو دردسر کا سبب بنے یا کسی اور ناراحتی کا سبب بنے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۳ اگر غسل یا وضو کرتے وقت بغیر قصد و ارادہ کے کوئی بال اکھڑ جائے تو کوئی حرج نہیں ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۴ آنکھ میں بال ہو جو محرم کو تکلیف دیتا ہو
مسئلہ ۳۲۲: اگر محرم ضرورت کے تحت اپنے سر کو منڈائے تو اس کا کفارہ ایک بکری ہے یا یہ کہ تین دن روزہ رکھے یا چھ مسکین کو کھانا کھلائے اور ہر مسکین کو دو مد طعام دے ( یعنی دیڑھ کیلو ) لیکن اگر سر منڈانا مجبوری کی وجہ سے نہ ہو تو بناء بر اقویٰ ان تینوں میں سے کوئی ایک ادا کرے لیکن احتیاط یہ ہے کہ ایک بکری ادا کرے لیکن اگر وہ جان بوجھ کر سر کے علاوہ دوسرے بالوں کو صاف کرے تو چاہے حالت احرام کے علاوہ اس کا مونڈنا جائز ہو ( مثلاً بغل کا بال ) یا حرام ہو ( جیسے چہرے کا بال ) بناء بر احتیاط کفارہ ایک بکری ہے لیکن اگر مسئلے سے نا واقف تھا تو فقط استغفار کرے

۱۹۔ مردوں کا کسی بھی چیز سے سر کا چھپانا

مسئلہ ۳۲۳: محرمات احرام سے انیسویں چیز مردوں کا سر ڈھاپنا
مسئلہ ۳۲۴: محرم مرد پر حرام ہے کہ اپنا سر ڈھاکے چاہے جس چیز سے بھی ہو یہاں تک اگر وہ اپنے سر پر کسی چیز کو اٹھائے (تو بناء بر احتیاط ) اور اسی طرح سے کانوں کا چھپانا بھی جائز نہیں ہے اور محرم کے لئے بھی جائز نہیں کہ وہ اپنے سر کو پانی میں ڈبوئے
مسئلہ۳۲۵:محرم اپنے ہاتھوں سے سر کو چھپا سکتا ہے اگر چہ احتیاط یہ ہے کہ نہ چھپائے البتہ وضو کرتے وقت سر کا مسح کر نے کو چھپانا نہیں کہتے اور اسی طرح سوتے وقت سر کا کچھ حصہ زمین پر لگے تو کوئی حرج نہیں ہے اور زیر دوش ( کندھا ) جانا یا سر پر پانی ڈالنا جائز ہے
مسئلہ ۳۲۶: اگر محرم بھول کر اپنے سر کو چھپالے تو اسے چاہئے کہ فوراً سر کھول دے اور اس پر کوئی چیز ( کفارہ وغیرہ ) عائد نہیں ہوگی
مسئلہ ۳۲۷: اگر مرد محرم اپنے سر کو چھپالے چاہے جان بوجھ کر چاہے مجبوری کی وجہ سے کفارہ ایک بکری ہے

۲۰۔ عورت کا اپنے چہرے کو نقاب یا برقع سے چھپانا

مسئلہ ۳۲۸: محرمات احرام سے بیسویں چیز عورت کا اپنے چہرے کا چھپانا ہے
مسئلہ ۳۲۹: محرمہ عورت پر حرام ہے کہ اپنے پورے چہرے کو چھپائے چاہے نقاب سے یا کسی اور چیز سے لیکن سوتے وقت چہرے کا تھوڑا سا چھپانا یا نماز کی حالت میں جتنی مقدار میں چہرے کو چھپانا چاہیئے اگر عورت چھپا لے تو کوئی حرج نہیں ہے
مسئلہ ۳۳۰: اگر عورت نا محرم سے بچنے کے لئے اپنے چہرے کو چھپا لے یا کپڑے کو ناک بلکہ ٹھڈی کہ جو چہرے سے الگ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے
مسئلہ ۳۳۱: عورت اگر اپنے چہرے کو چھپا لے تو ایک بکری بطور کفارہ ادا کرے

۲۱۔ مرد کا اپنے سر پر سایہ کرنا

مسئلہ ۳۳۲: محرمات احرام سے اکیسویں چیز مرد کا زیر سایہ چلنا ہے
مسئلہ ۳۳۳: محرم شخص پر حرام ہے کہ وہ سیر سفر کرتے وقت زیر سایہ چلے یا کسی چیز سے سایہ کرے چاہے وہ سایہ گاڑی یا ہوائی جہاز کی چھت ہی کیوں نہ ہو یا اسی طرح اور کوئی سایہ ہو پیدل سفر کرے یا سوار ہو رات کا وقت ہو یا دن کا وقت ہو بناء بر اظہر حرام ہے
مسئلہ ۳۳۴: کسی ایسی چیز کے سایہ میں چلنا جو سر پہ نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے مثلاً گاڑی یا بلڈنگ وغیرہ کے کنارے چلے اور داہنی یا بائیں طرف سے اس پر سایہ پڑے
مسئلہ ۳۳۵: محرم شخص اپنے ہاتھوں سے سورج کی گرمی کو روک سکتا ہے اور اسی طرح چھت کے نیچے ( مسجد شجرہ ) احرام باندھنے میں کوئی حرج نہیں ہے
مسئلہ ۳۳۶: اس جگہ جہاں محرم نے قیام کیا مثلاً سفر کے درمیان قہوہ خانہ ( ہوٹل ) میں یا منیٰ اور عرفات کے میدان میں اور اسی طرح کہ جب وہ مکہ معظمہ میں وارد ہو اگر چہ اس نے کوئی منزل تلاش و تہیہ نہیں کی ہے تو ان تمام صورتوں میں زیر سایہ چلنے یا رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے
مسئلہ ۳۳۷: جب محرم مکہ معظمہ میں داخل ہو تو وہ زیر سایہ چل سکتا ہے اور چھت والی گاڑیوں پر سوار ہو سکتا ہے چھتری اور اس کے مانند دوسری چیزوں سے استفادہ کر سکتا ہے اور یہی حکم ہے کہ اگر مسجد تنعیم سے عمرہ مفردہ کے لئے احرام باندھے کیونکہ یہ مکہ کا ایک حصہ شمار ہوتا ہے
مسئلہ ۳۳۸: ظاہراً محرم کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کرے کہ صرف سر پر سایہ نہ ہواور بقیہ بدن کے حصوں پر سائبان ہو مثلاً چھت والی گاڑی پر سوار ہو اور اپنے سر کو شیشے سے باہر کر دے
مسئلہ ۳۳۹: حالت احرام میں جائز ہے یعنی محرم پل ، سرنگ وغیرہ کے نیچے سے گذر سکتا ہے اور جس وقت محرم عرفات یا منیٰ میں قیام کرے تو جائز ہے سیر کرتے وقت زیر سایہ چلے جب وہ اپنے خیمے سے رمی جمرات ( شیطان کو کنکریاں مارنے ) کے لئے جائے تو وہ چھتری یا اس جیسی کسی چیز سے استفادہ کر سکتا ہے یا چھت والی گاڑی پر سفر کر سکتا ہے
مسئلہ ۳۴۰: عورتوں اور بچوں کے زیر سایہ چلنے میں اور اسی طرح مردوں کو ضرورت کے وقت زیر سایہ چلنے میں یا گرمی اور سردی کی وجہ سے زیر سایہ چلنے میں کوئی حرج نہیں ہے
مسئلہ ۳۴۱: زیر سایہ چلنے کا کفارہ چاہے اختیاری صورت میں ہو یا کسی عذر کی بناء پر ہو ایک بکری ہے اور کفارہ کو اپنے وطن میں بھی ادا کر سکتا ہے

۲۲۔ اپنے بدن سے خون نکالنا

مسئلہ ۳۴۲: محرمات احرام سے بائسویں چیز اپنے بدن سے خون نکالنا ہے
مسئلہ ۳۴۳: بناء بر احتیاط محرم کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بدن سے خون نکالے یا جسم وغیرہ کھجلانے کی بناء پر خون نکالے
مسئلہ ۳۴۴: اگر دانت اکھاڑنے کی وجہ سے خون جاری ہو جائے تو ایسا کرنا جائز نہیں ہے اور ضروری ہے کہ کفارہ ادا کرے لیکن اگر کسی عذر و مجبوری کی بناء پر ہو تو کوئی حرج نہیں ہے اور کفارہ بھی نہیں ہے
مسئلہ ۳۴۵: اگر محرم عمداً اپنے بدن سے خون نکالے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ ایک بکری بعنوان کفارہ دے اور ضرورت کے وقت کسی بھی طرح خون نکالنے یا عذر کو بر طرف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور نہ کوئی کفارہ ہے

۲۳۔ ناخن کاٹنا

مسئلہ ۳۴۶: محرمات احرام سے تئیسویں چیز ناخن کاٹنا ہے
مسئلہ ۳۴۷: محرم پر حرام ہے کہ وہ پورا ناخن یا ناخن کا بعض حصہ کاٹے لیکن اگر وہ اذیت کا سبب ہو ( مثلاً آدھا حصہ گر جائے اور دوسرا آدھا حصہ اذیت کا سبب ہو تو اس صورت میں کاٹنا جائز ہے اور کفارہ بھی نہیں ہے)
مسئلہ ۳۴۸: اگر محرم نے ایک ناخن کاٹا ہے تو اس کا کفارہ ایک مد کھانا ہے اور نو ناخن کاٹنے تک یہی حکم ہے لیکن اگر یہ تعداد دس تک پہونچ گئی یعنی ہاتھوں کے تمام ناخن کو اگر ایک نشست میں کاٹے تو ایک بکری بطور کفارہ ادا کرے اور اگر ایک ہی نشست میں ہاتھوں اور پیروں کے ناخن کاٹے کہ جس کی تعداد بیس ہو گی جب بھی ایک ہی بکری کفارہ کے طور پر دی جائے گی لیکن اگر اس نے دو نشست میں کاٹا ہے یعنی پہلی نشست میں ہاتھ کے ناخن کو کاٹا اور دوسری نشست میں پیر کا ناخن کاٹا تو ایسی صورت میں دو بکری کفارہ ہوگی اور یہ تمام صورتیں اس وقت ہونگی کہ جب محرم جان بوجھ کر ایسا کرے

۲۴۔کافور

مسئلہ ۳۴۹: محرمات احرام سے چوبیسویں چیز ، میت کو آب کافور سے غسل دینا ہے
مسئلہ ۳۵۰: محرم کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ شخص جو حالت احرام میں مرا ہو کافور سے حنوط کرے اور کافور کے بجائے ( آب قراح ) یعنی خالص پانی سے غسل دے یعنی دو غسل خالص پانی سے اور ایک غسل بیر کے پانی سے دے لیکن اگر اس نے کافور سے حنوط وغیرہ کیا تو مستحب ہے کہ ایک بکری بطور کفارہ ادا کرے

۲۵۔ اسلحہ اٹھانا

مسئلہ ۳۵۱: محرمات احرام سے پچیسویں چیز اسلحہ کا اٹھانا ہے
مسئلہ ۳۵۲: محرم کے لئے جنگی اسلحوں کا پہننا اختیاری حالت میں حرام ہے اور اسی طرح جائز نہیں ہے کہ خود کو مسلح ( اسلحہ رکھنا ) کرے یہاں تک کہ اگر ٹینک وغیرہ میں بیٹھنا ہو جب بھی جائز نہیں ہے لیکن اگر ضرورت ہو تو حتی الامکان اسلحہ کو ظاہر نہ کرے مگر یہ کہ اظہار کرنا ضروری ہو
مسئلہ ۳۵۳: اگر محرم نے حالت اختیاری اسلحہ اٹھا لیا تو بناء بر مستحب ایک بکری بطور کفارہ ادا کرے
حرم کے کسے پودے یا گھاس وغیرہ کا اکھاڑنا
مسئلہ ۳۵۴: حرم کے حدود میں سے کسی بھی چیز کا اکھاڑنا یا کاٹنا محرم اور غیر محرم دونوں پر حرام ہے مثلاً پیڑ حرم کی گھاس وغیرہ
مسئلہ ۳۵۵ : چند جگہیں اس حکم سے مستثنیٰ ہیں
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱ اذخر : ایک مشہور گھاس ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲ کھجور کا درخت یا میوہ دینے والا درخت
[L:4 R:220][L:4 R:219]۳ وہ گھاس جو اونٹ کھاتا ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۴ وہ گھاس اور درخت کہ جو اس کی ملکیت یا کسی کے گھر میں اگے یا خود وہ شخص اس کی کاشت کرے
مسئلہ ۳۵۶: جس طرح سے محرم پر حرم کی گھاس اور درخت کا اکھاڑنا حرام ہے اسی طرح حرم کے علاوہ کسی اور جگہ کی گھاس اور درخت کو اکھاڑنا اس وقت تک حرام ہے جب تک وہ حالت احرام میں ہے
مسئلہ ۳۵۷: اگر معمول کے مطابق معروف راستے پر چلے اور اس کے پیادہ چلنے سے راستے کی کچھ گھاس کٹ جائے ( دب جائے ) تو کوئی حرج نہیں ہے اور اسی طرح سے گھاس چرنے کے لئے اپنے جانور کو چھوڑ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے
مسئلہ ۳۵۸:اگر محرم نے عمداً حرم کی گھاس یا درخت کو اکھاڑدیا ہے تو اگر بڑا درخت اکھاڑا ہے تو کفارہ ایک گائے ہے اور اگر چھوٹا درخت ہے تو ایک بکری کفارہ ہے اور اگر پتے یا ڈالی وغیرہ توڑی ہے تو اس کی قیمت بطور صدقہ دے اور اگر گھاس کاٹی ہے تو استغفار کرے لیکن اگر مسئلہ سے جہالت کی وجہ سے بھول کر یا کسی اور طرح سے ہو تو کوئی کفارہ نہیں ہے

متفرق مسائل

مسئلہ ۳۵۹: حرم کے حدود کا اطلاق شہر مکہ کے اطراف پر ہوتا ہے اور ایک برید ہے اور ہر برید چار فرسخ ہے اور ہر فرسخ تقریباً ساڑھے پانچ کلو میٹر ہے لیکن شمال کی طرف سے مسجد تنعیم حرم کے حدود سے خارج ہے
مسئلہ ۳۶۰: وہ چیزیں جو محرم کفارہ کے طور پر ذبح کر رہا ہے تو اگر عمرہ کے احرام میں تھا تو مکہ معظمہ میں ذبح کرے اور اگر حج کے احرام میں تھا تو منیٰ میں ذبح کرے اور اسے وہ فقیر جو مومن ہو انھیں دے یا ان کے وکیل کو دے
مسئلہ ۳۶۱: اگر حاجی نے مکہ معظمہ یا منیٰ میں ذبح نہیں کیا یا وہاں پر فقیرمومن نہیں تھے تو خود اپنے شہر میں یا کسی اور جگہ کفارے کے جانور کو ذبح کرے اور فقیرمومن کو دے
مسئلہ ۳۶۲: اگر کفارہ ، بکری کا کفارہ ہے تو بکری کے بجائے بز ذبح کر سکتا ہے

۲۔ طواف

مسئلہ ۳۶۳: اعمال عمرہ تمتع میں سے دوسری چیز خانہ کعبہ کا طواف کرنا ہے طواف یعنی خانہ کعبہ کے گرد سات مرتبہ چکر لگانا
مسئلہ ۳۶۴:جس طرح سے عمرہ تمتع میں طواف واجب ہے اسی طرح حج تمتع ، عمرہ ، و حج قِران ، عمرہ و حج افراد اور عمرہ مفردہ میں بھی طواف واجب ہے
مسئلہ ۳۶۵: یہ طواف (یعنی چاہے عمرہ ہو یا حج ہو ) ارکان حج سے ہے اگر کسی نے عمداً ترک کر دیا تو اس کا عمرہ ، اور حج باطل ہے بر خلاف طواف النساء

طواف کے شرائط

مسئلہ ۳۶۶: طواف میں چند چیزیں واجب ہیں
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱ نیت
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲ حدث سے پاک ہونا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۳ بدن اور لباس کا پاک ہونا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۴ مرد کا ختنہ شدہ ہونا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۵ شرمگاہ کا پوشیدہ ہونا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۶ لباس اور سواری کا مباح ہونا
مسئلہ ۳۶۷: پہلی شرط نیت ہے یعنی طواف کا خلوص کے ساتھ خدا کے لئے بجا لانا اور اگر اس نے نیت نہیں کیا تو باطل ہے البتہ نیت کو زبان سے ادا کرنا ضروری نہیں ہے اگر چہ مستحب ہے لہذا اس طرح کہے کہ طواف خانہ کعبہ سات مرتبہ عمرہ تمتع کے لئے انجام دیتا ہوں قربۃ الی اللہ
مسئلہ ۳۶۸: دوسری شرط حدث اکبر اور حث اصغر سے پاک ہونا ہے ( یعنی با وضو ہو اور غسل اس کے ذمہ نہ ہو ) البتہ یہ شرط عمرہ اور حج کے طواف میں واجب ہے لیکن مستحبی طواف میں ( جو حج و عمرہ سے مربوط نہیں ہے ) پاک ( یعنی با وضو ہونا ) ہونا مستحب ہے اگر چہ نماز طواف میں لازم ہے ( البتہ مجنب اور حائض مستحب طواف بھی انجام نہیں دے سکتے کیونکہ مسجد الحرام میں ان دونوں کا داخل ہونا حرام ہے ) اس بناء پر یہ عمرہ اور حج کا طواف بغیر وضو یا غسل ( اگر غسل اس کے ذمہ ہو ) باطل ہے
مسئلہ ۳۶۹: اگر مستحاضہ عورت احکام استحاضہ کی رعایت کرے ( بالکل ایسے ہی جیسے نماز کے لئے بیان ہوا ہے ) تو اس کا طواف صحیح ہے
مسئلہ ۳۷۰: اگر طہارت حدث میں شک کرے ( یعنی نہیں جانتا کہ وضو یا غسل کیا ہے یا نہیں غسل اس کے ذمہ ہے یا نہیں ) تو اگر یہ شک اس وقت ہوا ہے کہ جب وہ طواف مکمل کر چکا ہے تو اس کا طواف صحیح ہے اور اگر طواف کے درمیان شک ہو جائے تو اگر طواف سے پہلے طہارت پر یقین تھا تو بناء طہارت پر رکھے گا ( یعنی پاک تھا ) اور طواف کو تمام کرے گا اور اس کا طواف صحیح ہے
لیکن اگر اسے یقین ہو کہ پہلے وہ محدث ( نجس ) تھا اور اسے یہ علم نہ ہو کہ طہارت کے ساتھ طواف شروع کیا تھا یا نہیں ، یا یہ کہ سابقہ حالت کا اسے علم نہیں ہے تو اس صورت میں حدث پر بناء رکھے گا لہذا اگر عمرہ کا طواف یا حج کا طواف ہے تو اسے چھوڑدے اور وضو یا غسل کرے ( یعنی پاک ہو جائے ) اور اگر مستحبی طواف ہے تو طواف کو تمام کر دے اور اس کا طواف صحیح ہے
مسئلہ ۳۷۱: اگر طواف کے بعد متوجہ ہو کہ پاک نہیں تھا یعنی وضو یا غسل نہیں کیا تھا تو اگر طواف واجب ہے تو اسے چاہیے کہ دوبارہ طواف کرے
مسئلہ ۳۷۳: اگر طواف کے دوران حدث صادر ہو جائے اور اس نے آدھے سے زیادہ طواف انجام دے چکا ہے ( یعنی ساڑھے تین چکر لگا چکا ہے ) تو اسے چاہیئے کہ طہارت کرے اور پھر بقیہ طواف کو انجام دے لیکن طواف کے موالات ختم ہو گئے ہیں ۔ لیکن اگر آدھے طواف سے کم کیا ہے تو اسے چاہیے کہ از سر نو طواف کرے
مسئلہ ۳۷۴: اگر محرم طواف کے درمیان متوجہ ہو کہ مجنب یا حائض ہے تو جو بھی طواف ہو چاہے واجب ہو یا مستحب فوراً ترک کر دے اور فوراً مسجد الحرام سے باہر نکل جائے
مسئلہ ۳۷۵: اگر عورت طواف واجب کرتے وقت حائض ہو جائے تو طواف کو ترک کر دے اور فوراً مسجد الحرام سے باہر نکل جائے اور پاک ہونے اور غسل کرنے کے بعد آئے اور اگر اس نے پہلے آدھے سے زیادہ طواف نہ کیا ہو تو ابتداء سے طواف کرے اور اگر پاک ہونے کی مدت تک وہ مکہ میں کسی عذر کی بناء پر نہ رک سکے اور اپنے طواف کو انجام دے یا تمام کرے تو اسے اپنے وظیفے کی بجا آوری کے لئے نائب معین کرنا ضروری ہے
مسئلہ ۳۷۶: جس کے اوپر غسل مس میت واجب ہے اسے چاہیے کہ غسل انجام دے اور بناء بر احتیاط پھر طواف کرے
مسئلہ ۳۷۷: تیسری شرط بدن اور لباس کا نجاست سے (خبث) سے پاک ہونا ہے مگر وہ نجاست جو نماز میں معاف کر دی گئیں ہیں مثلاً درہم سے کمتر خون ، پھوڑے اور زخموں کا خون وغیرہ اگر چہ احتیاطاً اسے پر ہیز کرنا چاہیے
مسئلہ ۳۷۸: اگر انسان جان بوجھ کر نجس بدن یا نجس لباس میں طواف کیا تو طواف باطل ہے اور اگر طواف شروع کرتے وقت اسے نجاست کا علم نہیں تھا اور طواف کے دوران متوجہ ہوا تو اگر لباس وغیرہ اتار سکتا ہے تو فوراً نجاست کو دور کر ے اور بقیہ طواف کو طہارت کے بعد انجام دے تو طواف صحیح ہے چاہے آدھے سے زیادہ ہو یا آدھے سے کم ہو ، ورنہ طواف باطل ہے
مسئلہ ۳۷۹: اگر کوئی شخص نجاست کو بھول جائے یا اس بات سے جاہل ہو کہ طواف کے لئے طہارت کی شرط ہے یا بھول اور غفلت کی وجہ سے نجس بدن یا لباس میں طواف کر لے تو اس کا طواف صحیح ہے
مسئلہ ۳۸۰: چوتھی شرط : ضروری ہے کہ مرد ختنہ شدہ ہو اور یہی حکم بالغ لڑکے کے لئے بھی ہے اور یہ شرط فقط مردوں سے مخصوص ہے اس بناء پر اگر کوئی مرد بغیر ختنہ کئے ہوئے طواف کرے تو طواف صحیح نہیں ہے
مسئلہ ۳۸۱: پانچویں شرط :مرد اور عورت کا شرمگاہ کا چھپانا ہے بالکل اسی طرح جس طرح نماز میں شرمگاہ کا چھپانا واجب ہے طواف میں بھی شرمگاہ کا چھپانا لازم ہے اور وہی شرائط جو نماز گذار کے لئے نماز میں شرط ہے وہی شرائط طواف میں بھی چھپانے کی شرط ہے
مسئلہ ۳۸۲: اگر طواف کرتے وقت احرام کا لباس گر جائے اور بہت ہی کم مدت بغیر احرام کے چلا ہو تو اسے چاہیے کہ واپس ہو جائے اور دوبارہ احرام پہنے اور اسی جگہ سے جہاں احرام گر گیا تھا اپنے طواف کو ادامہ دے
مسئلہ ۳۸۳: چھٹی شرط : لباس اور سواری کا مباح ہونا ہے لہذا اگر طواف کے وقت انسان کا لباس غصبی ہو یا وہ سواری کہ جس پر وہ سوار ہوا ہے غصبی ہو ( اگر سواری پر چڑھ کر طواف کرے ) تو اس کا طواف باطل ہے

واجبات طواف

مسئلہ ۳۸۴: طواف میں چند چیزیں واجب ہیں
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱ حجر اسود سے ابتداء کرے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲ حجر اسود پر ختم کرے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۳ خانہ کعبہ کا طواف کرنے والے کے بائیں طرف ہونا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۴ حجر اسماعیل ؑ کو طواف میں داخل کرے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۵ طواف کرنے والے کا خانہ کعبہ اور خانہ کعبہ کا حصہ شمار ہونے والی اشیاء سے باہر رہنا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۶ پورے سات چکر لگانا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۷ طواف کے ہر چکر (شوط ) کا یکے بعد دیگرے ہونا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۸ بناء بر احتیاط تنگی نہ ہونے کی صورت میں طواف کا خانہ کعبہ اور مقام ابراہیم ؑ کے درمیان ہونا
مسئلہ ۳۸۵: واجبات طواف میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ طواف کرتے وقت ہر چکر کو حجر اسود سے شروع کرے اور بناء بر احتیاط مستحب بدن کا پہلا جزء حجر اسود کے پہلے جزء کے مقابل ہو
مسئلہ ۳۸۶: واجبات طواف میں دوسری چیز یہ ہے کہ ہر چکر کو حجر اسود پر ختم کرے
مسئلہ ۳۸۷: واجبات طواف میں تیسری چیز طواف کے تمام حالات میں خانہ کعبہ ، طواف کرنے والے کے بائیں طرف ہو البتہ دقت عقلی یہ کہ بائیں شانے کا حصہ دیوار کعبہ کی طرف ہو یہ ضروری نہیں ہے اور فعلی مناروں کی رعایت کرنا لازم نہیں ہے اگر چہ احتیاطاً بہتر ہے
مسئلہ ۳۸۸: اگر خانہ کعبہ طواف کرنے والے کے بائیں طرف نہ ہو یعنی سامنے یا پیچھے یا داہنی طرف ہو تو طواف باطل ہے اور اگر یہ عمل مسئلہ کی جہالت کی وجہ سے ہو تو طواف کو دوبارہ انجام دے
مسئلہ ۳۸۹: اگر بھیڑ وغیرہ کی زیادتی کی وجہ سے اپنے راستے سے منحرف ہو جائے یعنی اس کا بایاں بازو کعبہ کی طرف نہ ہو اگر بہت کم مسافت میں ایسا ہے مثلاً ایک دو قدم ہے تو طواف صحیح ہے اور دوبارہ طواف کرنا لازم نہیں ہے
مسئلہ ۳۹۰: وہ لوگ جو ایک مخصوص طریقے سے طواف کرتے ہیں تو بائیں بازو کا دیوار کعبہ کے مقابل میں عرفاً ہونا لازمی ہے
مسئلہ ۳۹۱: بناء بر احوط طواف مستحکم اور استقامت بدن کے ساتھ انجام دینا چاہیے اگر جھک کر طواف کرے تو صحیح نہیں ہے مگر وہ لوگ جو بیمار ہیں یا بڑہاپے کی وجہ سے ان کی کمر جھک گئی ہے
مسئلہ ۳۹۲: واجبات طواف سے چوتھی چیز ، حجر اسماعیل کا طواف میں داخل کرنا ہے یعنی حجر اسماعیل کے دہانوں میں سے کسی ایک سے داخل ہو اور دوسرے دہانے سے نکل جائے ایسا نہیں کرتا ہے تو طواف کرنے والے کو چاہیے کہ حجر اسماعیل کے باہر چکر لگائے
مسئلہ ۳۹۳: واجبات طواف سے پانچویں چیز بدن کا خانہ کعبہ سے باہر ہونا یعنی خانہ کعبہ کے اطراف کا طواف کرے نہ کعبہ کے اندر طواف کرے ، لیکن اگر شاذ روان ( خانہ کعبہ کی دیواروں کے اطراف میں زمین کے ساتھ کچھ حصہ باہر نکلا ہے جسے شاذروان کہتے ہیں ) کے اوپر سے گذرے یا حجر اسماعیل کی دیوار کے اوپر طواف کرے تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن ترک کرنا بہتر ہے اس بناء پر خانہ کعبہ کی دیوار پر طواف کے وقت ہاتھ رکھنا یا حجر اسماعیل کی دیوار پر ہاتھ رکھنا جائز ہے اگر چہ احتیاط کے خلاف ہے
مسئلہ ۳۹۴: واجبات طواف سے چھٹی چیز طواف کرتے وقت پورے سات دور لگانا حجر اسود سے حجر اسود تک اور اس تعداد میں کمی و زیادتی کرنے سے طواف باطل ہو جائے گا بناء بر احتیاط
مسئلہ ۳۹۵: اگر کسی عذر کی وجہ سے مثلاً بیماری یا حدث وغیرہ صادر ہونے سے طواف کو چھوڑ دے تو اگر آدھے سے زیادہ طواف انجام دیا تھا تو جب عذر بر طرف ہو جائے تو بقیہ طواف کو انجام دے اور یہ کفایت کرے گا ۔ لیکن اگر آدھے سے زیادہ نہیں کیا تھا تو از سر نو طواف کرے
مسئلہ ۳۹۶: اگر نماز طواف میں متوجہ ہو ا کہ طواف ناقص تھا تو نماز کو چھوڑ دے اور طواف کو مکمل کرے چاہے آدھے سے زیادہ طواف کیا ہو یا نہ کیا ہو چاہے نماز کے شروع میں جہالت یا غفلت یا بھولنے کی وجہ سے ہو ۔ لیکن اگر نماز کے بعد متوجہ ہوا تو ضروری ہے کہ طواف کو مکمل کرے اور احتیاط یہ ہے کہ نماز کو دوبارہ پڑھے
مسئلہ ۳۹۷: اگر سعی میں مشغول ہو اور یاد آئے کہ طواف ناقص تھا تو ضروری ہے کہ سعی کو چھوڑ دے اور طواف کو مکمل کرے چاہے بقیہ طواف آدھے سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو اور احتیاطاً نماز طواف کو دوبارہ پڑھے اور پھر سعی کو مکمل کرے گر چہ آدھے سے کم سعی کو انجام دیا ہو البتہ مستحب ہے طواف اور سعی کو شروع سے انجام دے
مسئلہ ۳۹۸: اگر طواف کے درمیان واجب نماز کا وقت ہو گیا تو مستحب ہے کہ طواف کو چھوڑ دے اور واجب نماز کو ادا کرے اور پھر طواف کو تمام کرے اگر چہ آدھے طواف سے پہلے ہو
مسئلہ ۳۹۹: اگر طواف سے فارغ ہونے کے بعد سات چکر وں کے متعلق شک کرے یعنی سات چکروں کی تعداد کے بارے میں شک کرے مثلاً اگر ایک طرف عدد ٬٬ ۷ ،، میں شک کرے تو اس شک پر توجہ نہیں دیں گے ( مثلاً شک کرے ۷!۸!کے درمیان یا ۶ اور ۷ کے درمیان ) اور اس کا طواف صحیح ہے اور اگر دونوں طرف میں سے کسی طرف عدد ٬٬ ۷،، میں شک نہ ہو تو اسے چاہیے کہ دوبارہ طواف کرے ( مثلاً ۵ !اور ۶ کے درمیان شک ہو یا ۶ اور آٹھ کے درمیان شک ہو )
مسئلہ ۴۰۰: اگر طواف کرتے وقت شک کرے کہ سات سے زیادہ چکر لگایا ہے اور سات چکروں پر اسے یقین بھی ہو تو طواف کو چھوڑ دے گا اور اس کا طواف صحیح ہے
مسئلہ ۴۰۱: اگر طواف کے دور کی تعداد کے متعلق شک ہو تو طواف باطل ہے مگر اس جگہ پر جو پچھلے مسئلہ میں بیان ہوئی ہے اور یہ شک کے مسائل حج اور عمرہ کے طواف سے مخصوص ہے کہ جسے اصطلاح میں طواف فریضہ کے نام سے تعبیر کرتے ہیں
مسئلہ ۴۰۲: اگر طواف مستحب انجام دیتے وقت مثلاً ابتدائی طواف یا الوداعی طواف کے متعلق شک کرے کہ کم انجام دیا ہے تو کم پر بناء رکھے اور طواف کو مکمل کرے اور اس کا طواف صحیح ہوگا اور یہی حکم طواف نذری اور ابتدائی و استجاری طواف میں بھی جاری ہوگا
مسئلہ ۴۰۳: جب بھی طواف کے درمیان شک کرے کہ کم انجام دیا ہے یا زیادہ یا مکمل کر چکا ہے ( مثلاً شک کرے ۶! اور ۷ !اور ۸! کے درمیان ) تو ایسی صورت میں طواف از سر نو انجام دے گا اور اس طرح اگر کمی اور زیادتی کے بارے میں شک کرے ( مثلاً ۶! اور ۸) تو طواف کو دوبارہ انجام دے اور یہی حکم ہے جب اصل عدد کے بارے میں شک کرے یعنی نہیں جانتا کہ کتنا چکر لگایا ہے لہذا دوبارہ طواف کرے
مسئلہ ۴۰۴: ظن و گمان جب حد علم عادی تک نہ پہونچے تو شک کے حکم میں ہوگا
مسئلہ ۴۰۵: دور کے عدد کے بارے میں بیّنہ ( دو عادل گواہ ) اور ایک معتبر شخص ( یعنی مورد اطمینان شخص ) اگر چہ بچہ یا عورت یا فاسق ہو اس پر اعتماد کرے
مسئلہ ۴۰۶: اگر طواف کے دوران شک کرے اور طواف کو دوبارہ انجام دے اور دوسرے طواف کے درمیان پہلے طواف کی عدد معلوم ہو جائے تو اگر عدد مکمل تھی تو دوسرے والے طواف کو چھوڑ دے گا اور پہلے طواف میں کچھ کمی تھی تو اسی کم مقدار کو انجام دے گا اور یہی کافی ہے اور ضروری نہیں ہے کہ دوسرے والے طواف کو مکمل کرے
مسئلہ ۴۰۷: واجبات طواف سے ساتویں چیز طواف کا یکے بعد دیگرے انجام دینا ہے یعنی پے در پے انجام دے اور انسان خود شخصاً طواف کرے مگر یہ کہ کسی مجبوری کی وجہ سے قدرت نہ رکھتا ہو تو ایسی صورت میں اسے چاہیے کہ کسی کو نائب معین کرے
مسئلہ ۴۰۸: اگر عمداً طواف واجب سے کچھ مقدار چھوڑدے اور ایسے کاموں میں مصروف نہ ہو ا ہو جو موالات کے منافی ہو ( یعنی زیادہ فاصلہ نہ گذرا ہو ) تو واجب ہے کہ طواف کو مکمل کرے اور اگر موالات کے منافی کوئی کام انجام دیا تو ضروری ہے کہ طواف کو دوبارہ شروع سے انجام دے
مسئلہ ۴۰۹: آٹھویں بناء بر احتیاط اگر مشقت و پریشانی نہ ہو تو اس شخص ( طواف کرنے والے کا ) کا خانہ کعبہ کی دیوار سے فاصلہ اور دوری چاروں طرف سے ساڑھے چھبیس ذراع ہو یعنی طواف مقام ابراہیم ؑ اور خانہ خدا کے درمیان انجام دیا جائے البتہ جب حجر اسماعیل ؑ کے آخر میں پہونچے تو فاصلہ ساڑھے چھ ذراع ہو
مسئلہ ۴۱۰: اگر فاصلہ بہت زیادہ ہو یعنی ساڑھے چھبیس ذراع کی دوری سے طواف کیا تو مسقت کی صورت میں کوئی حرج نہیں ہے
مسئلہ ۴۱۱: بیمار شخص جو طواف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اگر وقت کے تمام ہونے سے پہلے اسے ٹھیک اور صحیح سالم ہونے کی امید ہے تو طواف کرنے میں اس وقت تاخیر کرے اور اگر امید نہ ہو یا ٹھیک نہ ہو تو چاہیے کہ اسے طواف کرائیں جس طریقے سے بھی ممکن ہو ، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو اس کے لئے کسی کو نائب معین کرے
مسئلہ ۴۱۲: اگر شک کرے کہ طواف کیا ہے یا نہیں ؟ تو اگر بعد والے عمل کو شروع نہیں کیا ہے تو ضروری ہے کہ طواف کو انجام دے لیکن اگر بعد والے عمل کو شروع کر چکا ہے تو بناء یہ رکھے کہ طواف انجام دے چکا ہے
مسئلہ ۴۱۳: اگر شک کرے کہ طواف کو تمام شرائط لازم کے ساتھ انجام دیا ہے یا نہیں تو اگر شک طواف کے بعد ہو تو صحت پر بناء رکھے گا لیکن اگر شک طواف کے درمیان ہو تو جتنا انجام دیا ہے وہ صحیح ہے اور بقیہ کے لئے شرائط کو ظاہر کرے
مسئلہ ۴۱۴: جب بھی طواف انجام دینے کے بعد شک کرے صحیح شرائط موجود تھے یا نہیں مثلاً طہارت رکھتا تھا یا نہیں تو صحیح ہونے پر بناء رکھے
مسئلہ ۴۱۵: اگر اعمال حج کے تمام ہونے کے بعد یقین ہو کہ دو طواف ( طواف زیارت یا طواف نساء ) میں سے ایک کو انجام نہیں دیا ہے تو ایک طواف مافی الذمہ کی بنت سے انجام دے اور یہ کافی ہے
مسئلہ ۴۱۶: حج اور عمرہ میں طواف ایک رکن ہے لہذا اگر جان بوجھ کر چھوڑ دے تو عمرہ یا حج باطل ہو جائے گا اور وقت گذر گیا ہے تو ضروری ہے کہ عمرہ یا حج کو دوبارہ بجا لائے
مسئلہ ۴۱۷: اگر مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے طواف زیارت کو چھوڑ دیا تو ضروری ہے کہ حج کا اعادہ کرے ( بناء بر احتیاط ) اور اگر طواف نساء کو مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے چوڑ دے تو حج کو دوبارہ انجام دینا لازم نہیں ہے بلکہ اس طواف کی قضا بجا لائے اور اگر قضا بجا لانا ممکن نہ ہو تو نائب معین کرے اور اگر طواف نساء کو جان بوجھ کر ترک کر دیا تو ضروری نہیں ہے کہ حج کو دوبارہ انجام دے اور اس صورت میں کفارہ لازم نہیں ہے
مسئلہ ۴۱۸: جب بھی طواف زیارت عمرہ چاہے مفردہ چاہے تمتع کو جان بوجھ کر چھوڑ دے تو واجب ہے عمرہ کا اعادہ کرے اور اونٹ کا کفارہ لازم نہیں ہے اور اگر مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے چھوڑ دے تو صرف طواف کی قضا لازم ہے اور اعادہ کفارہ لازم نہیں ہے اور جو احکام بیان ہوا ہے دو مسئلے میں کوئی فرق نہیں ہے یعنی حج واجب اور حج مستحب کے درمیان اور عمرہ واجب اور عمرہ مستحب کے درمیان چاہے نیابتی ہو چاہے خود کا ہو
مسئلہ ۴۱۹: اگر مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے طواف زیارت کو ترک کر دیا اور ذی الحجہ کے آخر تک حج کو انجام نہیں دے سکا اور اونٹ کا کفارہ بھی نہ دے سکتا ہو تو حج اور کفارہ دونوں ساقط ہو جائے گا اور اگر مالدار ہو تو اس کے مرنے کے بعد اس کی قضا انجام دی جائے گی اور اگر مالدار نہیں ہے تو اس پر کوئی چیز نہیں ہے اور اپنی عورت اور غیر سے استفادہ کرنا بناء بر اظہر حرام نہیں ہے چاہے آئندہ سال حج انجام دینے کی قدرت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو
مسئلہ ۴۲۰: اگر طواف نساء کو جہالت کی وجہ سے ( چاہے حج میں چاہے عمرہ مفردہ میں) چھوڑدے اور اس وقت تک جب تکخود یا اس کا نائب اس کی قضا بجا نہ لائے اس پر بیوی حرام ہے اور یہی حکم ہے جب طواف نساء بھول جائے بنا بر اظہر ( یعنی یہی حکم جاری ہوگا
مسئلہ ۴۲۱: اگر کسی نے عمرہ مفردہ انجام دیا اور جہالت کی وجہ سے طواف نساء کو چھوڑ دیا لیکن اس کے بعد حج کو طواف نساء کے ہمراہ انجام دیا یا اس کے بر عکس یعنی حج بغیر طواف نساء کے انجام دیا اور اس کے بعد عمرہ مفردہ کو طواف نساء کے ساتھ انجام دیا یا دو عمرہ مفردہ بجا لا اور پہلے میں جہالت کی وجہ سے طواف نساء کو ترک کر دیا اور دوسرے میں انجام دیا تو بیوی اس حرام نہیں ہے چاہے اس مسئلے میں خود ہو یا کسی کا نائب ہو یا کوئی اور وجہ
مسئلہ ۴۲۲: اگر کوئی مستحبی عمرہ میں یا مستحبی حج میں یا تبرعاً طواف کو چھوڑ دے تو اعادہ اور کفارہ اس پر واجب نہیں ہے لیکن اگر طواف نساء کو ترک کر دیا ہے تو اگر ممکن ہو تو خود قضا کرے اور اگر ممکن نہ ہو یا پریشانی کا سبب ہو اس کا نائب قضا کرے اور جب تک کہ قضا انجام نہ دی جائے بیوی اس پر حرام رہے گی
مسئلہ ۴۲۳: اگر کوئی عمرہ یا حج میں اجیر تھا اور طواف زیارت کو ترک کر دیا اس طریقے سے کہ عمرہ و حج باطل ہو مگر اجارہ باطل نہیں ہوگا اور دوبارہ حج یا عمرہ بجا لائے مگر یہ کہ اجارہ اسی سال سے مخصوص ہو جس سال عمرہ یا حج باطل ہوا ہے اس صورت میں اجارہ باطل ہے اور اجرت کو واپس کر دے
مسئلہ ۴۲۴: اگر کوئی بھول کر طواف حج یا عمرہ کو ترک کر دے تو صرف طواف کی قضا کرے گا اور بقیہ اعمال باطل نہیں ہے اور اگر خود اس سے ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ نائب معین کرے
مسئلہ ۴۲۵: جب بھی کسی نے جان بوجھ کر یا جہالت کی وجہ سے طواف کو ترک کر دیا تمام اعمال انجام دینے کے بعد محل ہو جائے گا یعنی احرام اتاردے گا اور احتیاط یہ ہے کہ جس چیز کو اس نے ترک کر دیا ہے اسے انجام دے تاکہ احرام سے خارج ہو جائے
مسئلہ ۴۲۶: اگر حرم سے باہر نکل آیا پھر اس عمل کو انجام دینے کے لئے جو ضروری ہے کہ حالت احرام میں انجام دیا جائے اور یہ چاہتا ہے کہ حرم واپس جائے تو جو چیز چھوٹ گئی ہے اس کے انجام دینے کے لئے محرم ہو
مسئلہ ۴۲۷: اگر کوئی طواف یا نماز طواف یا سعی کو بھول جائے اور قضا کا محتاج ہو تو ضروری نہیں ہے کہ حج کے مہینے ( شوال ذی قعدہ اور ذی الحجہ ) میں قضا بجا لائے
مسئلہ ۴۲۸: اگر کوئی شک کرے کہ جو چیز بھول گیا ہے وہ حج کا طواف تھا یا عمرہ کا طواف تھا تو ایک طواف مافی الذمہ کے قصد سے بجا لائے اور یہی کافی ہے
مسئلہ ۴۲۹: اگر حج یا عمرہ کے واجب طواف کو بھول گیا اور اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری ہو جائے تو اس پر کفارہ واجب نہیں ہے
مسئلہ ۴۳۰: اگر طواف نساء کو بھول گیا تو اس کی بیوی اس پراس وقت تک حرام جب تک کہ خود اس کی قضا نہ کرے اور اس سے قضا بجا لانا ممکن نہ ہو تو نائب معین کرے اور اگر اسی سال نائب مل جائے تو معین کرے اور خود قضا انجام نہیں دے سکتا لیکن آئندہ سال اگر قضا بجا لانے پر قادر ہو تو ضروری ہے کہ نائب معین کرے بنا بر قول اقویٰ
مسئلہ ۴۳۱: پچھلے مسئلہ میں اگر الوداعی طواف انجام دیا ہے تو وہ طواف نساء کی جگہ پر کافی ہے اور قضا کی ضرورت نہیں ہے
مسئلہ ۴۳۲: طواف کے مذکور ہ احکام میں عورت ، مرد ، نامرد ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے اور طواف نساء طواف حج اور طواف عمرہ کی طرح ایک رکن ہے

۳۔ نماز طواف

مسئلہ۴۳۳: واجبات عمرہ تمتع سے تیسری چیز دو رکعت نماز طواف ہے
مسئلہ ۴۳۴: طواف کے بعد واجب ہے فوراً دو رکعت نماز طواف ( جو نماز صبح کی طرح ہے اور اقامت اس میں نہیں ہے اور مردوں کے لئے بلند آواز سے پڑھنا صحیح نہیں ہے ) مقام ابراہیم ؑ کے پاس یا اس کے پیچھے پڑھے
مسئلہ ۴۳۵: نماز طواف مقام ابراہیم ؑ کے داہنی یا بائیں طرف اور مقام ابراہیم ؑ کے پیچھے پڑھ سکتا ہے اور جتنا بھی مقام ابراہیم ؑ سے نزدیک ہو بہتر ہے اور اس زمانے میں جب کہ اژدہام رہتا ہے اور مقام ابراہیم ؑ کے نزدیک نماز پڑھنے میں تکلیف ہو تو مقام ابراہیم ؑ سے دور پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے
مسئلہ ۴۳۶: یہ حکم نماز طواف عمرہ اور حج سے مخصوص ہے لیکن ابتدائی نماز طواف میں بناء بر احتیاط اضطراری صورت میں مسجد الحرام میں پڑھ سکتا ہے
مسئلہ ۴۳۷: اگر کوئی نماز طواف بھول جائے تو اگر مکہ معظمہ میں ہے تو مقام ابراہیم ؑ کے پاس جا کر نماز کی قضا بجا لائے اور اگر مکہ معظمہ سے باہر چلا گیا اور سفر کر لیا تو جہاں پر بھی اسے یاد آئے قضا بجا لائے اگر احتیاط مستحب یہ ہے کہ مسجد الحرام واپس آئے اور مقام ابراہیم ؑ کے پاس قضا بجا لائے اور اگر واپس آنا مشکل ہو تو بہتر ہے کہ نائب معین کرے تاکہ مقام ابراہیم ؑ کے پاس اس کی قضا بجا لائے
مسئلہ ۴۳۸: جس شخص کی نماز میں قراٗت صحیح نہ ہو بنا بر اقویٰ واجب ہے کہ اپنی قراٗت کی اصلاح کرے اور اگر اصلاح نہ کر سکے تو جتنا صحیح پڑھ سکتا ہے پڑھے اور نائب معین کرنا کافی نہ ہوگا
مسئلہ ۴۳۹: اگر دو رکعت نماز طواف کو مقام ابراہیم ؑ کے پاس جان بوجھ کر نہ پڑھے یا نماز کو غلط پڑھے تو واجب ہے کہ پلٹ جائے اور مقام ابراہیم ؑ کے پیچھے نماز پڑھے اور اگر واپس پلٹنا ممکن نہ ہو تو جہاں پر بھی موجود ہے وہیں نماز پڑھے اور احتیاطاً نائب بھی معین کرے تاکہ وہ مقام ابراہیم ؑ کے پاس نماز ادا کرے اور جب تک نماز بجا نہ لائے تو احتیاط یہ ہے کہ عورت کے ساتھ ہمبستری ہونے سے پرہیز کرے
مسئلہ ۴۴۰: اگر نماز طواف کو مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے یا بھول کر یا سہواً چھوڑ دے تو نماز کے بعد کا تمام اعمال صحیح ہے اور دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اگر عمداً اسے ترک کر دیا تو احتیاط واجب یہ ہے کہ بعد کے تمام اعمال کو دوبارہ انجام دے
مسئلہ ۴۴۱: اگر کوئی نماز طواف پڑھنا بھول گیا اور اس کی قضا بھی انجام نہیں دیا اور مر گیا تو اس کے ولی پر واجب ہے کہ اس کی قضا کرے
مسئلہ ۴۴۲: نماز طواف کی قضا کا حج کے مہینے میں بجا لانا واجب نہیں ہے اور نماز طواف کے مسئلہ قضا میں کوئی فرق نہیں ہے یعنی اقسام مختلف حج اور عمرہ نہیں ہے اور اسی طرح ضروری نہیں ہے کہ قضا نماز کو حالت احرام میں پہنے
مسئلہ ۴۴۳: نماز طواف کو جماعت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں
مسئلہ ۴۴۴: دو طواف کا پے در پے انجام دینا مکروہ ہے اس صورت سے کہ بعد میں دو نماز دونوں کے لئے بجا لائے بلکہ ہر طواف کے بعد نماز طواف پڑھے
مسئلہ ۴۴۵: اگر عورت نماز طواف سے پہلے یا نماز کے وقت حائض ہو جائے تو اگر اس نے چار چکر یا اس سے زیادہ طواف کیا ہے تو بقیہ طواف اور نماز کو تاخیر سے پڑھے اور عمرہ کے دوسرے اعمال کو مکمل کرے اور پاک ہونے کے بعد بقیہ نماز اور طواف کو بجا لائے اور ضروری نہیں ہے کہ سعی کو دوبارہ انجام دے لیکن اگر وقوف عرفات سے پہلے ۹! ذی الحجہ کو پاک نہ ہو تو احتیاط یہ ہے کہ بقیہ طواف اور نماز کو انجام دینے کے لئے قبل یہ کہ وقوف عرفات سے خارج ہو نائب معین کرے اور پاک ہونے کے بعد اسے بجا لائے
مسئلہ ۴۴۶: اگر عورت حائض ہو گئی اور ابھی چار دور مکمل نہ کیا ہو تو ضروری ہے کہ طواف کو چھوڑدے اور فوراً مسجد الحرام سے باہر آجائے لہذا اگر وقوف عرفات سے پہلے ۹! ذی الحجہ کو پاک ہو جائے تو طواف کو دوبارہ انجام دے اور عمرہ کے بقیہ اعمال کرے ورنہ اس کا حج ، حج افراد میں بدل جائے گا اور وہ عرفات جائے اور حج افراد کے اعمال کو بجا لائے اور پھر اس کے بعد عمرہ مفردہ انجام دے اور یہی کافی ہے

۴۔ سعی

مسئلہ ۴۴۷: عمرہ تمتع کے اعمال سے چوتھی چیز صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا ہے

واجبات سعی یہ ہیں

[L:4 R:220][L:4 R:219]۱ نیت
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲ صفا سے شروع کرے اور مروہ پر ختم کرے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۳ تعداد یعنی سات مرتبہ سعی کرے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۴ بدن کا اگلا حصہ ( روبرو ) صفا اور مروہ کی طرف ہو
[L:4 R:220][L:4 R:219]۵ انسان کا لباس جوتا اور سواری مباح ہو
مسئلہ ۴۴۸: سعی یعنی صفا اور مروہ کے درمیان سات مرتبہ آنا جانا اس طریقے سے کہ صفا سے شروع کرے اور مروہ تک جائے یہ ایک شوط شمار ہوگا پھر مروہ سے صفا واپس جائے یہ دوسرا شوط شمار ہوگا اور پھر صفا سے مروہ یہ تیسرا شوط ہے اور اسی طرح انجام دے اور ساتویں مرتبہ کو مروہ پر ختم کرے ، مجموعاً چار مرتبہ جانا اور تین مرتبہ واپس آنا کل ۷! مرتبہ ہوگا
مسئلہ ۴۴۹: اگر کوئی صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے کو عمداً رک کر دے اور وقت گذر جائے چاہے حج ہو یا عمرہ ہو باطل ہو جائے گا لیکن اگر بھول کر یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے یا غفلت اور پریشانی کی وجہ سے ترک کر دیا تو حج اور عمرہ باطل نہیں ہوگا بلکہ فقط سعی کی قضا کرے اور اگر ممکن نہ ہو تو نائب معین کرے چاہے ذی الحجہ کے بعد ہی کیوں نہ ہو
مسئلہ ۴۵۰: سعی میں بنت کرنا واجب ہے اور قصد قربت اور خلوص سے کرے اور معین کرے کہ عمرہ ہے یا حج مثلاً کہے صفا و مروہ کے درمیان سعی انجام دیتا ہوں عمرہ تمتع کے لئے قربۃ الی اللہ تعالی
مسئلہ ۴۵۱ : طہارت حدیثہ ( یعنی وضو یا غسل جو وضو کی کفایت کرے ) اور طہارت خبیثہ ( یعنی لباس اور بدن کا نجاست سے پاک ہونا ) کی سعی میں شرط نہیں ہے بلکہ دونوں مستحب ہے لہذا بغیر وضو یا جنابت کی حالت میں حیض کی حالت میں اور اسی طرح نجس بدن یا لباس میں سعی صحیح ہے
مسئلہ ۴۵۲: طواف اور نماز طواف کے بعد اور سعی انجام دینے سے پہلے مستحب ہے حجر اسود کو چومے اور اسی طرح زمزم سسے پانی پینا بھی مستحب ہے اور تھوڑا سا آب زمزم اپنے سر اور بدن پر ڈالنا بھی مستحب ہے
مسئلہ ۴۵۳: جب صفا سے سعی شروع کرے تو ضروری نہیں ہے کہ پیر کا پچھلا حصہ صفا کے پتھر پر پڑے اور اسی طرح مروہ میں لازم نہیں ہے کہ پیر کی انگلیاں مروہ تک پہونچے بلکہ عرف کے مطابق کفایت کرے اگر چہ پیر کا اس پر پڑنا بہتر ہے
مسئلہ ۴۵۴: انسان کے لئے جائز ہے کہ طواف کے بعد سعی کو تاخیر سے انجام دے اور کچھ دیر آرام کرے لیکن دوسرے دن پر ٹال نہیں سکتا ( کہ کل سعی انجام دوں گا ) اگر چہ بناء بر اقویٰ رات تک تاخیر کرنا جائز ہے
مسئلہ ۴۵۵: انسان ایک طواف واجب اور سعی کے درمیان ایک مستحب طواف انجام دے سکتا ہے
مسئلہ ۴۵۶: سواری کے ذریعہ سعی انجام دینا جائز ہے اگر چہ ممکن ہو تو پیدل چل کر انجام دینا بہتر ہے اور اس کی سواری اور مرکب غصبی نہ ہو اور بناء بر احتیاط غصبی چیز بھی اس کے ہمراہ نہ ہو
مسئلہ ۴۵۷: جب سعی کرنے والا صفا سے مروہ کی طرف آئے تو لازم ہے اس کے بدن کا اگلا حصہ صفا کی طرف ہو مگر کبھی کبھی دائیں بائیں نگاہ کر لینے میں یا کبھی کبھی پیچھے دیکھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے اور کھڑے ہونے کی بناء میں اپنے پورے بدن کو دوسری طرف حرکت دے سکتا ہے
مسئلہ ۴۵۸: اگر کوئی دو منزلہ مکان سے یا چھت کے اوپر سے سعی کرے تو کوئی حرج نہیں ہے اور سعی صحیح ہے اگر چہ بہتر ہے بغیر کسی مجبوری اور پریشانی کے سعی زمین کی بیرونی سطح پر انجام دی جائے
مسئلہ ۴۵۹: سعی کرتے وقت سعی کے راستوں سے ہٹنا صحیح نہیں ہے مثلاً مسجد الحرام میں چلا جائے یا بازار چلا جائے لیکن ان جگہوں پر پانی کا پینا جو سعی ( سعی کی جگہ ) کے کنارے بنایا گیا ہے کوئی حرج نہیں ہے
مسئلہ ۴۶۰: ہر ولہ دو سبز ستون کے درمیان تیز چلنے کو کہتے ہیں مردوں کے لئے مستحب ہے لیکن عورتوں کے لئے ہرولہ نہیں ہے اور نائب خود اپنے وظیفے کو انجام دے گا چاہے منوب عنہ عورت ہو چاہے مرد ہو
مسئلہ ۴۶۱: سعی میں سات دور مکمل ہونے چاہیئے اگر کسی نے جان بوجھ کر کمی یا زیادتی کی ہے تو حج اور عمرہ کے باطل ہونے کا سبب بنے گا لیکن اگر کوئی سہواً یا بھول کر یا مسلہ نہ جاننے کی بناء پر کم کر دیا تو جب بھی اسے یاد آئے فوراً اس کو پورا کرے اور اگر زیادہ انجام دیا ہے تو زیادتی کو لغو کر دے اور اس کی سعی صحیح ہے
مسئلہ ۴۶۲: اگر سعی مکمل ہونے کے بعد اس کے شرائط میں شک کرے تو اس شک پر کوئی توجہ نہ دے
مسئلہ ۴۶۳: اگر سعی مکمل ہونے کے بعد سات چکر وں کے بارے میں شک کرے اس طرح سے کہ شک میں کسی بھی طرح صحیح عدد ۷! نہ ہو ( یعنی شک ہو ۶! اور ۸! میں یا شک ہو ۵! یا ۶! یا ۸! میں ) تو ضروری ہے کہ دوبارہ سعی کرے
مسئلہ ۴۶۴: اگر کوئی سعی کے درمیان شک کرے تو اگر یہ شک صفا میں تھی اور دوئیت (جفت ) پر یقین تھا یا یہ شک مروہ میں تھا اور فردیت ( طاق ) پر یقن تھا ( مثلاً صفا میں شک کرے کہ یہ چوتھا دور ہے یا چھٹا یا مروہ میں شک کرے کہ تیسرا دور ہے یا پانچواں دور ) تو اس کی سعی صحیح ہے اور کم پر بناء رکھے اور بقیہ کو مکمل کرے اور اگر صفا و مروہ میںفردیت پر یقین تھا اور مروہ میں زوجیتپر یقین رکھا تو سعی باطل ہے اور یہی حکم ہے اگر صفا و مروہ میں سے کسی ایک کے زوجیت اور فردیت میں شک کرے تو سعی باطل ہے اور اگر راستے کے درمیان میں آرام کیا ہے اور نہیں جانتا کہ مروہ جائے یا صفا تو سعی باطل ہے اور جہاں پر بھی باطل ہے وہاں از سر نو سعی انجام دے
مسئلہ ۴۶۵: اگر عدد ۷! یا اس سے زیادہ کے بارے میں شک ہو اس طرح سے کہ صفا سے شروع کرنے کے منافی نہ ہو مثلاً یہ کہ مروہ میں ۷! اور ۹! کے درمیان شک کرے تو سعی صحیح ہے اور کم پر بناء رکھے گا
مسئلہ ۴۶۶: اگر کسی کو علم اجمالی ہو کہ سعی یا ناقص تھی یا زیادہ مثلاً اسے یقین ہو کہ یا ۶! چکر لگایا ہے یا ۸! چکر لگایا ہے یا اسے شک ہو کہ کم یا زیادہ یا تکمیل پر ( یعنی ۶!۷! اور ۸! کے درمیان ) تو کم پر بناء رکھے یعنی ۶! پر اور سعی کو مکمل کرے اور سعی صحیح ہوگی اگر چہ احتیاط یہ ہے کہ دوبارہ سعی انجام دے
مسئلہ ۴۶۷: اگر سعی انجام دینے کے بعد یقین ہو کہ سعی ناقص تھی ( چاہے ایک چکر یا زیادہ یا کم ) تو جتنی مقدار ناقص تھی اسی کو انجام دے یہی کافی ہے اور اگر اس سے ممکن نہ ہو تو نائب معین کرے
مسئلہ ۴۶۸: سعی کا نماز طواف کے بعد ہونا واکب ہے اور جائز نہیں ہے کہ سعی کو بغیر عذر مجبوری کے نماز طواف پر مقدم کرے لیکن مجبوری کی حالت میں ( مثلاً عورت کا نجس ہونا ) سعی کو مقدم کر سکتی ہے
مسئلہ ۴۶۹: سعی بجا لاتے وقت سات چکر لگانے میں موالات ( پے در پے ) کا ہونا واجب نہیں ہے بلکہ صفا اور مروہ کے درمیان یا دونوں پہاڑوں کے اوپر بیٹھ سکتا ہے اور آرام کر سکتا ہے یا کسی دینی کام میں مشغول ہو جائے ( مثلاً نماز وغیرہ ) یا کوئی معمولی کام ( مثلاً کھانا کھانے جائے اور کھا کر واپس آجائے ) اور پھر بقیہ سعی کو انجام دے البتہ بہت زیادہ فاصلہ نہ ہو یعنی آج کے بجائے کل پر چھوڑ دے مگر یہ بہت زیادہ فاصلہ بھولنے کی وجہ سے ہو مثلاً اگر سعی کا کچھ حصہ باقی تھا اور وہ بھول گیا اور وطن واپس آگیا تو اور اگر ممکن ہو کہ واپس جا کر بقیہ سعی انجام دے تو جا کر بجا لائے لیکن اگر واپس جانا ممکن نہ ہو تو نائب معین کرے
مسئلہ ۴۷۰: اگر طواف کو انجام دیا اور سعی انجام دینے کی قدرت نہ ہو ( آخر ذی الحجہ تک حج کی سعی میں یا جب عرفات جانے میں وقت ہو عمرہ تمتع کی سعی میں یا یہ کہ طواف اور سعی کے درمیان موالات ختم ہونے سے پہلے عمرہ مفردہ میں ) تو جب بھی امکان میں ہو اور سعی کو بجالایا تو حج اور عمرہ دونوں صحیح ہے
مسئلہ ۴۷۱: اگر سعی انجام دینے میں جان بوجھ کر تاخیر کی تو سعی سے پہلے والا اور بعد والا اعمال دونوں صحیح ہے اور جب بھی چاہے سعی انجام دے

۵۔ تقصیر

مسئلہ ۴۷۲: عمرہ تمتع سے پانچویں چیز تقصیر ہے اور تقصیر انجام دینے کے بعد عمرہ تمتع اختتام کو پہونچتا ہے اور احرام اتار دیا جاتا ہے ( یعنی محل ہو جاتا ہے)
مسئلہ ۴۷۳: تقصیر یعنی تھوڑا سا ہاتھ کا ناخن کاٹنا یا سر یا داڑھی یا مونچھوں کے تھوڑے سے بال کاٹنا صرف بال اکھاڑ نا کسفی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ کچھ بال کاٹا جائے
مسئلہ ۴۷۴: تقصیر میں نیت ضروری ہے یعنی اس طرح سے کہے کہ عمرہ تمتع کے لئے تقصیر کرتا ہوں قربۃ الی اللہ
مسئلہ ۴۷۵: سعی کے بعد فوراً تقصیر کرنا ضروری نہیں ہے اور تاخیر میں کوئی حرج نہیں ہے اور تقصیر کے لئے کوئی جگہ معین نہیں ہے بلکہ مروہ میں بھی انجام دے سکتا ہے یا گھر میں یا کسی دوسری جگہ پر انجام دے سکتا ہے
مسئلہ ۴۷۶: عمرہ تمتع میں تقصیر انجام دینے کے بعد وہ تمام چیزیں جو محرم پر حرام تھیں حلال ہو جاتی ہیں مگر سر منڈانا
مسئلہ ۴۷۷: اگر کوئی عمداً تقصیر کو ترک کر دے اور حج کا احرام باندھنے تک انجام نہ دے تو اس کا عمرہ باطل ہو جائے گا اوراس کا حج حج افراد میں تبدیل ہو جائے گا اور حج افراد کے اعمال بجا لانے کے بعد ضروری ہے کہ عمرہ مفردہ بجا لائے
مسئلہ ۴۷۸: اگر کوئی سہواً تقصیر کو ترک کر دے اور حج تمتع کا احرام باندھنے تک انجام نہ دے تو اس کا عمرہ صحیح ہے اور بہتر یہ ہے کہ ایک بکری بعنوان کفارہ ذبح کرے اور یہی حکم جاری ہوگا اگر مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے تقصیر چھوڑ دیا ہے تو اس کا بھی عمرہ صحیح ہے اور بہتر ہے کہ ایک بکری بعنوان کفارہ ذبح کرے اور یہی حکم اس وقت بھی جاری ہو گا جب اسے یقین ہو کہ تقصیر کو انجام دیا ہے لیکن حج کا احرام پہننے کے بعد معلوم ہو ا کہ اسے انجام نہیں دیا ہے اس صورت میں عمرہ صحیح ہے کفارہ بھی نہیں ہے
مسئلہ ۴۷۹: عمرہ تمتع میں طواف نساء واجب نہیں ہے
مسئلہ ۴۸۰: اگر عمرہ تمتع کو انجام دیا اور حج تمتع انجام دینے کی قدرت نہیں رکھتا تو احتیاط یہ ہے کہ طواف نساء اور نماز طواف انجام دے گا رجائً
یہاں تک جو بحث گذری ہے وہ اعمال عمرہ تمتع پر مشتمل تھی وہ یہ تھی ۔ احرام ، طواف ، نماز طواف ، سعی اور تقصیر
مسئلہ ۴۸۱: اعمال عمرہ تمتع کی تکمیل کے بعد ظاہراً جائز یہ ہے کہ مکہ مکرمہ سے خارج ہو جا ئے چاہے اطراف مکہ میں رہے چاہے دور از شہر چلا جائے اگر اسے اطمینان ہو کہ حج کے وقت تک پہونچ جائیگا
مسئلہ ۴۸۲: اعمال عمرہ تمتع ختم ہونے کے بعد مستحب ہے کہ ۸! ذی الحجہ کو حج تمتع کے لئے احرام باندھے ورنہ ۹! ذی الحجہ کو واجب ہے حج کے لئے احرام باندھے اور عرفات جائے

حج تمتع کے اعمال کی تفصیل

مسئلہ ۴۸۳: حج تمتع کے واجب اعمال تیرہ ہیں اور اس طرح نیت کرے کہ حج تمتع انجام دیتا ہوں قربۃ الی اللہ تعالیٰ

۱۔ احرام

مسئلہ ۴۸۴: حج تمتع کے واجب اعمال میں سب سے پہلی چیز احرام ہے یہ احرام عمرہ تمتع کے احرام سے کیفیت ، شرائط کے اعتبار سے واجبات ، محرمات کہ جو ۲۵! عدد بیان ہوئے ہیں ایک ہی ہیں صرف اور صرف دو اختلاف و فرق پایا جاتا ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱ دونوں کی نیت میں فرق ہے اس طرح سے کہ احرام عمرہ میں قصد کیا کہ : عمرہ تمتع کے لئے محرم ہو رہا ہوں قربۃ الی اللہ تعالیٰ لیکن احرام حج کے لئے قصد کرتا ہے کہ حج تمتع کے لئے احرام باندھتا ہوں قربۃ الی اللہ تعالیٰ
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲ دونوں کی میقات میں فرق ہے عمرہ تمتع کی میقات کا ذکر پہلے گذر چکا ہے لیکن حج تمتع کی میقات احرام باندھنے کے لئے شہر مکہ مکرمہ ہے اور شہر کے جس جگہ سے بھی باندھے کوئی حرج نہیں ہے اور چاہے نیا مکہ ہو یا پرانا مکہ ہو کوئی فرق نہیں ہے لیکن بہتر ہے کہ احرام مسجد الحرام سے باندھے بلکہ افضل یہ ہے کہ احرام کو مقام ابراہیم ؑ یا حجر اسماعیل ؑ کے پاس باندھے
مسئلہ ۴۸۵: حج کے احرام کے لئے بہترین وقت ترویہ کا دن ہے ( یعنی آٹھویں ذی الحجہ ) اور اگر ۸ ! ذی الحجہ کو احرام نہیں باندھا تو ضروری ہے کہ ۹! ذی الحجہ کو احرام پہنے اور عرفات جائیں
مسئلہ ۴۸۶: اگر مکہ مکرمہ سے احرام نہ باندھ سکے تو جہاں بھی ممکن ہو ( یہاں تک خود عرفات سے ) احرام باندھے
مسئلہ ۴۸۷: اگر کوئی جان بوجھ کر مکہ کے علاوہ کسی اور جگہ سے حج کے لئے احرام باندھے تو اس کا احرام باطل ہے اور ضروی ہے کہ مکہ واپس جائے اور دوبارہ احرام پہنے اور اگر مکہ واپس نہیں گیا اور دوبارہ احرام نہیں باندھا تو اس کا حج باطل ہے
مسئلہ ۴۸۸: اگر کوئی جہالت کی وجہ سے مکہ کے علاوہ کہیں اور سے محرم ہوا تو ضروری ہے کہ مکہ واپس جائے اور دوبارہ احرام باندھے اگر واپس جانا ممکن نہ ہو تو واجب ہے کہ جہاں پر بھی ہو وہیں سے احرام باندھے اور اس کا حج صحیح ہے
مسئلہ ۴۸۹: اگر کوئی احرام باندھنا ہی بھول جائے اور حج کے تمام اعمال بجا لایا ہے تو اس کا حج صحیح ہے

۲۔ عرفات میں ٹھہرنا

مسئلہ ۴۹۰: واجبات حج تمتع سے دوسری چیز عرفات میں قربت کی نیت سے ٹھہرنا ہے نیت اس طرح سے کرے سر زمین عرفات میں ظہر کی اذان سے آفتاب کے غروب ہونے تک حض تمتع کے لئے ٹھہرتا ہوں قربۃ الی اللہ
مسئلہ ۴۹۱: عرفات کے حدود موجودہ علامتوں کے ذریعہ معین کئے گئے ہیں اور عرفات کے باہر ٹھہرنا کافی نہیں ہے
مسئلہ ۴۹۲: عرفات میں ٹھہرنے کا وقت ۹! ذی الحجہ کو اول اذان ظہر سے غروب آفتاب تک ہے اور یہ وقوف ارکان حج میں سے ہے اگر کسی نے عمداً ترک کر دیا تا حج باطل ہو جائے گا لیکن اگر کوئی اس مدت سے کچھ مقدار کو عمداً ترک کر دے تو اس نے گناہ کیا ہے لیکن حج باطل نہیں ہے اور اگر عمداً ترک نہیں کیا ہے تو گناہگار نہیں ہے
مسئلہ ۴۹۳: اگر کوئی بھول کر وقوف عرفات کو ترک کر دے یہاں تک کہ وقوف کا وقت بھی ختم ہو جائے تو اس کا حج صحیح ہے اور وقوف مشعر پر اکتفا کرے گا اور اگر وقت باقی ہے اور اسے یاد آجائے تو ضروری ہے کہ فوراً عرفات جائے اور وقوف عرفات کو انجام دے چاہے وہ باقی وقت وقوف عرفہ کا اختیاری وقت ہو ( جو ظہر کی اذان سے غروب آفتاب ) یا وقوف عرفہ کا اضطراری وقت ہو ( یعنی عرفہ کے دن اول غروب آفتاب سے عید قربان کی اذان صبح تک ) اس صورت میں جتنی مقدار میں بھی وقوف کرے چاہے پندرہ منٹ ہی سہی یا اس سے بھی کم تو کافی ہے اور پوری رات رہنا لازم نہیں ہے
مسئلہ ۴۹۴: اگر کوئی شخص بھول کر غروب آفتاب سے پہلے عرفات سے خارج ہو جائے اور اگر وقت باقی ہے اور اسے یاد آگیا تو ضروری ہے کہ عرفات واپس جائے اور اگر اسے یاد نہ آیا تو اس کے ذمہ کوئی چیز نہیں ہے اور اس کا حج صحیح ہے
مسئلہ ۴۹۵: اگر سنی قاضی نے چاند کے ثابت ہونے کا اعلان کیا لیکن شیعوں کے نزدیک چاند ثابت نہ ہو تو تقیہ کی صورت میں دو وجہیں ہیں
۱۔ شیعہ اس کے بر خلاف علم نہ رکھتا ہو اس صورت میں سنی قاضی کی بات پر عمل کرے اور ان کے فتوے کے مطابق وقوف عرفات اور وقوف مشعر میں کوئی حرج نہیں ہے اور حج صحیح ہے
۲۔ شیعہ اس کے بر خلاف علم رکھتا ہو ( مثلاً اسے یقین ہو یا دلیل شرعی قائم ہوئی ہو کہ عرفہ دو شنبہ کو ہے اور سنی قاضی نے اتوار کو عرفہ کا اعلان کیا ہے ) تو اگر ضرر ہو یا بہت زیادہ پریشانیوں کا سامنا ہو تو بعید نہین ہے کہ کہا جائے قاضی کے فتوے کے مطابق وقوف کافی ہے اور حج صحیح ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ احتیاط ترک نہ ہو اور اس صورت میں منی کے اعمال کو عید حقیقی کے دن انجام دینے میں کوئی حرج نہیں ہے اور ضروری ہے کہ اس مثال کے مطابق منیٰ کے اعمال کو منگل کے دن انجام دیا جائے

۳۔مشعر الحرام میں ٹھہرنا

مسئلہ ۴۹۶: واجبات حج تمتع سے تیسری چیز مزدلفہ ( مشعر الحرام ) میں ٹھہرنا ہے قربۃ الی اللہ کی نیت سے
مسئلہ ۴۹۷: مُحرم پر واجب ہے کہ عید کی رات عرفات سے خارج ہونے کے بعد مشعر الحرام جائے اور احتیاط یہ ہے کہ رات کو مشعر میں ٹھہرے اور جب طلوع فجر ہو تو اس وقت یہ نیت کرے کہ مشعر الحرام کی سر زمین پر ٹھہرتا ہوں حج تمتع کے لئے صبح کی اذان سے طلوع آفتاب تک قربۃ الی اللہ
مسئلہ ۴۹۸: مشعر کے حدود موجودہ علامتوں کے ذریعہ معین کئے گئے ہیں معتبر ہیں اور مشعر کے باہر ٹھہرنا کافی نہیں ہے اور مشعر میں ٹھہرنا حج کا ایک رکن ہے اگر کوئی جان بوجھ کر اسے ترک کر دے تو اس جا حج باطل ہے
مسئلہ ۴۹۹: وقوف مشعر میں دو صورتیں ہیں :
۱۔ وقوف اختیاری : یعنی عید قربان کے دن اول اذان صبح سے اول طلوع آفتاب اور مقدار رکن تک اور وقوف اس میں الگ ہے چاہے جتنا ہی کم ہو یہاں تک چند منٹ ہی سہی لہذا اگر کوئی جان بوجھ کر اذان صبح کے چند منٹ گذر جانے کے بعد مشعر سے نکل جائے اور سورج طلوع کر جائے تو اس نے گناہ کیا ہے لیکن حج صحیح ہے
۲۔ وقوف اضطراری : مشعر میں اضطراری وقوف کے لئے دو وقت ہے ایک شب عید اول اذان مغرب سے اذان صبح تک ، اور دوسرے عید قربان کے دن اول طلوع آفتاب سے اسی دن ظہر تک
مسئلہ ۵۰۰: مردوں کے لئے اختیاری صورتوں میں وقوف اختیاری واجب ہے لیکن عورتیں ، بچے اور مریض اور وہ لوگ جنھیں دشمن کا ڈر ہو اور وہ ضعیف و کمزور لوگ جو بھیڑ بھاڑ میں اذیت کا سامنا کریں مثلاً بوڑھے مرد تو جائز ہے کہ اول وقوف اضطراری پر اکتفا کریں ( یعنی شب عید کا کچھ حصہ مغرب کی اذان کے بعد ) اور ان لوگوں کا حج صحیح ہے اور کفارہ وغیرہ نہیں ہے اور وہ افراد جن کے لئے ضروری ہے کہ ان کے ہمراہ ہوں ان پر بھی یہی حکم جاری ہوگا یعنی وقوف اضطراری پر اکتفاء کریں اور ان پر کفارہ نہیں ہے
مسئلہ ۵۰۱: وہ لوگ جو اس حکم سے جاہل یا اس موضوع سے جاہل ہیں یا بھول گئے ہوں یا مجبورہوں تو ان کے لئے وہی گذشتہ حکم جاری ہوگا یعنی اسی وقوف اضطراری پر اکتفاء کریں گے اور کوئی کفارہ نہیں ہے
مسئلہ ۵۰۲: اگر وقوف اختیاری ( یعنی عید کے دن صبح کی اذان اور طلوع آفتاب کے درمیان ) اور اضطراری اول ( شب عید اذان مغرب سے صبح کی اذان تک ) کو درک نہیں کر سکا تو ضروری ہے کہ وقوف اضطراری دوم ( عید کے دن اول آفتاب کا کچھ حصہ صبح سے ظہر تک ) کو انجام دے
مسئلہ ۵۰۳: وقوفین کے درک کرنے کی دو قسمیں ہیں
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱فقط وقوف اختیاری عرفہ کو درک کرے اور وقوف مشعر سے معذور ہو ( کسی مجبوری یا عذر کی وجہ سے ) اس صورت میں حج صحیح ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲ فقط وقوف اختیاری مشعر کو درک کرے ( یعنی شب عید کا کچھ حصہ ) تو اس کا حج صحیح نہیں ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۳ فقط وقوف اختیاری مشعر کو درک کرے اور جان بوجھ کر وقوف عرفات کو ترک نہ کیا ہو بلکہ کسی عذر کی وجہ سے ترک ہو گیا ہو تو حج صحیح ہے اور اگر عمداً وقوف عرفات کو ترک کر دیا ہے تو حج صحیح نہیں ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۴ فقط وقوف اضطراری مشعر کو درک کریاگر عمداً وقوف عرفات کو درک نہیں کیا ہے تو حج صحیح ہے اور اگر عمداً وقوف عرفات کو ترک کیا ہے تو حج صحیح نہیں ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۵ وقوف عرفات اختیاری اور وقوف مشعر اختیاری دونوں کو درک کرے تو حج صحیح ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۶ عرفہ کے اختیاری وقوف اور مشعر کے اضطراری وقوف کو درک کرے تو حج صحیح ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۷ عرفہ کے اختیاری وقوف اور مشعر کے اختیاری وقوف کو درک کرے تو حج صحیح ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۸ عرفہ کے اختیاری وقوف اور مشعر کے اختیاری وقوف کو درک کرے تو حج صحیح ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۹ دونوں میں سے کوئی وقوف درک نہ کرے نہ اختیاری نہ اضطراری توحج باطل ہے جان بوجھ کر کیا ہو یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے ہو مجبور ہو یا مجبور نہ ہو
۵۰۴: اگر محرم نے حج کا احرام پہنا اور حج اس سے چھوٹ گیا مثلاً وقوفین ( اختیاری ، اضطراری ) میں سے کسی ایک کو بھی درک نہیں کیا تو اسے چاہیئے کہ عمرہ مفردہ کے اعمال بجا لائے یعنی احرام حج کی نیت کو احرام عمرہ سے تبدیل کر دے اور محل ہو جائے ( احرام اتاردے ) اور باقی اعمال مثلاً منیٰ کے اعمال اس سے ساقط ہیں
۵۰۵: وقوف مشعر کے مستحبات میں سے ایک مستحب منیٰ میں تینوں شیطانوں کو مارنے کے لئے کچھ سنگر یزے چننا اور جائز ہے کہ جتنی مقدار میں تینوں کو کنکریاں مارنا ہے اس سے زیادہ کنکریاں اٹھائے تاکہ اگر کچھ کنکریاں خطا کر جائیں تو اس زیادہ سے استفادہ کرے اور اگر اس نے کنکریاں کم اٹھائی ہے یا کم لایا ہے تو منیٰ یا وادی محرمہ سے کنکریاں اٹھا سکتا ہے
۴۔ رمی جمرہ عقبہ ( شیطان کو کنکریاں مارنا )
مسئلہ ۵۰۶: واجبات حج تمتع سے چوتھی چیز رمی جمرہ ( شیطان عقبہ ہے منیٰ میں تین جمری ( شیطان ) موجود ہے جس میں تیسرا مکہ مکرمہ کی طرف بنام جمرہ عقبہ موجود ہے
مسئلہ ۵۰۷: انسان پر واجب ہے کہ عید کے دن طلوع آفتاب کے بعد مشعر سے منی کی طرف جائے تاکہ منیٰ کے مخصوص اعمال کو انجام دے جس میں سب سے پہلے رمی ہے
مسئلہ ۵۰۸: واجبات رمی چند چیز ہیں
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱ نیت قصد قربت کے ساتھ ہو یعنی اس طرح کہے کہ حج تمتع کے لئے رمی جمرہ عقبہ کرتا ہوں سات سنگریزوں سے قربۃ الی اللہ تعالیٰ
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲ ضروری ہے کہ سات کنکریاں پھینک کر مارے نہ سات سے زیادہ نہ کم لیکن اگر احتیاط چند کنکریاں اضافہ کر دے تو کوئی حرج نہیں ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۳ ضروری ہے کہ جب کنکریاں پھینکے تو جمرہ پر پڑے اگر چہ پھینکتے وقت کسی چیز سے ٹکرا بھی جائے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۴ ضروری ہے کہ کنکریاں کو پھینکنے اور جمرہ پر کنکریوں کا رکھنا کافی نہیں ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۵ ایک ایک کر کے یعنی یکے بعد دیگرے کنکریاں پھینکے یعنی سات مرتبہ کنکریاں مارے نہ یہ کہ سب کو ایک ہی ساتھ ماردے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۶ کنکریاں دن میں مارے یعنی طلوع آفتاب سے غروب تک مگر وہ لوگ جنھوں نے شبانہ ( دن رات ) وقوف اضطراری سے استفادہ کیا ہے اور منیٰ میں وارد ہوئے ہیں مثلاً عورتیں یہ رات میں رمی کر سکتی ہیں
مسئلہ ۵۰۹: اگر شک وقتی ہو یعنی رات ہو گئی ہو یا کسی واجب کام میں مشغول تھا مثلاً قربانی میں مشغول تھا تو ایسی صورت میں شک کی پرواہ نہیں کرے گا بلکہ اقویٰ یہ ہے کہ شک کی پرواہ نہ کرے شک کنکریاں مارنے کے بعد ہوا ہو چاہے شک کنکریوں کی عدد کے بارے میں ہو یاز واجبات رمی میں سے کسی ایک پر شک ہو
مسئلہ ۵۱۰: ضروری ہے کہ یہ کنکریاں ٬٬ بکر ،، ہوں یعنی اس سے کسی نے پہلے رمی جمرہ کے لئے استعمال نہ کیا ہو اور کنکریاں متوسط ہوںنہ بہت زیادہ بڑی نہ بہت زیادہ چھوٹی مثلاً انگلی کے ایک بند ( پور )کے برابر ہو اور ضروری ہے کہ یہ کنکریاں پتھر کی ہوں ، لہذا مٹی کا ڈھیلا ، لکڑی ، اور اینٹ وغیرہ یا اس کے مثل کسی اور چیز سے رمی جمرہ صحیح نہیں ہے اور بناء بر قول اظہر ضروری نہیں ہے کہ کنکریاں پاک ہوں لیکن ضروری ہے کہ کنکریاں حرم کے حدود سے لی گئیں ہوں
مسئلہ ۵۱۱: ضروری نہیں ہے کہ کنکریوں کو یکے باد دیگرے پھینکے بلکہ درمیان میں آرام بھی کر سکتا ہے لیکن اگر بہت زیادہ فاصلہ ہو گیا تو دوبارہ رمی جمرہ کرے
مسئلہ ۵۱۲: بلند اور اونچی جگہ سے رمی جمرات کرنے میں یہاں تک کہ غیر اضطراری صورت میں بھی جائز ہے

۵۔ قربانی

مسئلہ ۵۱۳: واجبات حج تمتع میں پانچویں چیز عید قربان کے دن منی میں قربانی کرنا ہے
مسئلہ ۵۱۴: قربانی میں چند چیزیں واجب ہیں
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱ نیت
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲ قربانی انعام ثلاثہ سے ہو ( یعنی بکری ، گائے ، اونٹ )
[L:4 R:220][L:4 R:219]۳ شرائط کے مطابق سن ہو
[L:4 R:220][L:4 R:219]۴ تام الخلقہ ہو ( یعنی عیب دار نہ ہو)
[L:4 R:220][L:4 R:219]۵ قربانی عید کے دن یا ایام تشریق ( ۱۱، ۱۲، ۱۳ ! تاریخ ) میں کرے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۶ قربانی منی میں ہو
[L:4 R:220][L:4 R:219]۷ بناء بر احتیاط قربانی کے جانور میں ترتیب کا خیال رکھے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۸ قربانی حرم کے حدود سے باہر نہ کرے
مسئلہ ۵۱۵: خود حاجی کو چاہیے کہ با قصد قربت قربانی کرے مثلاً کہے کہ حج تمتع کے لئے قربانی کرتا ہوں قربۃ الی اللہ اور اگر قصائی قربانی کرے تو دونوں نیت کریں اور اگر صرف حاجی نے ہی نیت کی تب بھی کافی ہے
مسئلہ ۵۱۶: ایک قربانی صرف ایک آدمی کے لئے کافی ہوگی اور اختیاری حالت میں دو آدمی یا اس سے زیادہ کے لئے کافی نہیں ہے مگر حج
مستحبی میں کافی ہے
مسئلہ ۵۱۷: قربانی کا جانور اونٹ ، گائے یا بکری کی جنس سے ہو
مسئلہ ۵۱۸: بہتر ہے کہ اونٹ کی قربانی کرے بناء بر مستحب یہ ہے کہ پانچ سال مکمل ہوا ور چھٹے سال میں داخل ہو اور بناء بر احتیاط گائے اور بز دو سال مکمل ہو اور تیسرے سال میں داخل ہو اور بناء بر احتیاط مستحب اور بہتر ہے کہ بکری کا ایک سال تمام ہو گیا ہو اگر چہ بکری سات مہینے کی بھی ہو تو کافی ہے بنا ء بر قول اقویٰ
مسئلہ ۵۱۹: قربانی کے جانور کے تمام اعضاء صحیح و سالم ہوں لہذا اگر اندھا ، لنگڑا ، کان کٹا ہوا ، سینگ ٹوٹی ہوئی ، دانت ٹوٹا ہوا یا اس کے طرح اور بھی کوئی نقص ہو یا جانور دبلا ہو تو یہ قربانی کے لئے کافی نہیں ہوگا
مسئلہ ۵۲۰: بکریوں میں بعض بکریاں اگر پیدائشی طور پر دم بریدہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر بکری خلقت کے اعتبار سے دم والی ہونا چاہیے لیکن کسی وجہ سے نہ ہو تو یہ کافی نہیں ہے اور اگر حیوان کے خصیے کچلے ہوں یا اس کی رگ کچلی ہوئی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے اور اسی طرح اگر سینگ کا ظاہری حصہ ٹوٹا ہوا ہو تو کافی ہے اور اگر دانت بھی گرا ہوا ہو جب بھی کوئی حرج نہیں ہیاور مکروہ ہے کہ کان پھٹا ہو یا کان میں سوراخ ہو یا ملا ہوا ہو
مسئلہ ۵۲۱: تمام شرائط جو قربانی کے لئے ذکر ہوئے ہیں وہ اس صورت میں ہے جب انسان اس کی قدرت رکھتا ہو لیکن اگر قربانی کا مل نہ مل سکے اور ناقص ( جانور ) قربانی کے لئے آسانی سے مل جائے تو اسی ناقص کی قربانی کرنا چاہیے
مسئلہ ۵۲۲: اگر قربانی کے لئے ناقص ( عیب دار ) جانور بھی میسر نہ ہو اور حاجی ذی الحجہ کے اخر تک مکہ معظمہ میں رہے اور قربانی کا جانور تلاش کر سکتا ہو تو ضروری ہے کہ تلاش کرے اور قربانی کرے اور اگر مکہ میں نہیں رکا تو کسی امین شخص کو پیسہ دے تاکہ اس کی طرف سے قربانی کرے یہ کام انجام دے اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو قربانی کے بدلے دس دن روزہ رکھے
مسئلہ ۵۲۳: قربانی کے بدلے میں دس سن روزہ رکھے یعنی تین دن حج کے دوران روزہ رکھے اور حج سے واپس آکر سات دن اپنے وطن میں روزہ رکے اور تین دن جو حج میں روزہ رکھے گا وہ ذی الحجہ کے مہینے میں ان شرائط کے ساتھ رکھے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱ تین دن پے در پے روزہ رکھے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲ یہ روزے ایام تشریق ( ۱۰!۱۱!۱۲! ذی الحجہ ) میں رکھے مگر یہ کہ وہ ۱۱!۱۲!۱۳! ذی الحجہ کو منیٰ میں نہ ہو اس صورت میں جائز ہے اور روزہ رکھ سکتا ہے
مسئلہ ۵۲۴: روزہ رکھنے میں ذی الحجہ کے آخر تک تاخیر کر سکتا ہے مگر یہ کہ دو دن یعنی ترویہ اور عرفہ کے دن روزہ رکھا ہوا ور ضروری ہے کہ منیٰ سے آنے کے فوراً بعد تیسرے دن روزہ رکھے اور تاخیر نہ کرے اور واجب ہے کہ یہ تین دن منیٰ یا مکہ میں روزہ دار رہے اور اگر راستے میں کوئی عذر ہو اور اگر اس سے بھی معذور ہو تو وطن میں روزہ رکھے اور اگر بغیر کسی عذر کے منیٰ ، مکہ اور سفر میں روزہ نہیں رکھا تو اس نے گناہ کیا ہے لیکن وطن میں روزہ رکھنا صحیح ہوگا
مسئلہ ۵۲۵: اگر قربانی کرنے اور اس کا بدل ( روزہ ) رکھنے سے معذور ہو تو اس پر کوئی چیز نہیں ہے
مسئلہ۵۲۶: اگر تین دن روزہ رکھا اور قربانی مل گئی تو اس پر قربانی کرنا واجب نہیں ہے اگر چہ بہتر ہے کہ قربانی کرے
مسئلہ ۵۲۷: اگر قربانی کے جانور کو اس خیال سے خریدا کے موٹا ہے اور ذبح کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ دبلا تھا یا یہ کہ ذبح کرتے وقت دبلا ہو گیا تو تینوں صورت میں کفایت کرے گا لیکن اگر ذبح کرنے سے پہلے معلوم ہو کہ دبلا تھا بناء بر احتیاط کافی نہیں ہوگا
مسئلہ ۵۲۸: اگر جانور کو صحیح سالم سمجھ کر خریدا اور بعد میں معلوم ہوا کہ ناقص ہے تو اگر پیسہ دے دیا ہے تو یہی کافی ہے لیکن اگر پیسہ نہیں دیا ہے تو ضروری ہے ( بناء بر احتیاط ) اسے تبدیل کر دے لیکن اگر جانورکو ناقص سمجھ کر خریدا اور بعد میں معلوم ہوا کہ صحیح و سالم ہے تو بھی کافی ہے چاہے ذبح کے بعد ہی کیوں نہ ہو اس صورت میں کہ اس نے قصد قربت کیا ہو
مسئلہ ۵۲۹: احتیاط مستحب یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصّے کئے جائیں اس میں سے ایک حصہ مومنین کو ہدیہ دیدے اور جائز نہیں ہے کہ تمام گوشت خود اور اہل و عیال کو کھلائے اگر وہ فقیر نہ ہوں یا واجب النفقہ ہوں اور یہ بھی جائز نہیں ہے کہ تمام گوشت کو فقیر کے علاوہ کسی کو دے اور اگر فقیر ہو تو اس تک پہونچائے
مسئلہ ۵۳۰: انسان کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ خود جانور کو ذبح کرے بلکہ نائب بھی معین کر سکتا ہے اور اس صورت میں صاحب قربانی نیت کرے اور نائب کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ نیت کرے اگر احتیاط یہ ہے کہ نائب نیت کرے
مسئلہ۵۳۱: قربانی کرنے کا دن ۱۰!۱۱!۱۲! ذی الحجہ ہے اور اسے ایام تشریق کہتے ہیں اور اگر عمداً ان تینوں دنوں میں قربانی نہ کرے تو اس نے گناہ کیا ہے اور ذی الحجہ کے بقیہ دنوں میں قربانی کرے اور حج صحیح ہے
مسئلہ ۵۳۲: عید کے دن قربانی کرنا یا ایام تشریق میں قربانی کرنا واجب ہے اور تاخیر کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر کسی عذر کی وجہ سے ذبح کرنے میں تاخیر کرے تو ذی الحجہ کے آخر تک قربانی کر سکتا ہے اور یہ کفایت کرے گی
مسئلہ ۵۳۳: منیٰ میں قربانی کرنا واجب ہے منیٰ کے علاوہ کافی نہیں ہے لیکن وہ مذبح خانہ جو اس دور میں بنایا گیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ منیٰ کے باہر بنا ہے اور معیصم مذبح خانہ میں مجبوری یا مشکلات کی وجہ سے وہاں قربانی کر سکتا ہے اور کافی ہوگی
مسئلہ ۵۳۴: احتیاط واجب یہ ہے کہ قربانی رمی کے بعد اور تقصیر سے پہلے کرے اور اگر بھول کر یا بیوقوفی یا مشکل یا مجبوری کی وجہ سے ترتیب کے خلاف عمل کیا تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر عمداً مخالفت کرے تو احتیاط یہ ہے کہ جو کچھ پہلے انجام دے چکا ہے اسے دوبارہ انجام دے
مسئلہ ۵۳۵: قربانی کا کوئی بھی حصہ ( گوشت وغیرہ ) حرم کے حدود سے باہر لے جانا صحیح نہیں ہے مگر یہ کہ منیٰ اور حرم کے حدود میں اس کا کافی مصرف نہ ہو سکے

۶۔حلق یا تقصیر

مسئلہ ۵۳۶: واجبات حج تمتع سے چھٹی چیز حلق یا تقصیر ہے
مسئلہ ۵۳۷: قربانی کے بعد مردوں پر واجب ہے کہ حلق ( سر کو منڈائے) یا تقصیر ( کچھ ناخن یا تھوڑا سا بال یا داڑھی کاٹنا) ہے خصوصاً جس کا پہلا حج ہے اور پہلی مرتبہ مکہ مکرمہ مشرف ہوا ہے چاہے خود اپنا واجبی حج بجا لائے یا کسی کی طرف سے حج کرے بلکہ احتیاط یہ ہے کہ حلق ( سر منڈائے ) کرے اور لڑکے اور بچے مردوں کے حکم میں آتے ہیں لیکن عورتوں اور لڑکیوں کا سر منڈانا حرام ہے ( بنا بر احتیاط ) اور ان کے لئے ضروری ہے کہ تقصیر کریں ( یعنی کچھ بال یا ناخن کاٹے
مسئلہ ۵۳۸: حلق یا تقصیر میں تین چیزیں واجب ہیں
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱ نیت
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲ منی میں موجود ہو
[L:4 R:220][L:4 R:219]۳ ترتیب کی رعایت کرے (بنا بر احتیاط)
مسئلہ ۵۳۹:حلق یا تقصیر میں واجب ہے کہ قربۃ الی اللہ کی نیت کرے اور نیت خود حج کرنے والا کرے نہ وہ شخص جو سر مونڈرہا ہو مثلاً یہ کہے حلق یا تقصیر کرتا ہوں حج تمتع کے لئے قربۃ الی اللہ تعالیٰ
مسئلہ ۵۴۰: حلق اور تقصیر کے لئے ضروری ہے کہ دن میں انجام دیا جائے اور ایام تشریق کے آخری دن تک تاخیر کرنا جائز ہے لیکن اگر کوئی مضطر و پریشان ہے تو وہ رات میں حلق یا تقصیر کر سکتا ہے
مسئلہ ۵۴۱: اگر حلق یا تقصیر کو انجام نہیں دیا اور منیٰ سے باہر چلا گیا ( چاہے جان بوجھ کر باہر جائے یا بھول کر چلا جائے یا نادانی یا کسی مجبوری کے تحت باہر چلا جائے) تو واجب ہے کہ منیٰ واپس پلٹ جائے اور حلق یا تقصیر کو انجام دے یہاں تک کہ اگر ذی الحجہ کے بعد بھی ہو اور اگر منیٰ واپس جانا ممکن نہ ہو تو جہاں بھی موجود ہے وہیں پر حلق یا تقصیر انجام دے اور واجب نہیں ہے کہ سر کے بال کو منیٰ بھیجے لیکن مستحب ہے ( کہ سر کا بال منیٰ بھیج دے)
مسئلہ ۵۴۲: اگر حلق یا تقصیر کو منیٰ کے علاوہ انجام دیا ہے اور بعد میں متوجہ ہوا کہ منیٰ میں انجام دینا چاہیے تو ضروری ہے کہ واپس پلٹ جائے اور منیٰ میں انجام دے اور اگر واپس جانا ممکن نہ ہو تو جہاں بھی ہے وہیں حلق یا تقصیر انجام دے اور حلق اور تقصیر گذشتہ مسئلے میں اور اس مسلئے میں ضروری ہے کہ فوراً انجام دیا جائے
مسئلہ ۵۴۳: بناء بر احتیاط اعمال منیٰ میں ترتیب کی رعایت کرے یعنی پہلے رمی جمرہ عقبہ ، پھر قربانی اور اس کے بعد حلق یا تقصیر کرے لیکن اگر کسی مجبوری یا عذر کی وجہ سے رمی جمرہ کے بعد حلق یا تقصیر انجام ( ترتیب کی رعایت نہ کرے ) اور پھر قربانی کرے تو کوئی حرج نہیں ہے
مسئلہ ۵۴۴: ضروری ہے کہ رمی جمرہ عقبہ عید کے دن ( ۱۰! ذی الحجہ ) انجام دیا جائے لیکن قربانی اور حلق و تقصیر کو ایام تشریق کے آخر تک انجام دے سکتا ہے
مسئلہ ۵۴۵: حلق کو بلیڈ سے انجام دینا ضروری نہیں ہے بلکہ ماوزر (Moser)( بال مونڈنے کی مشین ) وغیرہ سے اگر سر مونڈے جب بھی کافی ہے
مسئلہ ۵۴۶: قول اقویٰ یہ ہے حلق یا تقصیر کے بعد محرمات احرام حلال ہو جائے گا فقط خوشبو سونگھنا اور بیوی کے ساتھ ہمبستر ہونا حلال نہیں ہوگا لیکن طواف نساء کے بعد بیوی حلال ہو جائے ھی اور مردوں کے لئے سلا ہوا لباس پہننا اور سر کا ڈھانکنا سعی کے بعد مکروہ ہے اور سعی کے بعد اچھی خوشبو کے سونگھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر چہ بناء بر مشہور مکروہ ہے
مسئلہ ۵۴۷: وہ جگہ جہاں قربانی کے بجائے روزہ رکھنا ہے حلق یا تقصیر کی وجہ سے محرمات حلیّت ( حلال ہونا ) حاصل ہو جائے گی اگر تین دن بھی روزہ رکھا ہو اور اسی طرح اگر وظیفہ یہ تھا کہ قربانی کا پیسہ کسی امین کے پاس دیدے اور اسے دیدیا اگر چہ اس نے ابھی قربانی کا جانور نہیں خریدا ہے اور ذبح نہیں کیا ہے تو حلق یا تقصیر کے ذریعے محرمات احرام حلال ہو جائیں گے

۷۔ طواف زیارت

مسئلہ ۵۴۸: واجبات حج تمتع سے ساتویں چیز حج تمتع کا طواف ہے جسے طواف زیارت کہتے ہیں اور یہ طواف تمام شرائط و واجبات میں عمرہ تمتع کی طرح ہے مگر نیت اس طرح کرے کہ حج تمتع کے لئے طواف زیارت بجا لاتا ہوں قربۃ الی اللہ تعالیٰ

۸۔ دو رکعت نماز طواف پڑھنا

مسئلہ ۵۴۹: واجبات حج تمتع سے آٹھویں چیز دو رکعت نماز طواف حج تمتع مقام ابراہیم ؑ یا اس کے پشت پر پڑھے اور اس نماز میں اور نماز طواف عمرہ تمتع میں کوئی فرق نہیں ہے مگر صرف نیت میں اور اس طرح نیت کرے کہ دو رکعت نماز طواف حج تمتع پڑھتا ہوں قربۃ الی اللہ تعالیٰ

۹۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا

مسئلہ ۵۵۰: واجبات حج تمتع سے نویں چیز صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا ہے اور اس کا طریقہ اور شرائط بالکل وہی ہے جو عمرہ تمتع کی سعی میں ہے اور صرف نیت میں فرق ہوگا اور اس طرح نیت کرے سعی کرتا ہوں صفا ومروہ کے درمیان حج تمتع کے لئے قربۃ الی اللہ تعالیٰ
مسئلہ ۵۵۱: اس سعی کے بعد تقصیر نہیں ہے بر خلاف عمرہ کی سعی میں کہ ( اس کے بعد تقصیر ہے)
مسئلہ ۵۵۲: عید کے دن رمی جمرہ عقبہ قربانی ، حلق یا تقصیر وغیرہ انجام دینے کے بعد حاجی مکہ معظمہ جائے اور مکہ کے اعمال ( طواف ، نماز طواف ، اور سعی ) انجام دے اگر چہ تیسرے دن تک تاخیر بغیر کسی کراہت کے جائز ہے اور آخر ذی الحجہ تک تاخیر کرنا جائز ہے مگر کراہت ہے
مسئلہ ۵۵۳: طواف حج ، نماز طواف اور سعی اور اسی طرح طواف نساء اور نماز طواف نساء کا اختیاری حالت میں وقوفین ( وقوف عرفات وقوف مشعر ) پر مقدم کرنا جائز نہیں ہے لیکن معذور افراد کے لئے کوئی حرج نہیں ہے مثلاً وہ عورت جسے حیض و نفاس کا خطرہ ہو اور اسی طرح بیمار اور ضعیف العمر شخص اور ضعیف عورت کہ منیٰ کے بعد ان اعمال کو انجام دینے میں انھیں زحمت و پریشانی کا سامنا کرنا پڑے اور اسی طرح اگر کوئی مجبور شخص ان چیزوں کو مقدم کر سکتا ہے اوراعمال منیٰ بجا لانے کے بعد حج کے اعمال مکمل ہو جائیں گے اور انشاء اللہ حج صحیح ہے
مسئلہ ۵۵۴: طواف حج ، نماز طواف اور سعی انجام دینے کے بعد اچھی خوشبو کا سونگھنا بھی حلال ہو جائے گا

۱۰۔۱۱ طواف نساء اور نماز طواف نساء

مسئلہ ۵۵۵: واجبات حج تمتع سے دسویں اور گیارہویں چیز طواف نساء اور نماز طواف نساء ہے
مسئلہ ۵۵۶: طواف نساء اور نماز طواف نساء کی ترکیب عمرہ تمتع کے طواف اور اس کی نماز کی طرح ہے صرف نیت میں فرق ہے اور اس طرح نیت کرے طواف نساء بجا لاتا ہوں حج تمتع کے لئے قربۃ الی اللہ تعالی اور نبماز طواف نساء بجا لاتا ہوں حج تمتع کے لئے قربۃ الی اللہ تعالیٰ
مسئلہ ۵۵۷: طواف نساء اور نماز طواف نساء کے بعد عورت بھی حلال ہو جاتی ہے اور یہ طواف اور نماز مرد ، عورت ، چھوٹے اور بڑے سبھی پر واجب ہے

۱۲۔ منیٰ میں رات گذارنا

مسئلہ ۵۵۸: واجبات حج تمتع سے بارہویں چیز منیٰ میں رات گذارنا ہے یعنی منیٰ میں رات بھر رہے اور کوئی فرق نہیں ہے کہ چاہے رات بھر سوتا رہے یا بیدار رہے
مسئلہ ۵۵۹: ہر حاجی پر واجب ہے کہ ذی الحجہ کی گیارہویں کی شب اور بارہویں کی شب ( اور کچھ مدت تیرہویں کی شب میں ) منیٰ میں قربۃ الی اللہ کے قصد سے گزارے اور اس طرح نیت کرے آج رات منیٰ میں بیتوتہ کر رہا ہوں حج تمتع کے لئے قربۃ الی اللہ تعالی
مسئلہ ۵۶۰: کچھ لوگوں پر تیرہویں کی شب منیٰ میں رکنا واجب ہے وہ تین جگہیں ہیں
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱ اگر حالت احرام میں شکار کیا ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲ اگر حالت احرام میں عورت کے ساتھ جماع کیا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۳ اگر ۱۲! ذی الحجہ کو غروب آفتاب تک منیٰ سے کوچ نہ کیا ہو
مسئلہ ۵۶۱: اگر کوئی منیٰ میں آدھی رات بھی گزارے تو بھی کافی ہے چاہے وہ رات کا پہلا حصہ ہو ( اذان مغرب کے شروع ہونے سے آدھی رات تک ) یا رات کا دوسرا حصہ ہو ( آدھی رات سے صبح کی اذان تک ) اور آدھی رات سے مراد اذان مغرب سے صبح کی اذان تک ہے اگر چہ احتیاط یہ ہے کہ آدھا حصہ یعنی طلوع آفتاب تک رعایت کرے اس شخص کے لئے جو رات کے پہلا حصہ منیٰ میں گزارے اور اگر کسی نے جان بوجھ کر منیٰ میں بیتوتہ کرنے کو ترک کر دیا تو ہر رات کا کفارہ ایک بکری ہے
مسئلہ ۵۶۲: چار جگہیں ایسی ہیں کہ اگر منیٰ میں نہ رکے تو گناہگار نہیں ہے اور کفارہ بھی نہیں ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱ وہ شخص جو مکہ معظمہ سے منیٰ جانے کے ارادے سے کوچ کرے اور راستے میں سو جائے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲ وہ شخص جو رات مکہ میں بسر کرے اور بناء بر احتیاط پوری رات بلکہ رات کا کچھ حصہ طواف سعی یا دوسری عباتوں کو انجام دینے کے لئے مسجد الحرام میں مشغول تھا
[L:4 R:220][L:4 R:219]۳ اگر منیٰ میں جگہ نہ ہو یا کوئی عذر مانع ہو مثلاً بیماری یا جان کا خطرہ یا عزت کا خطرہ یا مال کا خطرہ ہو
[L:4 R:220][L:4 R:219]۴ جو شخص حکم یا اس کے موضوع سے جاہل تھا یا بھول گیا یا غافل تھا یا کوئی اور عذر ہو
مسئلہ ۵۶۳:بارہویں ذی الحجہ کو زوال سے پہلے منیٰ سے کوچ کرنا صحیح نہیں ہے اور کوچ کر گیا تو ضروری ہے کہ واپس پلٹ جائے اور اگر بارہ ذی الحجہ کو غروب آفتاب تک منیٰ میں رہا تو واجب ہے کہ تیرہویں رات کا کچھ حصہ منیٰ میں رہے اور تیرہویں ذی الحجہ کو تینوں شیطانوں کو کنکری مارے اور اگر عمداً نہ رکا تو وہ گناہگار ہے اور اس کا کفارہ ایک بکری ہے
مسئلہ ۵۶۴: صرورہ شخص کے لئے ( یعنی وہ شخص جو پہلی مرتبہ حج سے مشرف ہوا ہے ) مستحب ہے کہ وہ تیرہویں کی شب منیٰ میں رہے اور تیرہ کنکریاں مارے اور یہی حکم اس شخص کے لئے بھی ہے جو بعض محرمات احرام کا مرتکب ہوا ہے بلکہ تمام حاجیوں کے لئے بہتر ہے

۱۳۔ رمی جمرات

مسئلہ ۵۶۵: واجبات حج تمتع سے تیرہویں چیز رمی جمرات ( کنکری مارنا ) یعنی تینوں شیطانوں کو کنکری مارنا ہے اولی ، وسطی، عقبہ ) گیارہویں اور بارہویں ذی الحجہ کو ( اور اگر شب تیرہ کو منیٰ میں رکنا واجب تھا تو تیرہویں ذی الحجہ کو شیطانوں کو کنکریاں مارے ) قصد قربت الی اللہ تعالی کنکری مارے اور اس طرح نیت کرے کہ کنکری مارتا ہوں اس شیطان کو سات سنگریزوں سے حج تمتع کے لئے قربۃ الی اللہ تعالی
مسئلہ۵۶۶: کنکری مارنے کا وقت اول طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک ہے اور ترتیب کی رعایت کرنا ضروری ہے یعنی پہلے سات کنکری جمرہ اولیٰ کو پھر سات کنکری جمرہ وسطیٰ کو پھر سات کنکری جمرہ عقبہ کو مارے مجموعہ روزانہ اکیس کنکری مارے
مسئلہ ۵۶۷: وہ لوگ جو دن میں کنکری مارنے سے معذور ہیں عورتیں ، بچے اور مریض اور وہ لوگ جو بھیڑ وغیرہ یا دشمن کے خوف کی وجہ سے کنکری نہیں مار سکتے تو وہ رات میں کنکری مار سکتے ہیں
مسئلہ ۵۶۸: آزاد مختار شخص پر واجب ہے کہ خود کنکریاں مارے اور جب تک مجبور نہ ہو نائب معین نہیں کر سکتا اور وہ واجبات جو عید کے دن رمی جمرہ عقبہ کے سلسلے میں ذکر ہوا ہے ( مسئلہ ۵۰۸) یہاں پر اس کی بھی رعایت کرے
مسئلہ ۵۶۹:موالات یعنی کنکریاں کا سات مرتبہ پے در پے مارنا شرط نہیں ہے اور زیادہ فاصلہ بھی نہیں ہونا چاہیے اگر فاصلہ زیادہ ہو گیا تو دوبارہ کنکریاں مارے لیکن ان کے درمیان تھوڑا سا استراحت اور آرام میں کوئی حرج نہیں ہے اور جمرہ اولیٰ ، جمرہ وسطیٰ اور جمرہ عقبہ کے درمیان اگر زیادہ فاصلہ بھی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے اور وہ جمرہ اولیٰ کو صبح میں جمرہ وسطیٰ کو ظہر کے وقت اور جمرہ عقبہ کو غروب کے وقت انجام دے سکتا ہے
مسئلہ ۵۷۰: اگر تینوں شیطانوں کو عمداً کنکریاں مارنا ترک کر دے تو وہ گناہگار ہے مگر حج باطل نہیں ہے اور کفارہ بھی نہیں ہے اور محرمات احرام میں سے کوئی بھی چیز باقی نہیں ہوگی ، اور اگر بھول کر یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے یا کسی بھی مجبوری یا عذر کی وجہ سے انجام نہ دے تو گناہگار ہے اور کفارہ بھی نہیں ہے لیکن تمام صورتوں میں قضا بجا لائے
مسئلہ ۵۷۱: اگر شیطان کو کنکریاں مارنا بھول جائے اور مکہ مکرمہ چلا جائے تو ضروری ہے کہ منیٰ واپس پلٹ جائے اور اس کی قضا کرے اور اگر اسے یاد نہ آئے یہاں تک کہ اپنے وطن واپس آجائے تو ضروری ہے کہ آئندہ سال خودیا نائب اس کی قضا کرے

عمرہ مفردہ کے احکام

مسئلہ ۵۷۲: عمرہ مفردہ کبھی اصالۃ ً واجب ہوتا ہے اور کبھی عرض واجب ہوتا ہے اور کبھی مستحب ہوگا
مسئلہ ۵۷۳: عمرہ بھی حج کی طرح ہر وہ مستطیع جس کے اندر شرائط پائے جاتے ہیں اس پر واجب ہے اور وجوب بھی حج کے وجوب کی طرح فوری ہے لہذا اگر کوئی عمرہ کے لئے مستطیع ہو گیا اور اگر چہ حج کے لئے مستطیع نہ ہو بناء بر احتیاط واجب ہے اسی وقت عمرہ مفردہ بجا لائے
مسئلہ ۵۷۴: اگر کوئی شخص حج کی استطاعت نہیں رکھتا لیکن کسی اور کی طرف سے حج تمتع کے لئے اجیر ہوا ہو تو جب حج نیابتی کے اعمال ختم ہو جائیں اور یہ مکہ میں عمرہ مفردہ بجالانے کی استطاعت رکھتا ہو اگر چہ حج کی استطاعت نہیں رکھتا بناء بر احتیاط واجب ہے کہ حج نیابتی کے اعمال تمام ہونے کے بعد فوراً اپنے لئے عمرہ مفردہ انجام دے
مسئلہ ۵۷۵: اگر کوئی شخص حج افراد یا حج قران بجا لانے کی استطاعت رکھتا ہو لیکن عمرہ مفردہ بجا لانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو واجب ہے حج افراد یا قران بجا لائے اور جب بھی عمرہ بجا لانے کی استطاعت ہو جائے عمرہ بجا لائے
مسئلہ ۵۷۶: اگر کوئی شخص کسی کی طرف سے حج کے لئے اجیر ہوا ہو اور خود حج کے استطاعت نہ رکھتا ہو تو اگر حج نیابتی کے اعمال بجا لانے کے بعد عمرہ مفردہ ( کہ بناء بر احتیاط واجب تھا ) انجام نہیں دیا تو واجب ہے کہ اس کی قضا کرے اور اگر عمرہ کو مفردہ انجام دیا اور آئندہ سال تک حج کی استطاعت پیدا کر لیا تو عمرہ تمتع اور حج تمتع اس پر واجب ہو جائے گا
مسئلہ ۵۷۷: مستحب ہے کہ عمرہ مفردہ کو کئی مرتبہ بجا لائے اور بہتر یہ ہے کہ ایک مہینے کے فاصلے سے بجا لائے اور ظاہراً دو عمرہ کے درمیان دس روز کا فاصلہ کافی ہے اس صورت میں جب دونوں عمرہ ایک ہی شخص انجام دے رہا ہو البتہ دس دن سے کم فاصلہ پر قول اقرب یہ ہے بجا لانے میں کوئی حرج نہیں ہے
مسئلہ ۵۷۸: اگر عمرہ مفردہ دو یا دو سے زیادہ افراد کے لئے انجام دے مثلاً چند آدمیوں کی طرف سے نائب مقرر ہو تو فاصلہ کی رعایت بہتر نہیں ہے
مسئلہ ۵۷۹: جس طرح سے عمرہ استطاعت کی بناء پر واجب ہوتا ہے اسی طرح نذر ، عہد ، قسم شرط ضمانت عقد ، اجارہ ، صلح اور اس کے مثل دیگر چیزیں بھی واجب ہوتی ہیں مگر عمرہ تمتع ہونا چاہیے نہ عمرہ تمتع کیونکہ عمرہ حج تمتع کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے

عمرہ مفردہ کے اعمال

مسئلہ ۵۸۰: عمرہ مفردہ کے اعمال یہ ہیں
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱ نیت
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲ احرام
[L:4 R:220][L:4 R:219]۳ طواف
[L:4 R:220][L:4 R:219]۴ نماز طواف
[L:4 R:220][L:4 R:219]۵ سعی
[L:4 R:220][L:4 R:219]۶ تقصیر یا حلق
[L:4 R:220][L:4 R:219]۷ طواف نساء
[L:4 R:220][L:4 R:219]۸ نماز طواف نساء
مسئلہ ۵۸۱: عمرہ مفردہ اور حج تمتع میں چند فرق ہیں
[L:4 R:220][L:4 R:219]۱ نیت ، عمرہ مفردہ میں اس طرح نیت کرے گا عمرہ مفردہ بجا لاتا ہوں قربۃ الی اللہ تعالیٰ عمرہ مفردہ کے لئے طواف بجا لاتا ہوں قربۃ الی اللہ عمرہ مفردہ کے لئے نماز طواف بجا لاتا ہوں قربۃ الی اللہ تعالیٰ ۔ عمرہ مفردہ کے لئے سعی انجام دیتا ہوں قربۃ الی اللہ تعالیٰ ، عمرہ مفردہ کے لئے تقصیر انجام دیتا ہوں قربۃ الی اللہ تعالیٰ عمرہ مفردہ کے لئے طواف نساء بجا لاتا ہوں قربۃ الی اللہ تعالی ، عمرہ مفردہ کے لئے دو رکعت نماز طواف نساء پڑھتا ہوں قربۃ الی اللہ تعالیٰ
[L:4 R:220][L:4 R:219]۲عمرہ مفردہ میں طواف نساء اور نماز طواف نساء لازم ہے لیکن عمرہ تمتع میں واجب نہیں ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۳ عمرہ تمتع حج کے مہینوں ( شوال ، ذی قعدہ ، ذی الحجہ ) کے علاوہ میں واقع نہیں ہوگا اور صحیح نہیں ہے لیکن عمرہ مفردہ کو سال کے بارہ مہینوں میں انجام دے سکتا ہے لیکن افضل یہ ہے کہ ماہ رجب اور پھر اس کے بعد ماہ رمضان میں انجام دے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۴ عمرہ تمتع میں احرام اتارنا تقصیر پر منحصر ہے اور عمرہ مفردہ میں احرام اتارنا تقصیر اور سر مونڈنے دونوں پر منحصر ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۵ عمرہ اور حج تمتع ایک ہی سال میں انجام دینا چاہیے لیکن عمرہ مفردہ اور حج تمتع قِران میں ایسا نہیں ہے اور اگر کسی پر حج افراد ہو اور حج کو اس سال اور عمرہ کو آئندہ سال بجا لائے تو حج صحیح ہے
[L:4 R:220][L:4 R:219]۶ عمرہ تمتع کی میقات ان میقات میں سے ہے جس کا ذکر گذر چکا ہے لیکن عمرہ مفردہ میں خود میقات سے بھی اور حرم کے حدود کے باہر سے بھی ( تنعیم یا جعرانہ اور حدیبیہ یا اور دوسری میقات ) احرام باندھ سکتا ہے
مسئلہ ۵۸۲: جو شخص مکہ معظمہ میں وارد ہو اس پر عمرہ واجب ہے یعنی حرم کے حدود میں بغیر احرام کے داخل ہونا حرام ہے مگر وہ افراد اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جو ایک مہینہ گذر نے سے پہلے احرام پہن کر وارد مکہ ہوئے ہیں اور اسی طرح وہ لوگ جو کار وبار کے سلسلے میں بہت زیادہ مکہ آتے جاتے ہیں مثلاً گاڑی کا ڈرائیور ( ٹرانسپوٹ کی گاڑی چلانے والا)

مصدود کے احکام

مسئلہ ۵۸۳: مصدود اس شخص کو کہتے ہیں جسے احرام باندھنے کے بعد دشمن نے حج یا عمرہ کرنے سے روک دیا ہو
مسئلہ ۵۸۴: اگر کوئی شخص عمرہ یا حج انجام دینے سے روک دیا گیا ہو تو وہیں پر جہاں اسے روکا گیا ہے قربانی کرے اور احرام اتارے دے اور ضروری نہیں ہے کہ عید کے دن تک صبر کرے اور اگر وقوف عرفات اور وقوف مشعر سے روک دیا گیا تو جہاںپر روکا گیا ہے وہیں قربانی کرے اور احرام اتار دے اور اگر دونوں وقوف میں سے کسی سے روکا گیا تو دوسرا والا بقیہ اعمال کے ساتھ انجام دے تو اس کا حج صحیح ہے
مسئلہ ۵۸۵: اگر منیٰ کے تینوں اعمال بجا لانے سےیا ان میں سے بعض کے بجا لانے سے کسی نے روک دیا تو اگر ممکن ہو تو نائب مقرر کرے اور اگر نائب معین کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ہو تو اس پر حکم مصدود جاری ہوگا اور اگر مکہ کے اعمال بجالانے سے منیٰ کے بعد روک دیا گیا اور یہ ممنوعیت ذی الحجہ کے آخر تک رہی تو اس پر احکام مصدود جاری ہو گا ، اور اگر آخر ذی الحجہ تک اعمال بجا لانے پر قادر ہو جائے تو ضروری ہے کہ بذات خود انجام دے اور اس کا حج صحیح ہے
اور اگر واپسی میں منیٰ جانے سے روک دیا گیا اور اعمال مکہ کو انجام دیا ہے تو اعمال منیٰ کے لئے نائب معین کرنا ضروری ہے اور اگر اس سال ممکن نہ ہو تو آئندہ سال نائب معین کرے اور اس کا حج صحیح ہے
مسئلہ ۵۸۶: اگر شخص مصدود کئی سال سے مستطیع تھا یا یہ کہ آئندہ تک اس کی استطاعت باقی رہے تو اس پر آئندہ سال حج واجب ہے اور اگر استطاعت باقی نہ رہے تو وجوب حج ساقط ہو جائے گا

محصور کے احکام

مسئلہ ۵۸۷: محصور سے مراد وہ شخص ہے کہ احرام باندھنے کے بعد کسی بیماری کی وجہ سے اعمال حج کو انجام نہ دے سکے تو ایسی صورت میں وہ اس وقت محل ہوگاجب قربانی کرے ا ور ضروری ہے کہ محل حصر ( یعنی جہاں روکا گیا ہے ) میں قربانی کرے ۔اور اگر عمرہ سے روکا گیا ہے تو مکہ میں قربانی کرے اور اگر حج سے روکا گیا ہے تو منی میں قربانی کرے۔قربانی کرنے کے بعد وہ حالت احرام سے باہر ہو جائے گا۔
مسئلہ ۵۸۸۔اگر کوئی شخص عمرہ مفردہ میں محصور ہو ا ہے تو اسی مقام پر قربانی کر کے احرام ایار دے اوراگر چاہے تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ قربانی کو مکہ بیج دے اور قربانی کا دن اور وقت معیّن کردے اور پھر اس مقررہ دن اور وقت کے گزر جانے کے بعد احرام اُتار دے ،اور تمام محرمات احرام اس پر حلال ہو جائیں گے یہاں تک کہ عورت(بیوی) بھی اس پر حلال ہو جائے گی ، اگر چہ احتیاط مستحب یہ ہے جب تک دوبارہ عمرہ بجا نہ لائے صبر کرے ۔
مسئلہ ۵۸۹: اگر عمرہ تمتع چاہے واجب چاہے مستحب میں محصور ہوجائے تو گذشتہ مسئلہ کا حکم رکھتا ہے
مسئلہ ۵۹۰: اگر احرام حج پہننے کے بعد وقوف عرفات و مشعر سے روک دیا گیا تو حج اس سے ختم ہو گیا اور ضروری ہے کہ عمرہ مفردہ انجام دے اور احرام اتاردے لیکن اگر دونوں وقوف میں سے کسی ایک سے روکا گیا اور دوسرے کو انجام دیدیا تو حکم محصور جاری نہیں ہوگا اور اس کا حج صحیح ہے اور اگر دونوں وقوف یا دونوں میں سے ایک وقوف کو درک کیا لیکن اعمال منیٰ کے بعد بیمار ہو گیا تو اگر منیٰ جانا ممکن ہو تو واپس پلٹ جائے اور وہاں کے اعمال کی قضا کرے اور اگر بذات خود امکان نہ رکھتا ہو تو ضروری ہے کہ قربانی اور رمی کے لئے نائب معین کرے اور حلق و تقصیر انجام دے کر احرام اتاردے اور اگر منیٰ کے بعد اعمال مکہ انجام دینے سے روکا گیا اور اگر آخر ذی الحجہ تک اعمال انجام دینا ممکن نہ ہو تو بذات خود انجام دے اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو نائب معین کرے اور یہی کافی ہے
مسئلہ۵۹۱: اگر منیٰ اور مکہ کے تمام اعمال سے روک دیا گیا تو ضروری ہے کہ قربانی کرے اور احرام اتاردے اور اگر آئندہ سال تک استطاعت باقی رہے یا یہ کہ پہلے سے اس پر حج واجب تھا تو ضروری ہے کہ آئندہ سال حج کو بجا لائے
واللہ العالم
سبحان ربک ربّ العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ علی محمد وآلہ الطاھرین