خطاب آيت الله العظمى سيد صادق حسينى شيرازى دام ظله به مبلغين ماه محرم



بسم الله الرحمن الرحيم

گزشتہ برسون کي طرح امسال بھي ماہ محرم الحرام سے پہلے حوزات علميہ کے مبلغين شہر قم ميں مرجع عاليقدر حضرت آيت اللہ العظميٰ الحاج سيد صادق حسيني شيرازي دام ظلہ العالي کي خدمت ميں حاضر ہوئے تاکہ آپ کے بيانات اور نصيحتوں سے مستفيد ہو سکيں۔
معظم لہ نے ان مبلغان اسلام کے لئے دعا کرتے ہوئے شعار حسيني کے سلسلہ سے تقرير فرمائي۔آپ نے اپنے بيان کا آغاز حضرت سيد الشہدا امام حسين عليہ السلام کے خطبہ سے کيا جو امام عليہ السلام نے ٢ محرم ٦١ ہ کو کربلا ميں وارد ہوتے وقت ديا تھا۔
الناس عبید الدنیا والدین لعق علی ألسنتهم، یحوطونه ما درّت معایشهم، فاذا محصوا بالبلاء قل الدیانون" لوگ دنیا کے غلام ہیں دین فقط ان کی زبان پر ہے جب تک حالات ان کے موافق ہیں وہ دینداری سے پیش آتے ہیں لیکن جب سختی اور مشکلات سے روبرو ہوتے ہیں تو دین دار کم ملتے ہیں ۔معظم لہ نے امام حسین علیہ السلام کے اس جملہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نکتہ کی طرف توجہ رہے کہ لفظ "الناس" عام ہے اور اللہ کے خاص بندوں کو چھوڑ کر سب پر صادق آتا ہے ،در واقع انسان کی طبیعت فطرت الہی کے برخلاف اس طرح عیاں ہوگی ۔ علماء کے بقول یہ قضیہ خارجیہ ہے یعنی بہت کم افراد کے علاوہ تمام انسان اسی طرح دنیا کے غلام ہیں۔جیسے کہ قران کریم میں ارشاد ہوا :" عَبْدًا مَّمْلُوکًا لاَّ یَقْدِرُ عَلَی شَیْءٍ " یعنی زر خرید غلام جو کسی کام پر قادر نہیں ہیں۔سورہ نحل آیت ۷۵۔
مرجع عالی قدر نے فرمایا:یہ لوگ جب دینداری کی باتیں کرتے ہیں تو اس لئے نہیں کہ یہ دیندار ہیں بلکہ ان کے نزدیک دین دنیا کمانے کا وسیلہ ہے ۔ لیکن اگر یہ خطرہ محسوس کریں گے تو فورا فرار اختیار کرکے بے دین ہو جائیں گے۔معاویہ ،یزید اور ابن سعد ہمیشہ دین کا دم بھرتے تھے لیکن یہی پسر سعد دنیا کے لئے امام حسین علیہ السلام کے بدن اطہر کو پامال کرنے کا حکم دیتا ہے ۔کیا یہی دین ہے اور کیا یہی کردار ہے؟ ہرگز نہیں۔
جیسا کہ مرحوم علامہ مجلسی نے نقل کیا ہے کہ جب امام حسین علیه السلام کربلا میں وارد ہوئے تو آپ کے ہمراہ ۱۵۰۰ افراد تھے جو آپ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن جب انہوں نے خطرہ محسوس کیاتو آپ کو تنھا چھوڑ کر فرار کر گئے اگر چہ بعد میں آپ کی مظلومیت و غربت پر گریہ بھی کیا۔
حضرت آیت اللہ العظمی سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ نے اپنی تقریر کے دوسرے حصہ میں فرمایا۔ماہ محرم نزدیک ہے لہذا امتحان میں کامیابی کے لئے یعنی وہ سخت امتحان جو امام حسین علیہ السلام نے انجام دیا اسکے سلسلہ میں خدا سے دعا کریں اور اہل بیت علیہم السلام سے توسل کریں البتہ محکم عزم و ارادہ بھی ضروری ہے۔
ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ بنی امیہ ،بنی عباس اور بنی عثمان کے زمانہ میں لوگ جب مورد امتحان ٹھہرتے تو اپنے گھر ،وطن، ساتھیوں اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر عالم غربت اختیار کر لیتے کبھی کبھی یہ گوشہ نشینی بیس برس تک جاری رہتی اور لوگ مر جاتے اور اپنے وطن نہ لوٹ پاتے ۔
اسی سلسلہ کے ایک قصہ کو بیان کرتے ہوئے معظم لہ نے فرمایا:جناب جابر کے ایک دوست جو مفسر قرآن و بڑے عالم تھے انہوں نے امیر المومنین علیہ السلام کی فضیلت کے سلسلہ میں ایک روایت بیان کی اور اسی وجہ سے حجاج ابن یوسف کے ظلم کا شکار ہوئے آپ نے ایران کی طرف ہجرت کی لیکن وہاں بھی حجاج کے شر سے محفوظ نہ رہ سکے اور آخر حجاج کے حکم سے گرفتار کر لئے گئے آپ کی ڈاڑھی نوچ لی گئی اور ۴۰۰ تازیانہ مارے گئے ۔آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اس طرح کے ماحول میں نیکی اور دین پر باقی رہنے والے افراد کتنے رہے ہوں گے ۔
معظم لہ نے فرمایا:ہمارے لئے معیار اہل بیت علیہم السلام ہیں ۔ہمیں چاہیے کہ ہم انکے قول و فعل کا پابند رہیں ۔ المتقدم لهم مارق، والمتأخر عنهم زاهق، واللازم لهم لاحق؛جو ان سے پیچھے رہا نابود ہو گیا جو ان سے اگے بڑہا گمراہ ہو گیا اور جو ان کے ہمراہ رہا وہ منزل مقصود تک پہنچ گیا۔
لہذا ہمیں اہل بیت علیہم السلام کی سیرت پر عمل کرنا چاہیے تاکہ منزل مقصود تک پہنچ سکیں ۔امام زمانہ (عج) نے اپنی توقیع شریف میں شیخ مفید کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:" الناصر للحق، والداعی إلیه"۔یعنی حق کی مدد کی اور اس کے طرف دعوت دی۔
قرآن کریم نے بدنہ (حج میں اونٹ قربان کیا جاتاہے ) کو شعار الہی بتایا ہے ارشاد رب العزت ہوتا ہے :" وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَکُم مِّن شَعَائِرِ اللَّهِ؛" اور قربانی کے اونٹ کو تہمارے لئے شعار الہی قرار دیا ۔سورہ حج ۳۶ مثلا اگر طواف عمدا ترک ہو جائے تو حج باطل ہے لیکن اگر قربانی عمدا ترک ہو جائے تو حج باطل نہیں ہے ہاں اس قربانی کا ادا کرنا واجب ہے ۔حج کے دوسرے ارکان بھی شعار الہی ہیں لیکن قربانی اور سعی کو شعار الہی کہا گیا ہے جب ان دونوں کی اہمیت بعض دوسرے ارکان کی نسبت کم ہے یہاں تک کہ "انما" کے ذریعہ حصر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کوئی دوسری بات نہیں ہے صرف موضوع موجبہ جرئیہ ہے کہ قربانی اور خاک کی کوئی ذاتاً کوئی اہمیت نہیں ہے لیکن چونکہ فرمان خدا ہے اگر کوئی جانور اس خاص موقع پر قربان کیا جائے اور عرفات جیسی جگہ وقوف کیا جائے تو وہ شہار الہی ہو جاتا ہے ۔اور یہ چونکہ صدق عرفی حاصل ہے لہذا اگر قرآن نے نہ بھی کہا ہوتا تب بھی یہ شعار الہی ہوتے کیونکہ قرآن نے اس کا کلی قاعدہ پہلے ہی بیان کر دیا ہے ارشاد الہی ہے :" ذَلِکَ وَمَن یُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَی الْقُلُوبِ"جو بھی شعار الہی کا احترام کرے گا تو یہ ان کے دلوں کی طہارت کی علامت ہے ۔سورہ حج آیت ۳۲)
اس مقدمہ کو بیان کرنے کے بعد معظم لہ نے امام حسین علیہ السلام کے عزاداری کو شعار الہی بتاتے ہوئے فرمایا:جو چیز بھی امام حسین علیہ السلام سے مربوط ہو جائے وہ شعار الہی ہے خدا نے آپ کو نمونہ عمل قرار دیا اور معصومین علیہم السلام سے جو روایتیں ہم تک پہنچیں ہیں ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تمام شعار حسینی شعار الہی ہیں ۔
اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کوئی عالم و دانشمند حتی معمولی معرفت رکھنے والا اس بات سے انکار نہیں کر سکتا"۔
معظم لہ نے فرمایا:خدا نے ازل سے کسی بھی مخلوق کو خلق کرنے سے پہلے ہی عرش پر لکھ دیا تھا کہ :" «إن الحسین مصباح الهدی وسفینة النجاة" بے شک حسین چراغ ہدایت اور کشتی نجات ہیں ۔
البتہ اگر کوئی حرام چیر مثلا غنا یا موسقی عزاداری میں شامل کر دی جائے تو یہ شعار الہی نہیں بلکہ حرام ہے اور اس کے لئے کوئی استثناء نہیں ہے ۔ لیکن دوسری چیزیں امام حسین علیہ السلام کے سلسلہ میں استثناء پذیر ہیں جیسے کہ وَلاَ تُلْقُواْ بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّهْلُکَةِ؛یعنی اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالو اس قاعدہ کے تحت حج جو کہ واجب ہے اگر اس میں ہلاک ہونے کا خطرہ ہو تو حرام ہو جاتا ہے بعض فقہاء کی نظر میں اگر انسان اس حالت میں حج انجام بھی دے لے تب بھی یہ حج باطل ہے لیکن جب یہی حکم امام حسین علیہ السلام کے سلسلہ میں بدل جاتا ہے ۔
معظم لہ نے فرمایا: ہمارے پاس متعدد روایات کے مطابق ہارون،متوکل،حجاج وغیر ہ کے زمانہ میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے جانا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا تھا لیکن اس کے باوجود ائمہ معصومیں علیہم السلام نے امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنے کا حکم دیا اور اس کے لئے تشویق بھی کی ۔
اس زمانہ میں زائرین کو دقت و اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا زائرین کو قید کرلیا جاتا تھا متوکل کے زمانہ میں ہاتھ پیر کاٹ لئے جاتے تھے لیکن ان سب کے باوجود امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے سلسلہ سے معصومین مسلسل تشویق کرتے رہے ۔
معظم لہ نے اس سلسلہ مٰں ایک تاریخی نکتہ بیان فرمایا: منصور دوانقی نے عید فطر کا اعلان کیا تو امام جعفر صادق علیہ السلام نے بھی افطار فرمایا تو کسی نے امام سے پوچھا اے فرزند رسول کیا آج عید ہے ؟ امام علیہ السلام نے فرمایا نہیں ،تو اس نے کہا تو آپ نے افطار کیوں کیا اس کے جواب میں امام علیہ السلام نے فرمایا :میں نے رمضان کا ایک روزہ جان کے خوف سے ادا نہیں کیا اور بعد میں اس کی قضا کروں گا لیکن یہ اس سے بہتر ہے کہ میں اپنے گردن کو تلوار سے بچالوں البتہ جہاد کا حکم الگ ہے اگر چہ جہاد میں انسان اپنے نفس کو ہلاکت میں ڈالتا ہے لیکن وہ واجب ہے
علامه مجلسی، آپ کے والد اور بعض دیگر فقہا نے زندگی میں ایک بار زیارت سیدالشهدا علیه السلام کو واجب مانا ہے. امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی اہمیت کے سلسلہ سے اتنا ہی کافی ہے کہ علامہ امینی نے کامل الزیارات پر اپنے حاشیہ میں تحریر کیا کہ اگر کوئی امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے نکلے اور اسے یقین ہو وہ مارا جائے گا تب نھی اس کا سفر کرنا جائز ہے۔
اسی طرح مرحوم شیخ خضر جو کہ علامہ بحر علوم کے شاگرد و ہمراز تھے نے اپنی ایک کتاب میں فقہا سے نقل کیا ہے کہ اگر زائر امام حسین علیہ السلام کو یقین ہو کہ اگر وہ امام علیہ السلام کی زیارت کے لئے گیا تو اس کی موت یقینی ہے تب بھی اس کا سفر کرنا جائز ہے ۔
«لاَ تُلْقُواْ بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّهْلُکَةِ» یہ ایک حکم عام ہے لیکن سفر کربلا خاص ہے اور اس حکم سے الگ ہے ۔لہذا اگر کوئی چیز عرف میں امام حسین علیہ السلام سے منسوب و مربوط ہو جائے تو وہ شعار حسینی و شعار الہی کا مصداق ہے ۔اب یہ جو فقہا سے سوال ہوئے اور انہوں نے اس کے جواب میں "جائز ہے "یا مستحب ہے " جیسی تعبیروں کا استعمال کیا اس کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اگر اس عرف میں شعار ہونا ثابت ہے تو وہ خود بخود مستحب ہو جائے گا۔
معظم لہ نے مومنین کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ لوگ کہیں ایسے افراد سے دھوکا نہ کہا جائیں جو ظاہرا دین کے مدعی ہیں اور اپنی نرم و میٹھی زبان سے عوام کو منحرم کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔معاویه کے خطبات الفاظ و عبارت کے لحاظ سے یاران علی علیہ السلام کے خطبات سے زیادہ فرق نہیں رکھتے تھے ۔ جب حجاج بن یوسف تقوی کے سلسلہ سے گفتگو کرتا تو خود بھی روتا اور دوسروں کو بھی رلاتا ۔آج بھی اہل بیت خصوصا امام حسین علیہم السلام کے قسم خوردہ دشمن اسی زبان اور وسیلہ سے امام حسین علیہ السلام کے معارف سے جنگ کر رہے ہیں اور یہ بہانہ کر رہے ہیں کہ بنی امیہ نے امام حسین علیہ السلام سے جنگ نہیں کی بلکہ کچھ نظریاتی اختلاف تھے اور اس طرح وہ عقائد کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
جب کہ امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے نکلتے وقت فرمایا تھا کہ وإنما خرجت لطلب الإصلاح فی أمة جدی، أن آمر بالمعروف، وأنهی عن المنکر و أسیر بسیرة جدی و أبی میں جا رہا یوں تاکہ اپنے جد کی امت کی اصلاح کر سکوں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انجام دوں اور اپنے جد اور بابا علی کی سیرت پر گامزن ہوں ۔
امام حسین علیہ السلام کا مقصد رسول خدا صلی اللہ و علیہ و آلہ اور امیر المومنین علی علیہ السلام کی سیرت کے مطابق حکومت اور عدالت کا قیام تھا جسے معاویہ اور یزید نے پامال کر دیا تھا ۔ظلم و ستم و قتل و غارت کو عدالت کی جگہ عام کردیا تھا ۔
اسی طرح بنی عباس نے بھی اپنے اسلاف کی سیرت پر عمل کیا لیکن بعض نے ان کی ناحق مدح و تعریف کی ہے ۔
مثال کےطور پر متوکل جو کہ شرابی و فاسق تھا اس کو چاپلوسوں نے محیی السنتہ و ممت البدعہ یعنی سنت کا زندہ کرنے والا اور بدعت کو ختم کرنے والا بتایا۔جبکہ اس کے بارے میں نقل ہے کہ جب اسے قتل کیا گیا تو اس کے بدن کا ہر ٹکڑا شراب کے برتن میں گرا اور اس کی بے شرمی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس نے امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں شراب پیش کی
لیکن افسوس صد افسوس ابن عربی نے اپنے فتوحات میں اسے امیر المومنین کے لقب سے یاد کیا ہے ۔یہی جھوٹا امیر المومنین تھا جس نے اپنے بیٹے کے ختنہ میں تین کڑوڑ دس لاکھ درھم مسلمانوں کے بیت المال سے خرچ کئے۔
کتنی بے شرمی سے دشمنان اہل بیت کے سٹیلاٰٹ چینل کےذریعہ متوکل کو ایک مفتی بتاتے ہوئے (العیاذ بللہ )شرعی احکام کو اس سے نقل کیا جا رہا ہے ۔
افسوس «البحر الذخار فی مذاهب علماء الأنصار»میں متوکل کے سینکڑوں فتوے نقل کئے گئے ہیں ۔
مرجع عالی قدر نے مبلغین کو مخاطب کر کے فرمایا : ہم پر ایک روحانی اور مدرسہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے طالب علم کی حیثیت سے فرض ہے کہ ہم حقائق کو بیان کریں اور لوگوں کو ان کے فرائض سے اگاہ کریں اور اس نکتہ پر توجہ دیں کہ جس طرح رسول خدا نے امیر المومنین علیہ السلام کے سلسلہ میں فرمایا " اللهم وال من والاه، وعاد من عاداه، وانصر من نصره واخذل من خذله"
خدایا جو اس (علی) سے محبت کرے تو بھی اس سے محبت کر اور جو ان سے نفرت کرے تو بھی اس سے نفرت کر اور جو اس کی مدد کرے تو اس کی مدد کر اور جو اس کو چھوڑ دیں تو بھی اس کو چھوڑ دے ۔ اسی دعا کو عینا امام حسین علیہ السلام کے سلسلہ میں بھی فرمایا ۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی امام حسین علیہ السلام کا دشمن ہو اور خدا نہ کرے کوئی ان سے غافل رہے اور ان کی بے احترامی کرے ۔ ماہ محرم و صفر لوگوں کی ہدایت اور اہل بیت علیہم السلام سے دور لوگوں کو ان سے جوڑنے اور آپ کے دشمنوں کے سازشوں کو رسوا کرنے کا بہترین موقع ہے کیونکہ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو پہنچانے کے لئے راہ ہموار ہوتی ہے اگر چہ بعض لوگ اس میں حیات جاوید اختیار کرتے ہیں اور بعض دوسرے ہلاکت اور گمراہی کے راستہ پر نکل جاتے ہیں ۔
امید ہے کہ ہم سب امام حسین علیہ السلام کے ناصروں اور اہل بیت عصمت و طہارت کے محبوں اور چاہنے والوں میں شمار ہوں ۔
خدا وند عالم سے دست بدعا ہوں کو وہ آپ خادمیں اہل بیت و طلاب مکتب امام صادق علیہ السلام کو امام حسین کی حیات بخش و خدائی معارف میں خدمت کی توفیق عطا فرمائے ۔
شعار حسینی کے عظیم احیاگر مرجع جہاں تشیع حضرت آیت اللہ العظمی سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کی تقریر کے بعد حجت الاسلام زہری نے مصائب امام حسین علیہ السلام بیان کئے اور بعدہ مومنین نے سینہ زنی کی ۔